Sunday, 20 April 2014

research paper

نقش حیات: ادبی نگار خا نے میں

اے اہل ادب آؤ یہ جاگیر سنبھالو
Abrar Ijraviدوسروں کی سوانح لکھنایا دوسروں کے احوال و کوائف قلم بند کرنا بہت آسان کام ہے۔اس کے برعکس اپنی خود نوشت مرتب کرنا اور اپنی کتاب زندگی کو بے کم و کاست تحریر کے قالب میں ڈھالناپل صراط پر چلنے کے مترادف ہے۔ سوانح نگاری خارجی زندگی کی تصویر کشی ہے، تو خود نوشت نگاری باطن کے اسرار رو رموز کو کاغذ کے سینے پر کندہ کرنے کی جاں کاہی۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ خود ستائی کی بے لگام خواہش سے مجبور ہوکر اپنی خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور اپنے عیوب پریا تو ملمع سازی کرتا ہے یا دانستہ اس سے چشم پوشی کرلیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ داستان خود بقلم خود سے عبارت، خود نوشت نگاری تمام ادبی اصناف میں مشکل بھی ہے اور آسان بھی۔ مشکل اس لیے کہ اس میں حقیقت بیانی اور صدق مقالی سے کام لینے پر اپنی زندگی کی پرتوں کو اس طرح کھولنا پڑتا ہے کہ بسا اوقات دھرم سنکٹ والا معاملہ پیش آجاتا ہے۔اور یہیں نفسانی خواہشات سے مغلوب ہوکر مصنف کا قلم شکست کھاجاتا ہے۔ اور آسان اس لیے کہ اگرچہ اپنا اعمال نامہ زیادہ’ طویل‘ ہو ، اس پر ادبی لفاظی، عبارت آرائی اور خوش نما ترکیبوں کی قلعی کرتے جائیے اور اپنی خامیوں کو بھی خوبی کے لباس میں پیش کرتے جائیے۔ خود نوشت نگاری کوئی تحقیق یا تنقید کا میدان نہیں کہ اس میں مراجع اور مآخذ کی طرف جھانکنے کی نوبت آئے ۔ بس حقیقت کی بینائی کھولے رکھیے اور اپنے ظاہر و باطن کے احوال کو قلم و قرطاس کے حوالے کرتے جائیے۔تا ہم خود نوشت کے لیے اصلیت و واقعیت اور انکشاف ذات خشت بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خود نوشت کا محور چوں کہ مصنف کی شخصیت ہوتی ہے، اس لیے اس میں اپنی ذات سے محبت کا خیال بھی رکھنا پڑتا ہے اور قاری کے محاسبے کا خوف بھی دامن گیر رہتا ہے۔سوانح عمری اور خود نوشت کے تقاضوں کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر سید عبد اللہ لکھتے ہیں:’’ایک لحاظ سے آپ بیتی یا خود نوشت سوانح عمری کی صنف دوسروں کی لکھی ہوئی سوانح عمریوں کے مقابلے میں خاصی نارسا اور ناقص چیز ہوتی ہے۔ اس کے راستے میں دوبڑی رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ دوسرں کا خوف اور اپنے آپ سے محبت۔ ایک اچھا سوانح نگار، اپنے فن کی لاج رکھنے کے لیے بہت سی ایسی باتیں بھی بیان کردیتا ہے جو خود نوشت نویس کے لیے ممکن نہیں ہوتیں۔ سوانح نگار اپنے ہیرو کے کرداد کا جج بن سکتا ہے۔ اس کی کمزوریوں کا شمار کرسکتا ہے لیکن آپ بیتی میں اپنی محبت اور دوسروں کاخوف ہر وقت دامن گیر رہتا ہے۔ وہ نہ اپنے گناہوں کی صحیح فہرست پیش کرسکتا ہے، نہ اپنا صحیح جج بن سکتا ہے۔( میر امن سے عبد الحق تک،ڈاکٹر سید عبد اللہ، ص:۴۰۰چمن بک ڈپو، دہلی، ۱۹۶۵ء)خود نوشت نگاری کے بنیادی لوازم کیا ہیں، ڈاکٹر عمر رضا لکھتے ہیں:’’خود نوشت سوانح عمری کی تعمیر اگرچہ خود مصنف اپنی یاد داشت کی بنیاد پر کرتا ہے، لیکن محض یاد داشت کی بنیاد پر خود نوشت سوانح مرتب کرنا درست نہیں، بلکہ مصنف کو اپنے حالات و واقعات کی صحت مندی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اپنے متعلق کوئی بھی غلط بات یا غلط حقائق قارئین کی نذر نہ کردے۔‘‘(اردو میں سوانحی داب: فن اور روایت، ص:۲۲، کتابی دنیا نئی دہلی، ۲۰۱۱ء)ڈاکٹر سید طفیل احمد خود نوشت سوانح کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’آپ بیتی کسی انسان کی زندگی کے تجربات، مشاہدات، محسوسات و نظریات کی مربوط داستان ہوتی ہے، جو اس نے سچائی کے ساتھ بے کم و کاست قلم بند کردی ہو، جس کو پڑھ کر اس کی زندگی کے نشیب و فراز معلوم ہوں۔ اس کے نہاں خانوں کے پردے اٹھ جائیں اور ہم اس کی خارجی زندگی کی روشنی میں پرکھ سکیں۔‘‘(اردو میں سوانحی ادب، فن اور روایت، ص:۱۲۱)خود نوشت سوانح کے مدکورہ لوازمات اور فنی تعریف کے علاوہ اگر ماہرین فن کے ذریعے مرتب کردہ اس کے عناصر ترکیبی پر غور کیجیے تو یہ صنف تمام نثری اصناف میں مشکل ترین نظر آتی ہے اور اس دشت کی سیاحی کے لیے قدم قدم پر بڑی جان کاہی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ مشہور مزاح نگار مشتاق یوسفی اسی مشکل کو بیان کرتے ہوئے، اپنی مزاحیہ خود نوشت زرگزشت کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
’’آپ بیتی میں ایک مصیبت یہ ہے کہ اپنی بڑائی آپ کرے تو خود ستائی کہلائے اور از راہ کسر نفسی یا جھوٹ موٹ اپنی برائی خود کرنے بیٹھ جائے تو یہ احتمال کہ لوگ جھٹ یقین کرلیں گے۔‘‘
شورش کاشمیری بھی خود نوشت نگاری کو نقصان کا سودا ہی بتاتے ہیں، اور اس کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہیں، لکھتے ہیں:
’’لیکن چوں کہ انسان یہ سمجھ کر اپنے حالات حوالۂ قلم کرتا ہے کہ ایک دن یہ مجموعہ لوگوں کے ہاتھ میں جائے گا، اس لیے اس تصویر میں جہاں عیب ہیں وہ ان پر سیاہی پھیرتا جاتا ہے اور اس بناء پر یہ مرقع بھی اس کی سچی شبیہ نہیں ہوتی۔‘‘(قلم کے چراغ، مرتب:پروفیسر محمد اقبال، ص:۴۶۲، دارالکتاب لاہور، ۲۰۰۹ء)
لیکن مشتاق یوسفی کے احتمال وایقان یا شورش کاشمیری کے غیر معتبریت کا مسئلہ ان لوگوں کے ساتھ گمبھیر روپ اختیار کرلیتا ہے جو واقعی اپنی زندگی میں بڑے حقیقت پسند واقع ہوئے ہیں۔ ورنہ جن لوگوں کی کتاب زندگی میں حقیقت وصداقت اور اعتبار و استناد کا کوئی باب اور فصل ہی نہ ہو ان کے لیے یہ یقین یا شک کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ان کے لیے صحیح اور غلط سچ اور جھوٹ دونوں یکساں ہیں۔ اکثرخود نوشت نگار اپنی زندگی کے دروں میں جھانکتے ہوئے سچائی اور صداقت پر مبنی ان تمام اصول کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور بس بزبان حال ان کا یہی دعوی ہوتا ہے کہ میں بھی غالب کی طرح عندلیب گلشن ناآفریدہ ہوں۔
خود نوشت نگاری کے مرض میں ہمارے عہد کے قلم کار اس بری طرح مبتلا ہیں، یا شہرت طلبی کے بے لگام شوق اور سیم و زر کی بہتات نے انھیں اس مرض میں مبتلا کردیا ہے کہ کسی لائبریری کے کیٹلاگ میں جاکر خود نوشت والا حصہ کھنگالیے تو سب سے پھیلا ہوا اور وسیع و عریض یہی رقبۂ ادب ہوگا۔ہماری نومولود اردو زبان میں خاص طور سے خود نوشت نگاری کا سیلاب آیا ہوا ہے۔افسانہ نگاری اور عزل گوئی کے بعد اس بیچاری زبان کے اسی نثری حصے کوسب سے زیادہ مشق ستم بنایا جارہا ہے۔ اب تو اردو کے نام سے قائم اکیڈمیاں خود نوشت نگاری کے لیے ادیبوں اور ریٹائرڈ پروفیسرز کو خطیر رقم پر مبنی فیلوشپ بھی دینی لگی ہیں تا کہ اس سیلاب بلا خیز پر کوئی بھی بند نہ باندھ سکے۔اسی قسم کی بے سر و پا باتوں پر مبنی، اردو کی خود نوشت سوانح عمریوں کا ماتم کرتے ہوئے شورش کاشمیری نے لکھا تھا:
’’بین الاقوامی ادب سے قطع نظر اردو میں جس قدر خود نوشت سوانح عمریاں ہیں، ان میں شاعری زیادہ اور اصلیت کم ہے۔‘‘(قلم کے چراغ، ص:۴۶۲)
جملۂ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ ناچیز راقم الحروف کو خود نوشت نگاری کیا ، کسی بھی نثری یا شعری صنف سے کوئی بیر نہیں ہے، میرا یقین ہے کہ تاریخی کتابوں کی طرح یہ بھی معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ لیکن جب خود نوشت کی تعیین قدر کے معاملے میں بھی ہمارے اردو کے سماجیاتی ماہرین ڈنڈی مارنے لگیں، تو واقعی بڑا دکھ ہوتا ہے۔ خود نوشت نگاری کی صنف میں بے شمار لوگوں کا نام آتا ہے۔ سر رضا علی،جوش ملیح آبادی،رشید احمد صدیقی، عصمت چغتائی، ، آل احمد سرور، کلیم ا لدین احمد، انیس قدوائی ، ادا جعفری، شکیل الرحمن، وہاب اشرفی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس طویل فہرست میں کسی ایسے آدمی کا نام نہیں جو یونیورسٹی یا ادبی پارٹی اورسکہ بند نظریاتی ادبی گروہ سے الگ رہ کراردو زبان کی زلف پریشاں کی مشاطگی میں مصروف ہو۔آخر کیا وجہ ہے کہ اس فہرست میں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا اور شیح الاسلام مولانا حسین احمدمدنی کا نام نہیں آتا۔ بعض شدت پسند حضرات تو مولانا عبدا الماجد دریابادی کی خود نوشت کو بھی ہضم کرجاتے ہیں۔ تجدد پسند ادبا اس فہرست میں زیادہ سے زیادہ مولانا جعفر تھانیسری کا نام لیتے ہیں اور وہ بھی اس لیے کہ دستیاب تاریخی دستاویزات کے مطابق ان کی خود نوشت تواریخ عجیب(کالاپانی) کو ارود میں پہلی خود نوشت ہونے کا شرف حاصل ہے۔مصیبت یہ ہے کہ اگر کالاپانی کو پہلی خود نوشت تسلیم نہیں کیا جائے گا تواردو میں خود نوشت نگاری کی تاریخ کو اپنے آغاز کے لیے کئی سال مزید انتظار کرنا پڑے گا۔کیا یہ پلے درجے کی علمی اور ادبی بد دیانتی نہیں؟جب کہ مدارس کی چہار دیوار میں پرورش پانے والے ان بوریہ نشیں علماء کی خود نوشتوں کو پڑھیے تو وہ معلومات کا جام جہاں نما معلوم ہوتی ہیں۔ ان کی زبان میں سادگی بھی ہے اور سلاست بھی۔اختصار بھی ہے اور جامعیت بھی۔ واقعات اور قصوں میں صداقت بھی ہے اور بیانیہ کی چاشنی بھی۔ان کے مشمولات جگ بیتی بھی ہیں اور آپ بیتی بھی۔ ہاں آج کل کی سطحی رومانیت اور عشق و عاشقی کے جھوٹے اور فرضی لطیفوں سے ان کی تحریریں خالی ہوتی ہیں، معاشقہ بازی کے معاملات اور رو مانٹک قصوں سے وہ کیوں سرو کار رکھیں کہ یہ عشق مجازی کا بھی ادنی ترین درجہ ہے، لیکن ان کی تحریروں میں عشق حقیقی کے نمونے وافر مقدار میں ملتے ہیں۔اور یہی درجہ کسی بھی سچے عاشق کا منزل مقصود ہوتا ہے۔اور یہ بھی کہ خود نوشت نگاری اپنی خودی سے آشنائی کا مضبوط دریعہ ہے، جس کی وساطت سے نفس شناسی ہی نہیں، خدا شناسی کی راہ بھی آسان ہوتی ہے۔ عربی کا مقولہ ہے من عرف نفسہ فقد عرف ربہ ( جو اپنے آپ سے آشنا اور خود آگاہ ہوگیا، اس کو معرفت خداوندی حاصل ہوجائے گی۔)اور اردو شاعری کے مطابق اگر خدا کو اپنا جلوۂ جہاں آرا دیکھنا منظور نہ ہوتا تو شاید یہ دنیا بھی عدم سے وجود میں نہ آتی۔اسی لیے غالب نے کہا ہے:
دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے ، اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
شیخ العرب و العجم، اسیر مالٹا اور عظیم مجاہد آزادی مولانا حسین احمد مدنی کی خود نوشت ’نقش حیات‘کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی متعصبانہ اور جانب دارانہ معاملہ روا رکھاگیا ہے۔ ان کی خود نوشت جو آپ بیتی اور جگ بیتی دونوں کا حسین سنگم ہے، ہماری ادبی بے حسی کی وجہ سے ادبی تحقیقات کا مرکز بننے سے محروم رہی ہے۔ خود نوشت نگاری کی تاریخ اور تنقید پراردو میں حالیہ برسوں میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں بہت کم ان کی کتاب کا ذکر کیاگیا ہے اور جن ایک آدھ لوگوں نے تحقیق کے مرغے کو حلال کرنے کے لیے اپنی کتاب کے کسی کونے میں اس کادکر کیا ہے تو انھوں نے بھی ادبی معیار بندی کا خون کردیا ہے۔ ان کی خود نوشت کا قدسیہ زیدی، صبیحہ انور اور صدف فاطمہ نے دکر کیا، وہاج الدین علوی اورسید عبد اللہ نے نام لیا او ر وہیں سے ممتاز فاخرہ نے بھی اخذ کیا ، لیکن بس اس حد تک کہ نام شماری کے فرض کفایہ کی ادائیگی میں کمی نہ رہ جائے۔ڈاکٹر صدف فاطمہ کو چھوڑ کرکسی محقق یا ریسرچ اسکالرنے اس کی ، مذہبی یا تاریخی قدر و قیمت پر تفصیل سے(۵؍صفحات میں) بحث نہیں کی۔ پوری اردو دنیا کو مصنفہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انھوں نے اپنی کتاب’’اردو میں خود نوشت سوانح نگاری (۱۹۴۷ء کے بعد)‘‘ میں اس کتاب کے مضامین اور اس کی مذہبی اور تاریخی اہمیت کو بھی مرکز نظر بنایا ہے۔ڈاکٹر عبد اللہ نے جو اس سلسلے میں سرخیل کی حیثیت رکھتے ہیں بس اتنا لکھا کہ:
’’مولانا حسین احمد مدنی نے کوئی بڑا دعوی نہیں کیا۔ محاسبۂ نفس کے فرض سے پوری طرح باخبر رہنے کے باوجود اپنی سوانح عمری تدین،اخلاق آموزی اور واقعات سیاسی کی خارجی تفصیل کے مقصد سے مرتب کی ہے۔‘‘(میر امن سے عبد الحق تک، ص:۴۱۲)
اور وہاج الدین علوی صاحب نے اپنی کتاب کا ماحصل لکھتے ہوئے بس یہ دو جملے لکھے کہ:
’’نقش حیات مولانا حسین احمد مدنی کی خود نوشت ہے۔ اس خود نوشت میں مولانا نے سیاسی حالات اور علمائے دیوبند کے کارناموں کا دکر کیا ہے۔‘‘اردوخود نوشت، فن اور تجزیہ، ص:۴۱۹، شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی، ۱۹۸۹ء)
مجھے گلے شکوے نہیں کرنا ہے۔ یہ تو معزَّز کو معزِز اور مؤثِر کو مؤثَّر بولنے والے اہل ادب اور اردواکادمیوں کے ذمے داران کا محبوب مشغلہ ہے۔ مجھے تو نقش حیات کوخود نوشت نگاری کے لیے مقررہ پیمانے پر ادبی زاویۂ نظر سے دیکھنا ہے اور اس کو تقابل و تجزیے کی اس میزان پر تولنا ہے، جس پر عموما خود نوشت سوانح عمریوں کو ہمارے نقاد تولا کرتے ہیں۔آخر وہ کون سا پیمانہ ہے جس کے دریعے ادب اور غیر ادب کے مابین خط کھینچاجاتا ہے۔کیا صرف زبان و ادب اور ادبی تحریکات کی بحث پر مبنی خود نوشت ہی ادب کے زمرے میں آتی ہے؟ کیا صرف مشاعروں، ادبی مداکروں اور جام و ساغر کی محفلوں کے دکر سے پر خود نوشتوں کے سر پر ہی ادب کا تاج زرنگار کھا جاسکتا ہے؟بادۂ و ساغر کے بغیر بھی تو مشاہدۂ حق کی گفتگو ہوسکتی ہے۔کیا یہ پیمانہ عدل و انصاف سے میل کھاتا ہے، یا پھر یہ اپنی ذہنی عیاشی ہے کہ کس کو ادب کے نگار خانے میں سجانا ہے اور کس کوادب کے دائرے سے دودھ سے مکھی کی طرح باہر نکال کر پھینک دینا ہے۔ کسی معیار بندی کا یہ پیمانہ تو صحیح ہو نہیں سکتا۔ ادب تو قاری اور ادیب کے مابین کا مقدس رشتہ ہے۔ کوئی تحریر قاری کے باطن کو اپیل کرتی ہے اور اس کو کتھارسس کے مراحل سے گزارنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس کو ادب کے نگار خانے میں جگہ دی جاسکتی ہے۔ اردو زبان کے اسرارو رموز سے ناواقفیت کا الزام تو اردو کے سب سے بڑے شاعر علامہ اقبال اور ترقی پسندوں کے میر فیض احمد فیض پر بھی لگایا گیا ہے، لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ علامہ اقبال اور فیض کاکیا مقام ہے اور لاکھوں کی تعداد میں موجود دوسرے شاعراور ادیب ان کے سامنے کہاں کھڑے نظر آتے ہیں۔ مدح و ذم یاتحسین و تنقیص سے اشخاص یا فنون کی معیار بندی ممکن نہیں۔ مولانا محمد حسین آزاد کے ا ستاد ذوق کو بڑھا چڑھا کر پیش کردینے اورپہلے ایڈیشن میں مومن کو نظر انداز کردینے اور مرزا عالب کا یوں ہی سر سری ذکر کردینے کی وجہ سے ذوق ،غالب اور مومن سے بڑے نہیں ہوگئے۔ وقت سب سے بڑا منصف ہے۔مولانا محمد حسین آزاد کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے بعد کوئی عبد الرحمن بجنوری، کوئی مالک رام، کوئی احتشام حسین، کوئی شمس الرحمن فاروقی بھی پیدا ہوگا جو تعیین قدر کا ایسا پیمانہ متعین کرے گا جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔آنے والے وقت نے ثابت کردیا کہ کہاں غالب ومومن اور کہاں ذوق۔ صرف شہ کا مصاحب بن کر ادبی محفلوں کی صدارت کرنے سے کوئی بڑا نہیں ہوجاتا۔
مولانا حسین احمد مدنی نے نقش حیات کسی ادبی قلابازی یاکسی ایوارڈ کے حصول یا محض اپنے باطن کی اپیل پر نہیں لکھی تھی، جس میں خود ستائی یا نمود و نمائش کا عنصر موجود ہوبلکہ دوستوں اور بے تکلف احباب کے اصرار نے انھیں قلم اٹھانے پر مجبور کیا تھا۔جب آپ نینی جیل میں قید وبند کی زندگی گزار رہے تھے تو بعض مخلص خدام نے تیری زبان، تیری کہانی ،تیرا قلم کے استدلال کے ساتھ، یہ درخواست رکھی کہ نہ صرف اپنی داتی اور خاندانی زندگی کے نشیب و فراز کی مفصل روداد مرتب کردی جائے، بلکہ جنگ آزادی کی مختلف تحریکوں کے دوران اپنے عینی مشاہدات اور تاریخی واقعات کو بھی قلم بند کردیا جائے۔ تا کہ علم و معرفت کا یہ کشکول آنے والے مؤرخین کے لیے مشعل کا کام دے سکے۔ اور بہت سے ان واقعات سے پردہ اٹھ سکے جو کسی وجہ سے اب تک ہماری نظروں سے اوجھل ہیں اور جن کی روشنی میں ہندستان کے باشندگان اور خاص طور سے مسلمان اپنے مستقبل کی تعمیر کا نقشہ مرتب کرسکتے ہیں۔یہ کتاب کوئی یک شبینہ نہیں، بلکہ نو سالہ کدو کاوش اور ذہنی ریاضت کا نتیجہ ہے۔ ۱۹۴۴ء میں اس کا آغاز ہوا اور اس کا اختتام ۱۹۵۳ء میں ہوا۔شاہ پار ے اتنی طویل ریاضت کے بعد ہی وجود میں آتے ہیں۔ حروف کی نقش گری اتنا آسان کام نہیں اور پھر یہ بھی کہ انھوں نے دوسری مصروفیات سے بھی ہاتھ نہیں کھینچا تھا، بلکہ انھیں قال اللہ اور قال الرسول کی محفل علم و معرفت سجانے اور تصوف و سلوک کی راہ پر چلنے والے ارادت مندوں کی دست گیری کے ساتھ سیاست کی زلف پریشاں کو بھی سنوارنا تھا کہ
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا
یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے۔پہلا حصہ۴۴۸ صفحات تک ہھیلا ہوا ہے۔ شروع کے ۱۸۰ ؍صفحوں میں خاندانی اور شخصی کوائف درج ہیں۔ اس کے بعد اپنے استاد گرامی شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا مختصر تذکرہ کر کے اس وقت کی مروجہ ہندستانی سیاست کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں انگریزوں کی ظلم پیشہ طبیعت کا بیان بھی ہے اور ہندستانیوں خصوصا مسلمانوں کی مظلومیت کی دل خراش داستان بھی۔ دوسرا حصہ ۳۵۲؍ صفحات کو محیط ہے۔ جس میں اسلامی ریاستوں پر یورپی ممالک کی یورش اور استخلاص وطن کے لیے شاہ عبد العزیز، سید احمد شہید اور حضرت شیخ الہند کی انقلابی تحریکوں کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔
نقش حیات مولانا مدنی کی تعلیمی، تدریسی اور سیاسی زندگی کا بیان ہی نہیں، بلکہ ملکی اور بیرونی حالات و کوائف کا بھی حسین مرقع ہے۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی کتاب پر تعارفی کلمات میں لکھتے ہیں:
’’یہ کتاب صرف حضرت مد ظلہ العالی کی سوانح حیات ہی نہیں رہی، بلکہ ہندستان میں انگریزوں کی آمد سے لے کر ان کے اقتدار کے خاتمے تک تمام نمایاں واقعات کا مجموعہ، برطانوی حکومت کی تباہ کن ڈپلومیسیوں اور سیاسی مکر و فریب کا انسائیکلوپیڈیا، حضرت شیخ الہند کی تحریک حریت اور اس عرصے کے سیاسی رجحانات اور انقلابی تحریکات کا وہ مستند اور جامع تذکرہ ہے ، جس کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے، جو ماضی سے سبق لے کر مستقبل کی فکر کرنا چاہتا ہے۔ اور ہند یونین میں ملت اسلامیہ کی عزت و عظمت کا آرزومند ہے۔‘‘(نقش حیات، ص:۱۴)
نقش حیات کے مضامین اور اس کی زبان و بیان اور طرز ادا کیسی ہے۔ میری ناقص معلومات کے مطابق، اس پر آج تک کسی ادیب یا اردو کے ریسرچ اسکالر نے تفصیلی بحث نہیں کی۔میں مانتاہوں کہ مولانا مدنی کوئی صاحب طرز ادیب یا انشاء پرداز نہیں تھے۔ وہ شاعر تھے، نہ ’نثر نگار‘وہ تو ایک صوفی منش آدمی تھے، جن کے اعصاب پر بس ایک ہی فکر سوار رہتی تھی اور وہ تھی ملک و قوم کی انگریزوں کے چنگل سے آزادی۔ ایسی صورت میں لفظوں کی مینا کاری کے ذریعے، کوئی اپنی زبان دانی کا کیسے ثبوت دے سکتا تھا۔مصلح قوم سر سید بھی بس قلم برداشتہ لکھا کرتے تھے، نہ کوئی اہتمام اور نہ التزام، نہ تکلف اور نہ تصنع، ان کے ہاں آمد ہی آمد تھی، آورد کا کوئی دخل نہ تھا ، قوم مسلم کو جگانے کے لیے وہ ادبی ملمع سازی سے کوئی سروکار نہیں رکھتے تھے۔ ان کا زور بس ادائے مطلب اور مدعا نگاری پر تھا۔ مولانا مدنی نے بھی انھی نکات پر اپنی خود نوشت یا دوسری تحریریں سپرد قلم کی ہیں۔مولانا مدنی کی حالت تو حالی کے الفاظ میں اس شخص کی سی تھی جس کے گھر میں آگ لگی ہو اور وہ پاس پڑوس کے لوگوں کو مدد کے لیے پکارے، ایسی صورت میں اس کے پاس عبارت آرائی اور لفاظی کے لیے گنجائش کہاں نکلے گی۔ وہ تو بس ادائے مطلب اور مدعا نگاری پر زور دے گا۔
لیکن حقیقت کی نظروں سے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ مولانا نے اس عجلت اور مدعا نگاری میں بھی زبان و بیان کی حد بندیوں کا خیال رکھا ہے۔ ان کی تحریر کو پرھتے ہوئے خشکی اور حد سے زیادہ سنجیدگی کا احساس تو ہوتا ہے کہ انھوں نے ٹھوس علمی اور تحقیقی زبان لکھی ہے اور انھوں نے آپ بیتی سے زیادہ جگ بیتی کا خیال رکھا ہے اور پاپ بیتی کی طرف تو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔کیوں کہ ایجاد معانی تو خداداد ہوتی ہے۔ اس کے لیے جوش ملیح آبادی کی طرح فرصی عشقیہ داستانوں کا پیوند لگانے کی ضرورت نہیں۔ مولانا حقیقت و صداقت کا تھامے رہنے کے باوجود زبان و بیان کی حد بندیوں کا پورا خیال رکھتے تھے۔
مجھے ذیل کی سطروں میں نقش حیات کے مضامین اور اس کی تاریخی یا سیاسی حیثیت سے بحث نہیں کرنی ہے کہ اگرادبی معیاربندی کا یہ اصول قرار پاجائے تو پھر ہمیں بہت سے ادبی مسلمات اور تاریخی حقیقتوں پر خط تنسیخ کھنچنا پڑے گا۔ واقعات اور مواد اور تاریخ نگاری کے حوالے سے کسی دوسری خود نوشت تحریر سے نقش حیات کا کوئی علاقہ نہیں۔ شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور۔مجھے صرف زبان و بیان اور خود نوشت کے نام نہاد اصول کی عینک سے اس کو دیکھنا ہے اور شکستہ آڑی ترچھی لکیروں کے ذریعے نقش حیات کی وہ تصویر ابھارنی ہے جو ہمارے ذہنی اور ادبی جمود پر ہلکی سی ضرب لگا سکے۔
جو کچھ لکھا جائے بے تکلف اور قلم برداشتہ لکھا جائے۔ یہی طرز تحریر نثر میں محبوب اور مروج ہے۔ نہ جانے کیوں مولانا حالی نے شاعری میں ستر کنویں جھانک کر الفاظ کے تفحص کی ستائش کی ہے۔ خیر شاعری میں تو یہ قدم محبوب اور قابل تقلید ہو سکتا ہے، لیکن نثر خاص طور سے خود نوشت میں تو یہ طرز تحریر کسی بھی طرح مناسب نہیں ہوسکتا۔مولانا مدنی کے موئے قلم سے ایسے بے تکلف اور پر معنی جملے ادا ہوئے ہیں جن پر مقفی اور مسجع تحریروں کا انبوہ قربان کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے طویل جملے نہیں لکھے ہیں کہ اس قسم کے جملوں سے جو دارز نفسی پیدا ہوتی ہے، قاری اس کی مشقت کا بار اٹھانے کے قابل نہیں رہتا اور وہ اکتاہٹ کی گرفت میں کتاب کو ایک طرف ڈالنے پر اپنے کو مجبور پاتا ہے۔ نقش حیات میں اکثر یک سطری جملے استعمال کیے گئے ہیں۔ اور بہت سے تفریعی جملوں کا اختتام ایک ہی حرف پر ہونے کی وجہ سے موسیقیت کی چاشنی بھی پیدا ہوتی ہے۔جملے اتنے چھوٹے اور پر زور ہیں کہ ان میں ڈرامائی مکالموں کی شان پیدا ہوگئی ہے۔مولانانے حسب و نسب سے جنم لینے والے امتیازات کو ایک غیر اسلامی تصور قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
’’اور روح نکلنے کے بعد تو جسم انسانی خواہ شریف کا ہو یا رذیل کا، بادشاہ کا ہو یا فقیر کا، قوی کا ہو یا ضعیف کاجس حالت پر پہنچ جاتا ہے سب کو معلوم ہے۔ جماد محض ہوکر پھولتا پھٹتا ہے، سڑتا گلتا ہے، کیڑے پڑتے ہیں، بدبو سخت پیدا ہوتی ہے، پیپ اور لہو بہتا ہے اور زمین میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ یہاں نہ شرافت نسبی کچھ فرق کرتی ہے ، نہ دولت و ثروت، نہ حکومت و قوت‘‘(ص:۳۲۔۳۳)
مولانا حسین احمد مدنی کو شاعری سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔ لیکن پھر بھی فارسی اور عربی کے بہت سے اشعار انھیں ازبر تھے، جن سے وہ اپنی تحریروں میں موقع بموقع استدلال کرتے ہیں۔ ان اشعار کی تعداد غبار خاطر کی طرح اتنی تو نہیں ہے کہ اس کے لیے محققین الگ سے اشاریہ ترتیب دیں لیکن فارسی کے جتنے اشعار کے بھی ان کے قلم سے نکلے ہیں وہ بے وقت کی راگنی معلوم نہیں ہوتے، ان اشعار کا مفہوم مضمون اور مخاطب کے حسب حال ہے۔ ایک جگہ اپنے اوپر اور اپنے خاندان پر خدائی انعامات و اکرامات پر شکریہ سے قاصر رہنے پر استدلال کرتے ہوئے فارسی کے یہ اشعارلکھتے ہیں:
اگر بروید از ہر مو زبانم
ادادئے شکر لطفش کے توانم
من آں خاکم کہ ابر نوبہاری
کند از لطف بر من قطرہ بازی
برطانوی سامراج نے جس طرح مکر و فریب سے کام لے کراپنے ارد گرد بد اطواروں، بد قماشوں اور جرائم پیشہ افراد کا گروہ اکٹھا کرلیا تھا اس پر طنز کرتے ہوئے یہ شعر رقم کرتے ہیں:
کند جنس باہم جنس پرواز
کبوتر باکبوتر باز باباز
مولانا اردو کے قدیم دواوین پر بھی نظر رکھتے تھے اساتذہ کے سینکڑوں اشعار ان کے حافظے میں موجود تھے۔ فارسی کی طرح ہی کہیں کہیں اردو کے اشعار سے بھی انھوں اپنی بات کو مزین کیا ہے۔ اپنے والد کے حب نبوی اور مدینہ منورہ سے عشق و محبت کو ان اشعار کی آنچ دی ہے کہ:
مریض عشق پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
علمائے اہل سنت اور علمائے دیوبند کے سر پر جس طرح حسام الحرمین میں بے سروپا الزامات کا ٹھیکر ا پھوڑنے کی کوشش کی گئی تھی، اس کا دنداں شکن جواب دیتے ہوئے یہ شعر لکھا کہ
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
جب اپنے استاد اور روحانی پیشوا حضرت شیخ الہند کی تجہیز و تکفین میں شرکت سے محروم رہ گئے تو اپنی حسرت کا اظہار اس شعر سے کیا کہ
قسمت کی بد نصیبی کو صیاد کیا کرے
سر پر گرے پہاڑ تو فرہاد کیا کرے
تشبیہات و استعارات کے مرقعے بھی تحریروں کا حسن دوبالا کرتے ہیں۔ کسی روکھی پھیکی تحریر میں بھی تشبیہ اور استعارے کی پیوند کاری سے ان کے تن مردہ میں جان آجاتی ہے۔ لیکن وہی تشبیہ اور استعارہ چمن تحریر کی حنا بندی کرسکتا ہے جس میں بر جستگی اور شفگتگی ہو۔ بہ تکلف ڈھونڈ ی جانے والی تشبیہیں کہاں کی اینٹ، کہاں کا روڑا ثابت ہوتی ہیں۔ مولانا حسین احمد مدنی نے بھی اپنی تحریر کی جڑوں میں تشبیہ کا آب حیات دیا ہے۔ اور یقین کرنا پڑتا ہے کہ تمام تر علمی اور سیاسی مصروفیت کے باوجود وہ اس ہنر سے عاری یا غافل نہیں تھے۔ جب مولانا اور ان کے گھر کے دوسرے افراد نے مل کر ان کے والد محترم کو مدینہ منورہ کو اپنا مسکن بنالینے کی ترغیب دی، تو اس مطالبے کو اس طرح تشبیہ دی ہے:
’’یہ کلمات ایسے مؤثر واقع ہوئے جیسے کہ اسپرٹ میں دیا سلائی ہوتی ہے۔‘‘(ص:۴۷)
اسی طرح جب مولانا کی اہلیہ کے ماموں نے مولانا کے والد محترم سے اپنی یہ خواہش ظاہرکی کہ میں اس کو لکھنؤ میں رکھ کر طب پڑھاؤں گاتو والد کے انکار اور دینی اور عصری تعلیم کے مابین فرق کو کتنی خوب صورت تشبیہ دی ہے:
’’والد صاحب نے جواب دیا کہ کیا حسین احمد مدنی کو گھوڑے پر سوار کرنے کے بعد میں گدھے پر سوار کروں گا۔ (ص:۴۸)
اسی طرح ہندستان کی دولت و ثروت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’۱۷۷۲ء میں صرافوں کی دکانوں پر شہروں میں اشرفیوں اور روپیوں کے ڈھیر ایسے لگے ہوئے تھے جیسے منڈیوں میں اناج کے ڈھیر ہوتے ہیں۔‘‘(ص:۲۳۰)
مولانا نے کسی بھی چیز کا ذکر کرتے وقت اس کی تمام جزئیات اور مالہ و ماعلیہ کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ مدینہ منورہ میں پانی لانے کے لیے سقے متعین ہوتے تھے، جو نہر زرقاء سے پانی لانے کا کام کرتے تھے۔ نہر زرقاء کا دکر کرتے ہوئے مولانا نے اس کے جائے وقوع، اس کے اجمالی پس منظرکے عنوان سے دو صفحے کا طویل مصمون لکھا ہے، جس میں اس کے ابتدائی عہد سے لے کر اس کی موجودہ حیثیت تک کا تفصیل سے ذکر کیا گیاہے۔ اس حصے کو پڑھتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد کے چڑیا چڑے اور چائے والے خطوط کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جس میں انھوں نے اپنی انشاء پردازی کا ثبوت دیا ہے۔مولانا نے اس نہر کے کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے۔ ایک جگہ ہندستان کی خوبیوں اور اس کی مابہ الامتیاز حصوصیات کا شمار کرتے ہوئے کچھ یوں لکھا ہے:
’’اس زمانے میں عام طور سے ہندستانیوں میں مہمان نوازی، انسانی ہمدردی، غرباء اور مصیبت زدوں پر شفقت اور رحم، عہد و پیمان کا تحفظ اور پابندی، خدا ترسی اور سچائی، امانت داری اور سخاوت، وفا داری اور صداقت، دیانت داری اور عدالت، بلند حوصلگی اور شرافت، بیدار مغزی اور جفا کشی، چستی اور بیداری، شجاعت اور مردانگی وغیرہ اوصاف جمیلہ بڑے پیمانے پر پائے جاتے تھے۔‘‘(ص:۱۹۴)
الفاظ کی تکرار سے غنائیت پیدا ہوتی ہے۔ قدیم شعراء کے دواوین لفظوں کی تکرار والی صنعت سے لبریز ہیں۔ مولانا بھی اس ہنر سے عاری نہیں ہیں۔ شاہان ہند کی رواداری اور ان کے مساویانہ او ر عدل پرور نظام حکومت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہی نہیں، بلکہ اپنی بے مثل ثروت، بے مثل تجارت، بے مثل دست کاری، بے مثل تمدن اور بے مثل طاقت کی بنیاد پر اقوام عالم میں برتری اور سب سے فوقیت کا درجہ رکھتے تھے۔‘‘(ص:۱۸۵۔۸۶)
اسی طرح ایک ہی وزن کے متضاد الفاظ کے ذریعے بھی غنائیت اور موسیقیت پیدا ہوتی ہے۔ تنافس و تنافر، اعمال و اخلاق، ذکر و فکر، خلافت اور اجازت، معماروں اور مزدوروں، اخلاق عالیہ اور اعمال صالحہ، سلام و پیام وغیرہ مرکبات مختلف مواقع پر قاری کی موسیقیت پسندی کے ذوق کی تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں۔
صنعت تضاد سے بھی تحریر میں تنوع پیدا ہوتا ہے۔ اس سے جہاں قاری کی ذہنی ورزش ہوتی ہے وہیں وہ دو مختلف تصورات سے بھی آگا ہ ہوتا ہے۔ اس سے اشیاء کے حسن و قبح کا پہلو بھی نکھر کر سامنے آتا ہے۔ عربی کا مقولہ ہے۔ الاشیاء تتبین باضدادہا۔مولانا گرچہ شاعر نہ تھے، مگر اس ادبی خصوصیت سے نا واقف نہ تھے۔لکھتے ہیں:
’’رحمت اور انعام خداوندی کی بے نیازی اور وسعت اس قدر بڑھی ہوئی ہے کہ دم کی دم میں ذرہ کو پہاڑ اور قطرے کو سمندر بنادے تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔عامی مسلمان کو قطب الاقطاب بنادے۔ جاہل کو عالم اور دیوانہ کو افلاطون کردے تو کچھ مستبعد نہیں۔‘‘(ص:۳۳)
مولانا کی نظراردو کے محاوروں، ضرب الامثال اور روزمرہ پر بھی بڑی گہری تھی۔ دیکھیے نقش حیات میں استعمال ہونے والے چند محاوروں، ضرب الامثال اور روزمروں کی جھلک۔مجھ پر نزلہ زیادہ گرتا تھا، وہ ہمیشہ کاٹ کرتے تھے، میری اولاد پھلے پھولے گی، خاندان کے بڑھنے کی امیدیں خاک میں مل گئیں، کس کے پلے پڑجائیں، اپنا الو سیدھا کرنا، مگر خدا جانے اس بے شمار دولت اور بے نظیر سرمایہ کو زمین کھاگئی یا آسمان اچک لے گیا،فورٹ ولیم میں سونے کا مینہ برسنے لگا، ایڑی چوٹی تک زور لگادیا، کامیابی کے ڈنکے بھی بجائے، تنگ آمدبجنگ آمد، پانی سر سے اوپر گزر چکا تھا وغیرہ۔
مولانا کی تعلیم عربی اور فارسی میں ہوئی اور مسجد نبوی میں تعلیم و تدریس کے طویل تجربے نے انھیں عربی کا مرد میدا ن بنادیا تھا، اسی لیے ان کی تحریروں پر عربی اور فارسی کا گہرا نقش ملتا ہے، لیکن مولانا بلاغت کے اصول سے نا واقف نہیں تھے۔ وہ خود نوشت اردو میں لکھ رہے تھے اور انھیں اپنے مخاطب کی علمی قابلیت اور ذہنی رسائی کا بھی خوب اندازہ تھا۔ اسی احساس کا نتیجہ ہے کہ انھوں نے مقامی زبان کے عام فہم ہندی الفاظ کو بھی جملوں میں برتا ہے، جس کی وکالت مولانا سید سلیمان ندوی بھی کیا کرتے تھے۔نقش حیات میں چھپ لک کر، اپر تلی، ٹٹپونجیوں، استری اور کلف، ہنڈی، ٹاٹ، ڈنٹھڑ، ڈھلوان، ڈھارس، گارا ڈھونا، اینٹیں پاتھنا وغیرہ خالص مقامی الفاظ ملتے ہیں۔
آج سے پچاس ساٹھ سال قبل اختصاو و ایجاز کو تحریر کی معراج تصور کیا جاتا تھا۔ مولانا نے اس عام روش کو اس طرح تو نہیں اپنایا کہ اختصار کے گرداب میں اس طرح الجھ جائیں کہ تحریر ایک معمہ بن جائے، بلکہ انھوں نے اپنے مخاطب اور مضمون کا لحاظ کرتے ہوئے اختصار و ایجاز سے کام لیا ہے۔ جملے نہ مختصر ہیں اور نہ طویل۔ان کی تحریروں میں نہ ایجاز مخل ہے اور نہ اکتادینے والی طوالت۔ بلکہ درمیانی راہ اختیار کی ہے۔ محشر اعظمی نے مولانا کی قلمی خصوصیات کو شمار کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’آپ کا قلم بس وہیں تک چلتا ہے جتنا اسے چلنا چاہیے۔ نہ اتنی تفصیلات اور جزئیات ہوتی ہیں کہ پڑھتے پڑھتے قاری اکتا جائے اور نہ اتنا اختصار کہ مطلب ہی خبط ہوجائے۔ جس بات کی تفصیل صروری ہوتی ہے اسے پھیلا کر لکھتے ہیں اور جس بات میں اختصار ہونا چاہیے اسے مختصر ہی لکھتے ہیں‘‘(روزنامہ الجمعےۃ، شیخ الاسلام نمبر، ص:۱۷۳)
نقش حیات میں ا ختصار و جامعیت سے عبارت اس طرز تحریر کا انھوں نے بھرپور لحاظ رکھا ہے۔ چناں چہ اپنے ذاتی احوال تو اختصار کے ساتھ قلم بند کیے ہیں، لیکن دوسرے حصے میں قومی اور بین الاقوامی حالات پر تفصیل اور طویل حوالوں کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔
خلاصہ یہ کہ نقش حیات میں معانی کا دریا بھی رواں ہے اور زبان و بیان کی نہر بھی بہ رہی ہے۔ یہ صرف معلومات کا خزینہ ہی نہیں، ادبی لطافت کا مرقع بھی ہے۔ نثر کے لیے سادگی، سلاست، اختصار وجامعیت، قطعیت، صراحت اور وضاحت کی جتنی شرطیں درکار ہیں، ان پر نقش حیات سو فی صد نہیں تو ننانوے فی صد ضرور اترتی ہے۔ مشکل سے مشکل مضمون کو انھوں نے آسان جملوں میں قلم و قرطاس کے حوالے کردیا ہے۔ جو زبان و بیان پر ان کی مہارت کی دلیل ہے۔ انگریزوں کے دجل و فریب اور ان کی ظالمانہ پالیسیوں کے حوالے سے کوئی بات بے دلیل نہیں ہے۔ انگریزی اور اردو کے سینکڑوں حوالے قاری کو ایقان کی منزل تک پہنچاتے ہیں۔ہر بات قاری کو یقین وعمل اور محبت و معرفت کی لذت سے شرسار کرتی ہے۔ اور دل پر اپنا اثر مرتب کرتی ہے۔ یادوں کی بارات کی طرح خالی خولی بے لطف الفاظ کا مجموعہ نہیں، نہ عشق و عاشقی کے فرضی واقعات سے آلودہ ہے، لیکن پھر بھی خدا معلوم کیوں ہمارے ناقدین اورخود نوشت نگاری پر ریسرچ کرنے والوں نے اس پر مطلوبہ توجہ نہیں دی ہے۔ نا مکمل خود نوشتوں پر بحث کی گئی ہے، مگر ایک مکمل خود نوشت کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔نقش حیات صرف اپنے مصامین و مشمولات کے اعتبار سے ہی نہیں، زبان و بیان کے اعتبار سے بھی تحقیق کا موضوع بن سکتی ہے۔ نقش حیات کوئی ناول اور افسانہ تو نہیں لیکن تاریخی و سیاسی حقائق کا نگار خانہ ضرور ہے۔اس میں نام نہاد فنی جمالیات تو نہیں، لیکن خود نوشت کی دوسری صفات خود اظہاریت اور تاریخی صداقت کا سنگم ضرور ہے۔یہ قلب میں سوز اور روح میں احساس کے ساتھ تحریر کی گئی ہے، ایسا قلب جو لا الہ کی صدائے الوہی سے سرشار تھا۔اور ایسے صاحب دل بزرگ کے قلم کا نتیجہ ہے جو شب زندہ دار ہونے کے ساتھ رسم شاہبازی ادا کرنے کے لیے میدان جنگ میں بھی شہ سواری کا فرض انجام دیتا تھا۔یہ ایسے مرد مجاہد کی داستا ن حیات ہے جس کے رگ و پے میں مستی کردار کا لہو گردش کرتا تھا۔یہ ایسے شخص کی روداد زندگی ہے جو قوم کی حالت اور قوم کی امامت دونوں ہنر سے آشنا تھا۔ ا س کی زندگانی صداقت، عدالت اور شجاعت کے خمیر سے تیار ہوئی تھی۔ اس کے اندر کسی قسم کی تعلی یا نفس پروری نہیں تھی اور حالی نے جوخود نوشت کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ اس میں تعلی اور خود ستائی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور خودد نوشت تمام کاموں سے سبک دوشی حاصل کرنے کے بعد لکھی جائے، ان دونوں شرطوں پر یہ خود نوشت مکمل اترتی ہے۔ اسی لیے ضرورت ہے کہ ہماری ادبی حس بیدار ہو اور ساٹھ سال بعد ہی سہی اس کی ادبی قدر و قیمت کا جائزہ ضرور لیا جائے،کیوں کہ یہ محض کتاب ہی نہیں، علم و معانی کا بحر بے کراں ہے، جس سے ہر دور میں مستقبل کی تعمیر کا نقشہ مرتب کیا جاسکتا ہے۔ دور حاضر کے مشہور تخلیقی ناقد حقانی القاسمی نے اسی شکوہ کا اظہار کیا ہے، لکھتے ہیں:
’’ادبی اور علمی دونوں اعتبار سے اس(نقش حیات) کا شمار اہم خود نوشتوں میں ہوتا ہے۔ گوکہ تنگ نظر ناقدین اس کے دکر سے اعراض کرتے ہیں، مگر حقیقت میں دیکھا جائے تو خود نوشت کے فنی تقاضوں پر یہ کتاب پوری اترتی ہے۔ جس میں مولانا موصوف نے نہ صرف اس عہد کو زندہ کردیا ہے، بلکہ اس عہد کی پوری سیاسی اور سماجی تاریخ بھی اس کتاب میں سماگئی ہے۔ اس لحاظ سے نقش حیات ایک مقصدی خود نوشت ہے نہ نرگسیت کی شکارخود ستائی یا خود بینی کی مظہر‘‘(دارالعلوم دیوبند، ادبی شناخت نامہ، ص:۷۰)
نقش حیات تو ہمارا مشترکہ علمی، تاریخی اور ادبی سرمایہ اور مشرقی اقدار حیات کا خزانہ ہے۔ یہ اہل علم و ادب کی وہ متاع فراموش کردہ ہے، جس کی تحقیقی بازیافت اور اس کی تعیین قدر کرکے ہم اپنے مستقبل کی تعمیر و ترقی کا نقشہ تیار کرسکتے ہیں۔ ارود کے ریسرچ اسکالرز کو عموما اور سوانحی ادب پر کام کرنے والوں کو عموما اس کی علمی اور ادبی بازیافت کے لیے اس مصرع کے ساتھ آواز دی جاسکتی ہے کہ
اے اہل ادب آؤ یہ جاگیر سنبھالو
(بصیرت فیچرسروس)
***
ابرا ر احمد اجراوی
روم نمبر۲۱؍لوہت ہاسٹل
جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، نئی دہلی
موبائل:9910509702

picture


Sunday, 19 January 2014

عوامی ترسیل کی زبان:حدود اور تقاضے

عوامی ترسیل کی زبان:حدود اور تقاضے

خیالات وتجربات، جذبات وتصورات، عقائد ونظریات، علوم وفنون، تفریحی مواد اور معلومات کی مصدقہ اشاعت کا نام ترسیل ہے۔ سامعین کی تعداد اور ترسیلی ہدف کے رقبے کے اعتبار سے ترسیل کی کئی قسمیں کی گئی ہیں، لیکن اس میں شہہ رگ کی حیثیت عوامی ترسیل کوہی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ماس میڈیا یا ذرائع ابلاغ کا نام لبوں پر آتا ہے، تو انسانی ذہن بلا ساختہ عوامی ترسیل کی طرف جست لگاتا ہے۔ ترسیل کے چھ اجزائے ترکیبی میں مرسل(سورس)، چینل، پیغام، اور مرسل الیہ (ریسیور) کو سنگ بنیاد کے درجے میں رکھا جاتا ہے ، کیوں کہ ان کے بغیر ترسیل کا عمل اپنی مکمل اور مؤثرصورت میں امکان کے دائرے سے باہر نکل جاتا ہے۔ ان ترسیلی اجزاء میں زبان کا ذکر کہیں نہیں ہے، لیکن الاہم فالاہم کے اصول کی روشنی میں زبان کو ہمیں لا محالہ اولیت دینی پڑے گی،کیوں کہ زبان کے بغیر مروجہ ترسیلی نظام کی تکمیل دیوانے کا خواب بن کر رہ جائے گا۔ اشارات و کنایات، حرکات وسکنات، چہرے بشرے اور لمس وشعور بھی ترسیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں، مگر صرف چند مواقع پر۔ نہ صرف عوامی ترسیل، بلکہ تمام ادبی اصناف میں مکالمہ اور زبان کو نمایاں مقام دیا جاتا ہے۔
عوامی ترسیل کے عمل میں زبان کا معیار نہ صرف سامع وناظر کی تعلیمی صلاحیت، تہذیبی حدوداور عقائدی پابندیوں کو نظر میں رکھ کر کیا جاتا ہے، بلکہ ان کی عمر، ان کی جنس اور ان کے مخصوص مکتب فکرکو بھی محوری حیثیت دی جاتی ہے۔ کیوں کہ ترسیلی عمل میں صرف بات کہہ دینا ہی کافی نہیں، بات کا پہنچنا بھی ضروری ہے۔ بقول انجم عثمانی:
’’ جہاں بات دوسروں تک منتقل نہ ہونے پائے، وہاں ترسیل نہیں ہوگی۔ گویا ترسیل کے لیے مرسل الیہ بھی ضروری ہے۔اس طرح ترسیل ایک مشترک عمل ہے۔ ‘‘(ٹیلی ویژن نشریات، ص:۱۸)
وہ دن لد گئے جب ترسیل کی دنیا میں اخبارات کا ہی سکہ چلتا تھا اور مطبوعہ صحافت بلا شرکت غیرے منصب ابلاغ پر فائز تھی۔ جب خبروں کی کثرت، معلومات کے تنوع، عقائد ونظریات کی رنگا رنگی نے یہ شکایت کی کہ’ کچھ اور چاہیے وسعت میرے بیاں کے لیے ‘ تو ذرائع ابلاغ نے بھی اپنی قلمرو کی توسیع کرلی۔ پہلے تن تنہا اخبارات ہی ہماری ذہنی ، علمی اور ادبی ذوق کی تکمیل کا ذریعہ تھے، لیکن عہد حاضر کا جلوہ دیکھیے کہ اب ذرائع ابلاغ کے تخت حکومت پر اخبارات سے کہیں زیادہ برقی مواصلات: ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، موبائل اور سائبر اسپیس کا قبضہ ہے۔ ایک وقت تھا کہ ہم کسی خبر سے واقفیت کے لیے نوشت وخواند کی مطلوبہ صلاحیت کے ساتھ مشروط تھے، کیوں کہ ترسیلی ذرائع : اخبارات اور پمفلٹ ملفوظی نظام کے تابع تھے۔ اطلاعاتی انقلاب نے وہ کرشمہ دکھایا کہ اب ہم حرف شناسی کے بغیر دنیا کے اندر رونما ہونے والے واقعات، پاس پڑوس کی خبروں اور دوسروں کے خیالات سے واقف ہو سکتے ہیں اور اس پر اپنا رد عمل بھی ظاہر کر سکتے ہیں۔ سفر وحضر، بس، کار، ریل گاڑی اور ہوائی جہاز میں یہاں تک کہ اپنے ڈراٹنگ روم میں بھی وسیع وعریض کائنات کا رنگا رنگ نظارہ کر سکتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ نے نت نئی ترقیوں کے بل پر بہت سی پابندیوں اور پیچیدگیوں سے آزادی حاصل کرلی ہے، لیکن زبان ترسیل کا ایک ایسا عنصر ہے جس سے وہ کبھی آزاد نہیں رہ سکتے ۔ جس عہد میںمنہ سے نکلنے والے الفاظ نے تحریر کا منقش جامہ زیب تن نہیں کیا تھا، غیر لفظی ترسیل ممکن العمل تھا۔ اب بھی اشاروں اور کنایوں، جسم کے اتار چڑھاؤ سے ترسیل ممکن ہے، لیکن با معنی، مؤثر اور ہر کس وناکس کی قوت متخیلہ سے ہم آہنگ ترسیل کے لیے زبان کو محوری حیثیت حاصل ہے۔
زبان میں بڑی رنگا رنگی ہے۔ اظہار خیال کے مختلف پیرایے ہیں۔ زبان کے سلسلے میںملک، علاقے اور خطے کیا، ہر دس قدم پر دوسرے تقاضے دامن گیر ہوتے ہیں۔ اور عوامی ترسیل کی زبان تو دوسرے شعبئہ حیات کی زبان سے یکسر جدا ہوتی ہے۔ کسی بھی زبان کے ادب میں اتنا تنوع ہوتا ہے کہ اس پر دسترس کی باگ ڈور جلدی قبضے میں نہیں آتی۔ اردو ادب کو ہی دیکھ لیجیے غزل کی زبان، دوسری اصناف ادب کو منھ چڑاتی ہے۔ افسانے اور ناول کی زبان کے دوسرے تقاضے ہیں اور ڈرامہ زبان کی کسی اور دنیا میں پرواز بھرتا ہے۔ قصیدے، مرثیے میں تو ادیب وقلم کار کو آزدای ہوتی ہے کہ وہ اپنے قلم، تخیل کی بلند سطح اور تخلیقی صلاحیتوںکا جوہر دکھائے، کیوں کہ وہ دربار اور شاہ وقت کی فرمائش پر خواص کے لیے لکھا جاتا ہے، لیکن جب عوامی اسٹیج کے لیے ڈرامہ یا کوئی پاپولر لٹریچر لکھا جائے تو وہاں قلم کو بڑا سنبھل کر کاغذ کے سینے پر چلانا پڑتا ہے ۔ یہ عوام کے لیے لکھا جاتا ہے جس کے لیے سادہ اور سہل عوامی زبان کا انتخاب ناگزیرہوجاتا ہے۔ سائنسی مضامین اور تکنیکی اصلاحات کی تعلیم کے لیے زبان کے نتخاب کا الگ الگ تقاضا ہے، علمی اور تحقیقی مباحث اپنا الگ مزاج رکھتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی زبان بھی اپنی نزاکتوں، لطافتوں کا پاس ولحاظ کرنے کے بعد ہی مؤثر ترسیل کا حصہ بن سکتی ہے۔ یہاں نہ خالص دلی کی آراستہ پیراستہ بیگماتی زبان کا سکہ چل سکتا ہے، نہ فسانئہ عجائب کی مسجع اور مقفی داستان اور نہ پریم چند کے ہوری اور گوبر کی مخصوص دیہاتی اور غیر معیاری زبان۔ عوامی ترسیل کی مملکت میں باغ وبہار جیسی سادہ اور شگفتہ بولی ٹھولی ہی حکمرانی کا فرض ادا کرسکتی ہے۔ ایک اچھے مواصلات کار کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مطلوبہ قارئین کی ذہنی سطح ، ان کے مذاق، ان کی علمی استعداد کا خیال رکھے، بلکہ ان کے عقائد اور ان کے انفرادی رجحانات کا بھی خاصا مطالعہ رکھے۔ پیچیدہ پیغام سامعین کے لیے درد سر ثابت ہوتا ہے ۔ کسی پیغام کو سمجھنے میں اگر سامعین کو ذہنی مشقت کا بار اٹھانا پڑے تو وہ ترسیل بے اثر شمار ہو گی۔ زبان کے بے ڈھنگے پن، اس کے ابہام اور پیچیدگی سے ہی پیغام میں الجھاؤ اور پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے زبان کے استعمال کے وقت دماغ کے سارے دریچوں کو کھولے رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے۔
عوامی ترسیل کی زبان کا کوئی بندھا ٹکا اصول نہیں ہے کہ اس کی روشنی میں سورسِ((Source اپنا پیغام آسانی سے مرتب کرلے ۔ ترسیلی زبان کے مطالبات زمانے کی نیرنگیوں کے ساتھ ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ ترسیل کی دنیا میں وہی صحافی زندہ رہ سکتا ہے جو زمانے کی نبض شناسی کے ساتھ قارئین کے مطالبات اور ان کے مزاج ومذاق کے اعتبار سے اپنی صحافتی ذمے داریوں میں تبدیلی لاتا رہے۔ اگر اس نے ایک بندھے ٹکے اصول کے حصارمیں اپنی صحافتی شخصیت کو مقید کر لیا تو وہ اس پیشے کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔ ایک لفظ جملہ ایک اوسط درجے کے قاری کے لیے مفید مطلب ہوسکتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہی لفظ اور جملہ دوسرے شخص کے لیے بھی اتنا ہی مفید اور کامیاب ترسیلی ذریعہ ثابت ہو۔ زبان کا مقصد اپنے خیالات سے دوسرو ں کو متأثر کرنا اور متعلقہ کیفیت کو دوسروں تک پہنچانا ہے، بقول پروفیسر شاہد حسین:
’’زبان کا بنیادی مقصد کسی اطلاع،مفہوم، خیال، تجربے، واقعات، کیفیت یا صورت حال کی پڑھنے یا سننے والوں تک ترسیل کرنا ہے۔ اگر کسی تحریر یا تقریر میں ایسی زبان استعمال کردی جائے جو اس کے قاری یا سامع کی سمجھ میں نہ آئے، تو وہ تحریر یا تقریر بے مقصد ہوجاتی ہے۔‘‘( ابلاغیات ، ص:۱۴۳)
ترسیل کی زبان نہ صرف اپنے قاری کے مزاج اور مذاق کے مطابق تغیرپذیر رہتی ہے، بلکہ ترسیل کے متنوع ذرائع کی بساط پر بھی وہ اپنا جوہر اسی وقت دکھاتی ہے جب اس ذریعہ ترسیل کی رعایت کی گئی ہو۔ اخبارات کی زبان الگ ہوتی ہے ، ریڈیو کی زبان اپنے مطالبات کی دنیا کہیں اور بساتی ہے اور ٹیلی ویژن کی آمد نے تصویری صحافت کو اتنا مقبول بنادیا ہے کہ اس کی نیرنگیوں کے حساب سے ہی زبان اور مکالمہ تیار کرنا پڑتا ہے۔ اخبارات کی زبان کا سادہ، غیر مبہم اور مشکل الفاظ سے مبرا ہونا ضروری ہے، ورنہ خیالات کی ترسیل کا عمل ادھورار ہ جائے گا۔ چودھری رحم علی ہاشمی نے بجا لکھا ہے:
’’نہ صرف خبروں، بلکہ پورے اخبار کی زبان سادہ، بے تکلف، زوردار اور دل نشیں ہونی چاہیے۔‘‘(فن صحافت، ص:۴۲)
رحم علی ہاشمی نے اخبارات اور مطبوعہ صحافت کے چوکھٹے میں یہ بات کہی ہے، لیکن کیا انھی اصولوں کا نفاذ ترسیل کے دیگر ذرائع پر نہیں ہوسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تھوڑے فرق کے ساتھ یہی باتیں دوسرے ذرائع کے لیے بھی پورے وثوق اور اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہیں۔اخبارات میں شائع ہونے والا کوئی مواد، یا ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی وساطت سے نشر ہونے والا کوئی پروگرم عوام الناس کی ذہنی سطح اور ان کی قوت متخیلہ کے محدود دائرے کو مرکز نظر میں رکھ کر ترتیب دیا جاتا ہے، اس لیے ان شرائط کی پاسداری تمام قسم کے ذرائع ابلاغ کے لیے ضروری ہے۔ الفاظ اور نوشتہ حروف کی کتنی قدر وقیمت ہے اور کس طرح زبان کے مناسب استعمال سے ایک کامیاب مواصلات کار اپنے قارئین کو گرویدہ بنا سکتا ہے، اس کا اندازہ درج ذیل اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے:
’’الفاظ اخبار نویس(صحافی) کا سرماےئہ حیات وروزگار ہیں، دن رات انھی سے سابقہ پڑتا ہے۔ معنی اور مفہوم کے اعتبار سے الفاظ کا صحیح استعمال عبارت کو جلا بخشتا اور قاری کو خبر پڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ لکھنے والے کی یہی صلاحیت اخبار( اور دوسرے ذرائع ابلاغ) کی مقبولیت میں اضافہ کرتی ہے۔ ‘‘(اردو صحافت: ترجمہ وادارت، ص:۲۷)
ادبی اور صحافتی زبان میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ادبی تحریر لکھتے ہوئے نہ وقت کسی کا دامن تھامتا ہے اور کسی قسم کی پابندی عائد نہ ہونے کی وجہ سے سوچنے اور غور کرنے کی فرصت سے بھی ادیب کو نہیں روکا جاسکتا ۔ جب کہ صحافتی دنیا میں وقت کی قلت دامن گیر ہوتی ہے، ،ذرا سی تاخیر سارے ابلاغی نظام پر پانی پھیر دیتی ہے۔ یہاں نہ سوچنے اور غور وفکر کرنے کی فرصت اور نہ اپنی تحریروں کو ادبی چاشنی سے آمیز کرنے کا موقع۔ ادیب ایک خاص اور محدود طبقے کو نظر میں رکھ کراپنا قلم چلاتا ہے، تو صحافی کا دائرئہ ترسیل لامحدود اور ریسیور غیر معدود ہوتا ہے۔ عام طور سے اخبار نویس اپنی بات قارئین کے دلوں میں اتارنے میں زیادہ دلچسپی لیتا ہے، تو ادیب اور قلم کار نسبتا اپنی خلاقانہ صلاحیت اور فن کاری کا نقش دوسروں پر قائم کرنے کے لیے قسمت آزمائی کرتے ہیں۔ سید اقبال قادری ادبی اور اخباری زبان میں فرق کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’ادبی زبان فکر انگیز، خوب صورت، امتیازی اور جاذب نظر ہوتی ہے، جب کہ اخباری زبان پر لطف ،معلوماتی، جامع، سلیس اور عام فہم ہوتی ہے۔‘‘ (رہبر اخبارنویسی ، ص:۲۷۰)
اخباری زبان میں تو تھوڑی سی چھوٹ بھی دی جاسکتی ہے کہ اخبار کا سامع کم ازکم بنیادی تعلیم سے بہرہ ور ہوتا ہے، لیکن ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر کوئی پروگرام نشر کرتے وقت سامعین اور ناظرین کی ذہنی سطح، ان کے عقائد، ان کے ذاتی رجحانات اور ان کی پسند وناپسند کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہوتا ہے، کیوں کہ ریڈیو کے سامعین یا ٹی وی کے ناظرین کاایک بڑا طبقہ وہ ہوتا ہے جو بنیادی تعلیم سے نہ صرف یہ کہ بہرہ ور نہیں ہوتا، بلکہ وہ راست تخاطب کو زیادہ اور سہل انداز میں زیادہ انگیز کر سکتا ہے۔ اخبارات میں اگر کوئی نامانوس اور مشکل لفظ نظر سے گزرے تو وہاں دوسروں سے استفسار، یا لغت دیکھنے اور غور و فکر کرکے یا اپنی قوت متخیلہ پر زور ڈال کر اس کا مطلب برآمد کیا جاسکتا ہے، لیکن ریڈیو میں یہ سہولت سرے سے ناپید ہے۔ ریڈیائی تحریر گفتگو اور بات چیت کا ذخیرہ ہوتی ہے۔یہاں تو الفاظ کمان سے نکلنے والے تیرکے مانندہوتے ہیں۔ ریڈیو کی زبان میں ربط اور منطقی ترتیب کو بھی کامیاب ترسیل میں بڑادخل حاصل ہے۔ جملے طویل نہ ہوں، کیوں کہ ریڈیوسے نشر کیے جانے والے پروگرام میں فورا اور بر وقت سمجھنے کی پابندی سے سامع مجبور ہوتاہے، سامع کو نہ لغت دیکھنے اور دوسروں سے دریافت کرنے کی فرصت، اس لیے ریڈیائی تحریر میں سلاست، ربط، سادگی اور وضاحت کا ہونا ازبس ضروری ہے۔ کمال احمد صدیقی نے ریڈیائی تحریر کی خصوصیات شمار کراتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا ہے :
’’بول چال کی اردو ہی براڈ کاسٹ کی زبان ہے۔ ریڈیو کی کہانی کے لیے منشی پریم چند کی اور گفتگو کے لیے مولوی عبد الحق کی نثر اعلی ترین معیاری زبان ہے۔ ‘‘(اردو اورعوامی ذرائع ابلاغ، ص:۱۵۰)
ٹیلی ویژن میں آواز اور عکس کا امتزاج ہوتا ہے، اس لیے وہاں آواز اور زبان کے ساتھ تصویری عکس بھی تفہیم اور ترسیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں، اس لیے اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اس کو تصویری زیر وبم اور جسمانی نقل و حرکت کے تعاون سے قابل فہم بنایا جاسکتا ہے۔تصویر کی ایجاد نے الفاظ اور زبان کی اہمیت کو کم نہیں کیا ہے۔ رقص وموسیقی کے علاوہ سارے پروگرام زبان کے محتاج ہوتے ہیں۔ زبان ہی تصویری صحافت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ٹیلی ویژن کا کوئی پروگرام ایسانہیں ، جہاں زبان کے استعمال سے گلو خلاصی ممکن ہو۔ انجم عثمانی نے صحیح لکھا ہے:
’’سیریل ہو یا ڈراما، مباحثہ ہو یا خبریں، دستاویزی فلم ہو یا چند سکینڈ کا اناؤنسمنٹ وغیرہ ہر پروگرام کے لیے زبان کی ضرورت ناگزیر ہے۔ ‘‘( ٹیلی ویژن نشریات، ص: ۱۴)
اخبارہو یا ریڈیویا ٹیلی ویژن حتی الامکان یہ کوشش کرنی چاہیے کہ زبان روز مرہ کے الفاظ پر مشتمل ہو، کتابی زبان سے احتراز بہتر ہے، کیوں کہ اس میں کوئی علمی یا تحقیق مضمون ذہن نشیں کرنا مقصد نہیں ہوتا، بلکہ صرف معلومات اور اطلاعات سے قارئین کوباخبر کرنا ہے۔ایسے الفاظ کا انتخاب کریں جو سامعین او ر قارئین پر وہی اثر مرتب کریں جس کی ترسیل آپ کا ہدف ہے۔ سادہ اور سہل زبان کی تاکید سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ابلاغ کی زبان چاشنی اور دل چسپی سے بالکل عاری ہوجائے، یہ نکتہ ہمیشہ ملحوظ رہے کہ سادگی میں بھی غضب کی پرکاری ہوتی ہے، سادہ الفاظ اور روز مرہ کے جملوں کے ذریعے بھی بڑے معجزے رونما ہو سکتے ہیں۔ محاورے ، کہاوتیں، اشعار کے ٹکڑوں کا برجستہ استعمال زبان کی دل کشی اور جاذبیت پیدا کرتے ہیں۔ذرائع ابلاغ خواص کے درباری ترجمان نہیں، بلکہ یہ عوامی ادارے ہیں۔ کوئی بھی بات اتنی سہل زبان میں پیش کی جائے کہ کسی کی سمجھ سے بالا تر نہ رہے۔ میر کا یہ شعر عوامی ترسیل کے حسب حال ہے:
شعر میرے ہیں گو خواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے
خلاصہ یہ کہ عوامی ترسیل کی زبان میں ان تمام طبقات کی ترجیحات اور تعلیمی قابلیت کا خیال رکھنا ۔ضروری ہے، جو ہمارا ہدف ہوتے ہیں، اگر ترسیل کے عمل میں ان امور کو اہمیت نہیں دی گئی، تو ترسیل کا عمل کامیاب، مؤثر اوربا معنی نہیں کہلاسکتا۔ عوامی ترسیل کی زبان کیسی ہو، اپنے ناقص مطالعے کی روشنی میں درج ذیل باتوں پر عمل درآمد کرنے کی سفارش کی جاسکتی ہے۔
۱۔ سادہ اور آسان الفاظ کا استعمال کیا جائے۔ ۲۔الفاظ اور جملوں کی تکرار نہ ہو۔ ۳۔ مترادفات کا زیادہ استعمال نہ ہو۔ ۴۔ تحریر میں بے ربطی نہ ہو۔ ۵۔جملوں کی ساخت اور ترکیب بھی آسان ہو۔ ۶۔اضافت کا استعمال کم ہو۔ ۷۔جملے مختصر ہوں۔ ۸۔ صرفی ونحوی قواعد کی صحت کا خیال بھی ضروری ہے۔ ۹۔مروجہ اصطلاحیں مستعمل ہوں۔ ۱۰۔ عربی ، فارسی، سنسکرت اورانگریزی کے ان الفاظ کو نہ برتا جائے جو نامانوس اور مشکل ہوں۔

Monday, 13 January 2014

جمہوری اقدار کے فروغ میں اردو شاعری کامخلصانہ کردار

ابرار احمد اجراوی

جمہویت’ عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے سے موسوم‘ ایسا اجتماعی طرز حکومت ہے جس میں سیاسی نمائندوں کے انتخاب سے لے کر عوام کے لیے وضع کی جانے والی پالیسیوں پر بھی عوامی خواہشات ہی اثر انداز ہوتی ہیں۔ جمہوری نظام حیات میں نہ صرف یہ کہ آزادی، مساوات اور تمام شعبہائے حیات میں ہر شہری کو روزگار اور ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوتے ہیں، بلکہ منتخب حکمرانوں کو بھی عوام کے سامنے اجتماعی مفاد کی ضمانت کے تئیں،جواب دہی کی ذمے داری اد کرنی پڑتی ہے۔ شعرو ادب کا تعلق چوں کہ راست طور پر عوام سے ہوتا ہے، اس لیے اردو زبان خصوصا شاعری نے ہمیشہ جمہوری اقدار اور عوامی جذبات واحساسات کی ترجمانی کا مقدس فریضہ انجام دیا ہے۔ فرقہ پرستی، نسلی منافرت، ظلم وتشدد کے خلاف وہ ہر موقع پر سینہ سپر نظر آتی ہے۔ اتحاد ویک جہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، آزادی رائے، احترام آدمیت، حقوق انسانی کا تحفظ، منصفانہ اقدار کے فروغ، غریبوں اور مفلوک الحالوں کی حمایت، جاگیر داروں اور آمروں، نیزغیر ملکی سامراج کے خلاف عوامی رائے عامہ کی ہمواری، ابتدا سے ہی اردو ادب کے شریانوں میں خون بن کر دوڑ تا رہا ہے۔ اردو کے پہلے شاعر امیر خسرو کے عہد سے لے کر جدید ٹکنالوجی کے دوش پر سوارموجودہ دور تک اردو شاعری عوامی مزاج کی نمائندگی کا مستانہ اور رندانہ رول اد کرتی رہی ہے۔ترقی پسندی،جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی پیچیدہ ادبی بحثوں اور ادبی بساط پر کھیلی جانے والی بازی گری نے بھی اردو ادب کی اس عوامی اور جمہوری شناخت پر اپنا کوئی منفی اثر مرتب نہیں کیا، بلکہ ادبی اور تنقیدی مکاتب میں جس قدر توسیع اور تکثیر ہوتی رہی، اردو ادب کا جمہوری چہرہ مزید آب وتاب کے ساتھ نکھر کر سامنے آیا ہے۔ کیوں کہ آل احمد سرور کے مطابق :” یہ ( اردو) جمہور کی زبان اور جمہور کا ادب ہے۔ جمہور نے اسے گویائی بخشی اور جمہور نے اسے پروان چڑھایا۔ “
ہندستان میں آئینی جمہوریت کی صبح تو ۱۵/ اگست ۱۹۴۷ء کو طلوع ہوئی، لیکن اردو ادب میں اس کی بازگشت امیر خسرو کے عہد سے ہی سنائی دیتی ہے۔ میر و سودا کے عہد میں بھی جمہوریت کے اصول اور آدرشوں پر مبنی مضامین اردو شاعری میں نظم کیے گئے ہیں۔ علامہ اقبال نے گرچہ جمہوریت پر تنقید کی تھی، لیکن ان کی تنقید کا نشانہ وہ جمہوریت تھی، جس کی آڑ میں آمریت اور شہنشاہیت کی پرورش کی جاتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ مجوزہ جمہوریت سرمایہ دارانہ مغربی نظام کی زائیدہ ہے ، وہ ایسی جمہوریت کو آزادی کی نیلم پری نہیں، بلکہ جمہوری قبا میں ملبوس دیو استبداد سے تعبیر کرتے تھے۔ علامہ اقبال نے خضر راہ میں یہی کہا ہے، جس سے ان کے مغربیت زدہ جمہوریت کے تصور کو تقویت ملتی ہے:
ہے وہی ساز کہن، مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں، غیر از نوائے قیصری
اگر علامہ اقبال عوامی آزادی اور مساوات سے عبارت جمہوری طرز حکومت کے مخالف ہوتے، تو وہ نہ تو ’سلطانی جمہور ‘کی آمد کی روح افزا نوید سناتے اور نہ ہی ہر’ نقش کہن‘ کو پیروں تلے روند ڈالنے کی اپیل کرتے۔ نظیر اکبر آبادی ، الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، مولانا محمد حسین آزاد، اکبر الہ آبادی، اسماعیل میرٹھی، سر سید اور ان کے دوسرے رفقائے کار اور ان اساطین ادب کے بعد حسرت موہانی، مولانا محمد علی جوہر، فیض،جوش ، فراق، تلوک چند محروم، علامہ جمیل مظہری، ساحر لدھیانوی، علی سردار جعفری وغیرہم نے اردو ادب کی اس جمہوریت نوازی کو اپنے فکر وفلسفے کی آنچ دی اوراس کو ایک پسندیدہ طرز حکومت کے طور پر اطراف عالم میں متعارف کرانے اور سنجیدگی اور اعتدال کے ساتھ اس نظام کی مدح وستائش میں اپنی زندگی کے قیمتی شب وروز ایک کردیے۔
اردو زبان کے آغاز وارتقاء کا زمانہ وہ ہے جب ہندستان کے سیاسی نظام پرنام نہاد بادشاہی طرز حکومت کا غلبہ تھا اور عوامی اصول زندگی کو محور اور مرکز کی حیثیت حاصل نہیں تھی، اس کے باوجود کیاہندو اور کیا مسلم سبھی نے جمہوری اور عوامی اقدار کے مظاہر کی حمایت اور اس کو سیاسی اور سماجی زندگی کے دھارے میں شامل کرنے کا زریں درس دیا ہے۔ ہمارے صوفیوں، بھگتوں، جوگیوں،رشیوں منیوں اور راہبوں نے انسانیت نوازی، حب الوطنی، احترام انسانیت سے آمیز مضامین کو اپنے پیغامات میں مرکزیت دی ہے۔ بعض شعرا نے اردو کے شعری اور نثری افق پر اسی حوالے سے اپنی شناخت قائم کی کہ وہ عوامی جذبات کی ترجمانی کو بنیادی قدر کے طور پر برتتے تھے اور ان کی تخلیقی ذہانت کا محور ومطاف وہ انسانی مسائل تھے، جو راست طور پر عام آدمی کی روزمرہ کی زندگی سے مربوط تھے۔ اردو کی جمہوریت پرستی اور اس کی عوامی اساس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ درباروں اور شاہی محلات سے کہیں زیادہ بازاروں اور خانقاہوں کی گود میں کھیلی کودی اور بادشاہوں اور امراء کی زر آمیز سر پرستی میں نہیں، بلکہ صوفی سنتوں کی ، سیم وزر سے خالی، مگرانسانیت آشنا آغوش میں پروان چڑھی ہے۔ اس کی پرورش وپرادخت اور اس کو ایک صاف ستھری زبان کا مقام عطا کرنے میں انھی صوفی سنتوں کا لہو شامل ہے۔ دکن جو اردو کا اولین مرکز ہے، وہاں کے ادیبوں اور شاعروں کے فکری سرمایے اور بنیادی فلسفے پر بھی،چاہے انھوں نے شاہی درباروں میں ہی ادب خلق کیوں نہ کیا ہو، جمہوریت کا پختہ رنگ چڑھا ہوا ہے۔ قلی قطب شاہ، غواصی، نصرتی، نظامی بیدری، شوقی، وجہی ، ولی اور سراج وغیرہ کے اشعار پر عوامی افکار وتصورات کا ناقابل محو نقش ثبت ہے۔
شمالی ہند جو اردو ادب کے ارتقا کی دوسری جنم بھومی ہے اور جہاں اردو ادب نے اپنی ارتقائی منزلیں بڑی آسانی اور حوصلے اور جذبے کے ساتھ طے کی ہے یہاں بھی آغاز سے ہی عوامی آواز اور عام لوگوں کے مسائل کو ردیف و قافیے کا پیکر عطا کرنے میں ہمارے شاعروں نے کسی غفلت اور لاپروائی سے کام نہیں لیا ہے ۔ یہ دو شعر دیکھیں، جن میں کثرت میں وحدت کی دعوت کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر تفریق کی مذمت کی گئی ہے، ایک شاہ حاتم کا ہے اور دوسرا شاکر ناجی کا۔
کعبہ ودیر میں حاتم بخدا غیر خدا
کوئی کافر نہ کوئی ہم نے مسلماں دیکھا
نہیں ہے وحدت و کثرت میں فرق مومن وکافر
کہ یہ کہتا ہے ہردم دحدہ اور وہ کہے ہر ہر
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، اگر صرف انیسویں صدی کے دائرے میں رہ کر بھی باتیں کریں تو اردو شاعری کا چمکتا ہوا جمہوری چہرہ قدم قدم پر نظر آئے گا۔۱۸۵۷ء کی پہلی جنگ آزادی کے بعد پورے ملک پر برطانوی سامراج کے تسلط کا توڑ کرنے اور ہندستانیوں کے اکھڑے ہوئے قدموں کو دوبارہ جمانے کے لیے کئی اصلاحی تحریکات نے جنم لیا۔ سر سید اور ان کے رفقائے کار نے خاص طور سے مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا اپنے سر اٹھایا، انھوں نے اس خوابیدہ قوم کو بدلتی زندگی کا سبق پڑھانے اور اس کو ترقیوں کے رواں قافلے سے ہمدوش کرنے کے لیے اردو زبان وادب کا ہی سہارا لیا اور ایسے ادب کی تشکیل کی حمایت کی اور ملک کے ادیبوں کو ایسا ادب خلق کرنے کی دعوت دی، جس میں طبقئہ جمہور کی آواز اٹھائی گئی ہو۔ سر سید کی علی گڑھ تحریک نے ادب کو دربار اور کوٹھریوں سے نکال کر عوامی چوپال اور چوک چوراہے کی زینت بنایا۔ ان کی کوششوں سے نہ صرف شاعری اور نثر کے موضوعات تبدیل ہوگئے، بلکہ ادبی اصناف میں بھی مختلف تبدیلیوں کی گنجائش نکالی گئی، قصیدہ نگاری ، داستان نویسی اور عشق وعاشقی پر مبنی غزلوں کی زنجیروں سے اردو ادب کو آزاد کرایا گیا اوراس کی جگہ ناول، افسانہ اور جمہور کے مسائل سے قریب موضوعاتی نظموں کا اضافہ کیا گیا، جس میں عام انسان اور جمہور کو مرکز بنایا گیا۔
انیسویں صدی صرف سیاسی اعتبار سے ہی جاں گسل اور مسائل انگیز نہیں تھی، بلکہ اس سیاسی شکست وریخت نے زندگی کی دوسری معاشرتی اور سماجی اقدار کو متأثر کرنے کے ساتھ ہماری زبان کے ادبی اور شعری سرمایے پر بھی اپنے ہمہ گیر اثرات مرتب کیے۔ جاگیر دارانہ نظام اور انگریزوں کے ناپاک سایے کے زیر اثر عوامی جذبات کی ترجمانی اور اردو کے انقلابی اور جمہوری کردار کی تلاش آسان کام نہیں تھا۔ اس لیے ہمارے ادیبوں نے عوامی اقدار کی ترجمانی کے لیے کچھ مصلحتوں کے پیش نظر رمز وکنایے اور استعارے اور تشبیہات کے توسط سے عوامی افکار اور تصورات کی ترجمانی کی۔ میر تقی میر کی بیش تر غزلیں انسانی اور عوامی اقدار کے ارد گرد گردش کرتی ہیں، سودا کے شہر آشوب اور میر درد کے متصوفانہ کلام نے بھی عوامی اقدار کو ہی الفاظ کا پیکر عطا کیا ہے۔ میر تقی میر کے اس شعر میں بے رحم حالات کے بطن سے جنم لینے والے جان لیوا مسائل اور احساس بیچارگی کی کتنی حسین تصویر کھینچی گئی ہے:
مزاجوں میں یاس آگئی ہے
نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی
اور اس شعر میں تنگی زمانہ اور پریشاں حالی کی تعبیر کا کتنا اثر انگیز تشبیہی انداز اختیار کیا ہے:
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
عوامی شاعر نظیر اکبرابادی کی نظمیں: شہر آشوب، مفلسی، روٹی، عید اور ہولی وغیرہ عوامی جذبات واحساسات اور قومی امنگوں کی ترجمان ہیں، انھوں نے عوامی مسائل کی ترجمانی اور ان کے جذبات واحساسات کی پاسدار ی میں اپنے فن اور تخلیقی بہاوٴ سے خوب کام لیا ہے۔ ان کی بنیادی لفظیات کا خمیر ہی عوامی خیالات کی آمیزش سے اٹھا ہے۔ جیسے یہ اشعار:
صراف، بنیے، جوہری اور سیٹھ ساہوکار
دیتے تھے سب کو نقد سو کھاتے ہیں اب ادھار
بازار میں اڑے ہے پڑی خاک بے شمار
بیٹھے ہیں یوں دکانوں پہ یہ اپنی دکان دار
علامہ اقبال تو ہماری مفاد پرست اور موقع شناس سیاست کی بھینٹ چرھ گئے، ورنہ ان کے اشعار کی بنیادی ساخت اور زیریں لہروں پر غور کریں تو و ہاں بھی جمہوریت کا روشن چہرہ نکھر کر سامنے آتا ہے۔آزادی رائے، حب الوطنی، انسانیت دوستی، عالمی مسائل وغیرہ پر ان کی جتنی نظمیں ہیں، ان میں جمہوریت اور سیکولر ازم کی تابناکی اور درخشندگی نظر آتی ہے۔ ترانہ ہندی، نیا شوالہ، اور تصویر درد میں قومی یک جہتی، فرقہ وارانہ یک جہتی اور سیکولرازم کے آفاقی تصور کو پیش کیا گیا ہے۔اگر جمہوری نظام میں مساوات کو ترجیحی حیثیت حاصل ہے، تو اس شعر کی ہر ہر سطر سے مساوات کے چشمے ابلتے ہیں، اقبال نیا شوالہ میں کہتے ہیں:
آ! غیریت کے پردے ایک بار پھر اٹھا دیں
بچھڑوں کو پھر ملا دیں، نقش دوئی مٹا دیں
اور اپنی مشہور زمانہ نظم لینن خدا کے حضور میں مروجہ عوامی مسائل کی ترجمانی ان لفظوں میں کرتے ہیں:
بے کاری وعریانی و مے خواری وافلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات
اور جب اقبال نے یہ شعر کہا تو جمہوریت اور سیکولرازم کے سارے تصورات ذہن کی اسکرین پر نمایاں ہوگئے :
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندستاں ہمارا
غالب نے ، جنھوں نے اجڑتی ہوئی دلی اور لٹتے ہوئے لال قلعے کا خوفناک چہرہ دیکھا ہے، بھی عوامی اور جمہوری اقدار کی ترجمانی میں کسی پس وپیش سے کام نہیں لیا ہے۔ ان کی شاعری کا ملغوبہ ہی اس عہد کی مروج عوامی زندگی پر مسلط ابتری اور بد حالی جیسے عناصر سے تیار ہوا ہے۔ دلی کی تباہی و بربادی اور عوامی امنگوں کی پامالی کا کتنی شاندار مرقع کشی ان متفرق غزلوں کے اشعار میں ہے:
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
تشنہ خوں ہے ہر مسلماں کا
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
نہ دے نامے کو اتنا طول عالب
کہ حسرت سنج ہوں عرض ستم ہائے جدائی کا
آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر نے ان اشعار میں صرف اپنے اجڑے دل کی دنیا کا حال ہی نہیں، بلکہ پورے ہندستان کی حالات کا رس نچوڑ کر رکھ دیا ہے:
لگتا نہیں ہے جی مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے اس عالم ناپائیدار میں
کہہ دو یہ حسرتوں سے کہیں اور جابسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
حب وطن کے جذبے سے سرشار پنڈت برج نارائن چکبست کی شاعری تو عوامی اقدار کے ہی تانے بانے سے تیار ہوئی ہے۔ انھوں نے حب الوطنی کے نعمے چھیڑے نے کے ساتھ اس وقت کے عوامی مسائل اور جمہوری روایات کو بھی شعری پیکر عطا کیا ہے۔ ان کی نظمیں راماین کا ایک سین اور آوازئہ قوم میں بعض جمہوری قدروں کو از سر نوآواز دی گئی ہے۔ دیکھیے یہ اشعار:
یہ آرزو ہے کہ مہر ووفا سے کام رہے
وطن کے باغ میں اپنا ہی انتظام رہے
گلوں میں گل چیں نہ صبح وشام رہے
نہ کوئی مرغ خوش الحاں اسیر دام رہے
۱۹۳۶ء میں رومانیت کے رد عمل کے طور پر ادبی منظرنامے پر ابھرنے والی ترقی پسند تحریک کے منشور میں ہی عوامی جذبات کی ترجمانی اور امن ومحبت کی تشہیر وتبلیغ پر زور دیا گیا تھا اور ہر قسم کی غلامی، استحصال، سماجی عدم مساوات اور طبقاتی تفریق کے خلاف اس تحریک نے شمشیر برہنہ کا کردار ادا کیا ۔ جمہوریت کی حمایت، انصاف کا مطالبہ، سماجی عد مساوات کا خاتمہ، احترام انسانیت اور عوامی رائے کا احترام یہی کچھ ترقی پسند ادب کا محور تھا۔ شاعری میں جہاں جوش، فیض، علی سردار جعفری، مجروح سلطان پوری، مخدوم محی الدین، اسرار الحق مجاز، ساحر لدھیانوی، جذبی، جاں نثار اختر اورشمیم کرہانی وغیرہ نے اپنی فکر کا خمیر جمہوری عناصر سے تیار کیا، وہیں نثر میں عصمت چغتائی، کرشن چندر، بیدی، بلونت سنگھ ، حیات اللہ انصاری وغیرہ نے طبقئہ جمہور کی آواز حکومت کے ایوانوں تک پہنچانے میں پیغام بر نثر نگار کا رول ادا کیا۔ ساحر لدھیانوی نے احتجاج اور مزاحمت کی راہ اختیار کی اور اپنی ندرت فکر اور راست گوئی سے کام لے کر زمینی مسائل کو اپنے احساس کی شدت کا جامہ پہنایا ۔ ساحر نے ہمشہ دو قومی نظریے کی مذمت کی، جمہوریت پرستی کا ثبوت دیتے ہوئے وحدت میں کثرت کی حمایت کی ۔ ان کی دو نظمیں’ آج‘ اور’ مفاہمت ‘جمہوریت کا سر نامہ بننے کی حقدار ہیں۔ ایک نظم میں کہتے ہیں:
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنسی، رادھا کی بیٹی
۱۹۴۷ء میں ملک کی تقسیم کے بعدفرقہ واریت کے سایے میں ہمارے شاعروں نے جمہوری اقدار کو جب بھی مجروح ہوتے دیکھا، اس تلخی اور تیزی کو اپنے فن کے قالب میں ڈھال دیا۔ انھوں نے جمہوریت اور سیکو لرازم کی آڑ میں اپنے مفادات کی سیاست کرنے والے عوامی نمائندوں پر بھی تنقید کا تیر چلایا ہے کہ آشو ب و ابتلا کے عہد میں اردو شاعری ہی امید کی واحد کرن بن کر نمودارر ہوتی ہے۔ آزادی اورجمہوریت کو ایک سیاسی نظام کے طور پر قبول کر لینے کے بعد ہمارے شاعروں نے تہذیبی وحدت کا سفیر بن کر جمہوریت کے ستونوں کو مضبوطی عطا کرنے کے لیے ایسی شاعری کی ، جس سے جمہوریت کا قد مزیداونچاہوا۔ تلوک چند محروم کی نظم’ آزاد ہندستان‘، جعفر علی خاں کی نظم ‘ جشن جمہوریت‘ سراج لکھنوی کی نظم’ جشن جمہور‘رضا نقوی واہی کی نظم‘ یوم جمہور‘ جمہوری قدروں کی بحالی کے تعلق سے حوالے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ معاصر شعرا بھی مشاعرے کے پر وقار اسٹیج سے ملک کے طول وعرض میں بھائی چارہ، اتحاد اور اخوت ومحبت کا چراغ روشن کرنے کے لیے ا پنا خون جگر جلا رہے ہیں۔ لیکن چند شر پسند عناصر کی آنکھوں میں ان کی یہ کوششیں کانٹا بن کر کھٹکتی رہتی ہیں۔اور وہ جمہوریت، سیکولرازم، رواداری کی فضا کومکدر کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔ آج پھر ضرورت ہے کہ ہمارے انصاف پسند دانشور اور انسانی درد رکھنے والے قومی رہنما آگے آئیں اور تلوک چند محروم کی نظم ”۲۶/جنوری “کو عملی جامہ پہنائیں کہ یہیں سے ہندستان کی ہمہ جہت ترقی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ محروم کہتے ہیں:
بھارت کا عزم ہے یہ ، توفیق اے خدا دے
دنیا سے ایں وآں کی تفریق کو مٹاد ے
امن واماں سے رہنا ہر ملک کو سکھادے
ہر قوم شکریے میں ہر سال یہ صدا دے
روز سعید آیا چھبیس جنوری کا
دور جدید لایا بھارت کی برتری کا

Tuesday, 7 January 2014

علامہ اقبال اور عشق رسول


علامہ اقبال صرف شاعر نہیں تھے، عظیم المرتبت مفکر اور بلند پایہ فلسفی بھی تھے۔ شاعر بھی ایسے نہیں، جن کے ہاں رومان پروری اور نام نہاد عشق وعاشقی کا عنصر اس درجہ غالب ہو کہ ا ن کا ذہن زمینی حقائق اور سنگلاخ سچائیوں سے منھ موڑ لے ، انھوں نے تو فکر و فن کی دوئی کوایک نا قابل تقسیم اکائی میں تبد یل کردیا تھااور ادب برائے ادب کی تخیلاتی دنیا کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ علامہ اقبال ایسے شاعر تھے جن کے ہاں ادب وسیع تر اسلامی اور سماجی مقاصد کی تکمیل کا مستحکم ذریعہ تھا اور وہ ادب صرف انسان کی جمالیاتی حس کو ہی نہیں محظوظ کرتا تھا،بلکہ اس کے عقل ووجدان، اس کی فکر و خیال اور اس کے سماجی اور معاشرتی تصورات پر بھی ہمہ گیر اور بھرپور طور پر اثر انداز ہوتا تھا۔ اقبال جہاں بڑے شاعر تھے، وہیں اسلامی وملی دردرکھنے والے اور قومی غیرت وحمیت سے سرشار سچے او رپکے مسلمان بھی تھے۔ انھوں نے امت مسلمہ کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے، انھیں فراموش ماضی کی یاد دہانی کرانے اور انھیں خیر امم کے مطلوبہ منصب پر لا کھڑ اکرنے کے لیے پیمبرانہ مقاصد کے تحت شاعری کے ہتھیار سے کام لیا۔ناقدین اپنے مفروضات کی بنیاد پرخواہ کچھ بھی رائے قائم کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہی تذکیری دور ان کی شاعری کا نقطئہ عروج ثابت ہوا۔​
علامہ اقبال کی تعلیم و تربیت ایسے اسلامی اور دینی ماحول میں ہوئی تھی کہ اسلام، انبیاء ، صلحاء، صوفیاء اور علمائے کرام سے محبت ایام طفولت میں ہی ان کے خمیر میں رچ بس گئی تھی۔ حب رسول اور عشق نبوی تو ان کے شریانوں میں خون بن کر گردش کرتا تھا۔ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمھارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میری محبت تمھارے دل میں اولاد، والدین اور پورے انسانی کنبے کی محبت سے بڑھ کر نہ ہو۔ اس حدیث کے واضح مفہوم پر ایمان رکھتے ہوئے علامہ اقبال حب نبوی اور عشق رسول کو ایمان کی بنیاد واساس تصور کرتے تھے ۔ آپ ﷺ کا نام زبان مبارک پر آتے ہی یا آپﷺ کانام کانوں میں پڑتے ہی احساس وشعور میں سوز وگداز کی برقی لہر دوڑ جاتی اورتفکرات کی لا محدود دنیا میں کھو جاتے تھے اور پر نم آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگ جاتی تھی۔ ذکر نبوی کیا چھڑ تا کہ ان کے جذبات پر رقت کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ چند ثانیوں میں بے قابو اور بے تاب ہو گئے۔ عشق رسول ، صحابئہ کرام سے محبت ان کی شاعری کا جزو اعظم تھا۔ اور عشق نبوی کی آگ نے غیر محبوب کے سارے تصورات کو جلا کر خاکستر کردیا تھا۔علامہ اقبال کی حضور پرنور ﷺ سے والہانہ عقیدت اور محبت اتنی دو آتشہ تھی کہ پنجاب کے ایک صاحب ثروت کی شان دار کوٹھری کے مخملی اور نرم بسترے پر اس لیے رات نہیں گزاری اور پوری رات ایک کرسی پر بیٹھ کر روتے اور سسکتے ہوئے یہ کہہ کر گزاردی کہ ” جس رسول پاک کی جوتیوں کے صدقے میں آج ہم کو یہ مرتبے حاصل ہوئے ہیں، اس نے بوریے پر سو کر زندگی گزاردی تھی۔ “ اگر چہ انھیں مدینہ منورہ اور روضئہ مطہرہ کی زیارت نصیب نہ ہوسکی، اور مقدرات خداوندی کے تحت فریضئہ حج کی ادائیگی کی سبیل موت تک نہ نکل سکی،لیکن سر زمین حجاز اورمدینہ منورہ کی زیارت کی تمنا دل کے ریشے میں اس قدرپیوست ہو گئی تھی کہ گھنٹوں روضئہ نبوی کی سنہری جالیوں کے تصور اور مکہ و مدینہ کی سنگریزو ں والی وادیوں کے تخیل میں گزاردیتے تھے۔ اخیر عمر میں جب کہ شدید بیماری کے سبب اعضائے جسمانی کمزور ہو گئے تھے، یہ ایمانی آرزو اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ سید عبد الرشید فاضل علامہ اقبال کے حب نبوی اور تصور محبوب کے استغراق اور محویت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ذات قدسی صفات سے علامہ کا تعلق اتنا مضبوط تھا کہ تصور کرتے ہی علامہ کی حالت دگر گوں ہو جاتی تھی اور”میں نے خاص لوگوں سے بطور راز ضرور کہا کہ یہ اگر حضور کے مرقد مبارک پر حاضر ہوں گے تو زندہ واپس نہیں آئیں گے۔ وہیں جاں بحق ہوجائیں گے۔“( اقبال اور محبت رسول، ص:۱۴۷)​
علامہ اقبال کی شاعری کو لازوال وجود بخشنے کے لیے عشق اور محبت پر مبنی عنصر ضروری بھی تھا کہ عشق و محبت سے ہی کسی فکر اور کسی فلسفے کو آنچ ملتی ہے۔عشق اور محبت کی قلمرو کی کوئی انتہا نہیں۔ دنیائے آب وگل کا وجود محبت کا ہی رہین منت ہے۔ اگر خدا کو اپنا جلوئہ جہاں آراء دیکھنا منظور نہ ہوتا تو یہ حسین اور رنگ برنگی دنیا عدم سے وجود میں نہ آتی۔ کیا انسان اور کیا حیوان سبھی محبت اور عشق کی مقدس زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ روئے ارضی کا ذرہ ذرہ عشق ومحبت کا منبع اور مرکز ہے۔ اگر عشق ومحبت کے پاکیزہ عناصر سے روئے ارضی خالی ہوجائے تو دنیاتاریکی اور ظلمات کی گہوارہ بن جائے۔ اور سطح ارضی حیوانیت اور درندگی کی آماجگاہ بن جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ عشق کے کئی مدارج ہیں اور اختلاف مدارج ہی محبت اور عشق کے تصورات کے حسن وقبح کا تعین کرتا ہے۔ محبت کی فسوں سازی اور اس کی ہمہ گیری کا ذکر کرتے ہوئے صاحب ر”حمة للعالمین “قاضی محمد سلیمان منصور پوری لکھتے ہیں۔:”محبت ہی قوت قلب ہے۔ محبت ہی غذائے روح ہے۔ محبت ہی قرة عین ہے۔ محبت ہی حیات الابدان ہے، دل کی زندگی، زندگی کی کامیابی، کامیابی کو دوام و بقابخشنے والی، غرض محبت ہی سب کچھ ہے۔ “​
علامہ اقبال بھی کارزار حیات میں عشق او ر محبت کی تاثیرکے قائل تھے۔ عشق ہی آداب خود آگا ہی سکھاتا ہے۔ اسی سے خودی کو استحکام ملتا ہے۔ اور ہر عمل کو عشق ہی دوام وخلودعطاکرتا ہے۔ عشق سے ہی زندگی کو آب وتاب ملتی ہے اور اسی سے زندگی کی تاریک راہیں روشن ہوتی ہیں۔مسجد طرقبہ اور تاج محل کو عشق ومحبت کی طلسمی تاثیر نے ہی دوام بخشا۔ علامہ اقبال عشق کی تاثیر اور اس کے تقدس و پاکیزگی کے حوالے سے کہتے ہیں۔​
عشق دم جبرئیل عشق دل مصطفی​
عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام​
عشق کے مضراب سے نغمئہ تار حیات​
عشق سے نور حیات عشق سے نار حیات​
علامہ اقبال نے سیرت سرور دو عالمﷺ اور قرآن کریم کے عمیق مطالعے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا تھا وہ یہ تھا کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات با برکت تمام ظاہری اور باطنی کمالات کا مخزن اور منبع ہے۔ ایمانی تکمیل کے لیے آپ کی ذات تک رسائی ناگزیر ہے۔ اگر کوئی صاحب ایمان ذات اقدس تک رسائی کی دولت سے محروم رہا تو وہ بو لہبیت میں اسیر اور جاہلیت کا گرفتار ہے۔​
قرآن کریم اور احادیث نبوی میں عشق کا لفظ تو استعمال نہیں ہوا ہے، بلکہ اس مفہوم کے لیے ”محبت“ اور ”حب “کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ عربی زبان کی رو سے دنیوی متعلقات کے سبب عشق کے معنی میں ذرا سی کراہیت کا پہلودر آتا ہے۔ لیکن آگے چل کر عشق اور محبت مترادفات کے طور پر استعمال ہونے لگے۔ احتیاط کے پہلو پر عمل کرتے ہوئے بعض مصنفین عشق کے پہلو بہ پہلو محبت کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ محبت کیا ہے۔ سید محمد ذوقی شاہ لکھتے ہیں۔ ” محبت ایک کشش مقناطیسی ہے۔ جو کسی کو کسی کی جانب کھینچتی ہے۔ “​
علامہ اقبال کا دل عشق رسول سے معمور تھا۔ عشق نبوی کی روشنی سے ان کے دل کی پوری کائنات منور تھی۔ دل میں اتنا سوز وگداز تھا کہ سرکار دوعالم کا نام لبوں پرآتے ہی بے تاب ہوجاتے ، ماہی بے آب کی طرح تڑپتے اور اندروں میں زیر وزبر ہونے والے جذبات کا عالم دیدنی ہوتا تھا۔ اقبال شان نبوی میں زبان درازی اور دشنام طرازی تو دور کی بات ہے، ادنی گستاخی کو بھی برداشت نہ کرتے تھے۔ اقبال حب نبوی سے اس قدر سر شار تھے کہ اگر کوئی آپﷺ شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتا تو برہمی کا وہ اظہار کرتے کہ ایسامعلوم ہوتا کہ غصے اور تمتماہٹ کی وجہہ سے پھٹ پڑیں گے ۔ علامہ اقبال عشق رسول کی دولت کو سرّ دین اور عقبی کی کامیابی کا مدار بھی کہتے تھے۔ ایک بار کسی نے آپ کی محفل میں شان اقدس میں گستاخانہ الفاظ ادا کیے تو نہ صرف اس کو اسی موقع پرسخت سست کہا بلکہ تنبیہا اس کو اپنی محفل سے بھی نکلوا دیا کہ حب نبوی کا تقاضا یہی تھا۔اگر آج علامہ اقبال با حیات ہوتے اور سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے بد نام زمانہ مصنفین کی گستاخیوں کا انھیں علم ہوتا تو ان کے رقت آمیز قلب و دماغ پر کیسی قیامت گزرتی اور وہ اس کا کتنا سخت نوٹس لیتے ، اس کا محض اندازہ کیا جاسکتا ہے۔​
نتھو رام نامی شخص نے انگریزی زبان میں تاریخ اسلام نامی کتاب لکھی اور اس میں حضور ﷺ کی شان میں نا زیبا تبصرہ کیا۔مسلمانوں نے اس شاتم رسول کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیا، مگر نتیجہ صفر رہا۔ ہزارہ کے ایک نوجوان عبد القیوم کو اس گستاخانہ مذبوحی حرکت کی خبر ملی، اس کی ایمانی غیرت وحمیت کے سمندر میں وہ جوش آیا کہ اس نے عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران ہی دھاردار چاقوسے اس گستاخ رسول پر حملہ کردیا اور موقع پر ہی اس کا قصہ تمام کردیا۔ عبد القیوم کو سزائے موت ہو گئی، مسلمانوں کے ایک وفد نے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے کے لیے علامہ اقبال سے در خواست کی اگر وہ اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کریں تو وائسرائے سے مل کران کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کراسکتے ہیں۔ علامہ نے وفد کی باتیں سن کر یہ دریافت کیا کہ کیا عبد القیوم کمزور پڑ گیا ہے؟۔ وفد کے ارکان نے کہا کہ عبد القیوم کمزور کیوں پڑتا، اس نے تو عدالت میں ہر بار اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اور وہ علی الاعلان یہ کہتا ہے کہ میں نے شہادت اپنی زندگی کی قیمت پر خریدی ہے۔ یہ سن کر علامہ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور کہنے لگے:” جب وہ ( عبد القیوم) کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے تو میں اس کے اجر وثواب کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں ؟ کیا تم یہ چاہتے ہوکہ میں ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی خوشامد کروں جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مر گیا تو شہید ہے۔“​
اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے۔ راج پال نامی شخص نے لاہور میں آپ ﷺ کی شان اطہر میں بد زبانی کی۔ انگریزوں کی عدالت نے اس کو بھی قرار واقعی سزاکا مستحق نہیں گردانا۔ آخر غازی علیم الدین کی غیرت ایمانی نے جوش مارا اور اس گستاخ رسول کو جہنم رسید کردیا۔ انھیں بھی عدالت نے سزائے موت دی۔ محبت رسول کی راہ میں پروانہ وار اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ان شہیدوں کی قربانی نے علامہ کو بہت متأثر کیا اور ”لاہور اور کراچی “ کے عنوان سے تین اشعار پر مشتمل قطعہ کہہ کر ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا:​
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ​
قدر وقیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر​
۱۹۰۵ء میں سفر یورپ سے قبل علامہ اقبال بھی غزل کے پیمانے میں روایتی قسم کی نعت لکھا کرتے تھے، لیکن جب یورپ کے سفر نے انھیں مسلمان کردیا اور ان کی فکر اور تخیل نے ایک ہی جست میں سارے فاصلے عبور کرلیے تو انھوں نے حب نبوی سے لبریز وہ نعتیہ مضامین رقم کیے کہ اس کی ہر سطر کیا ہر لفظ سے محبت، عشق، عقیدت، شیفتگی ووارفتگی اور ذوق وشوق کے شرارے پھوٹتے ہیں۔ سفر یورپ کے بعد انھوں نے جو نعتیہ شاعری کی اس کا اسلوب اور لہجہ پہلے سے یکسر مختلف تھا۔ ایسی شاعری کو ہی جزو پیغمبری سے تعبیر کیا گیا ہے۔یورپ سے واپس لوٹنے کے بعد ” بلاد ااسلامیہ“ کے عنوان سے جو نظم لکھی، اس میں مسلمانوں کے جاہ وجلال، ان کی عظمت رفتہ اور ممالک اسلامیہ کے مرکزی مقامات دلی، بغداد، قرطبہ اور قسطنطینیہ کو تمام تر علوم وفنون اور تہذیب وثقافت کا مرکز اور سر چشمہ قرار دینے کے باوجود ان سب کو ” خواب گاہ مصطفی “ حجاز اورمدینہ منورہ کے تقدس اور عظمت و جلال کے سامنے ہیچ اور کمتر تصور کرتے ہیں اور اس کو خاتم ہستی میں نگینے سے تشبیہ دیتے ہیں، کیوں کہ اس کی آغوش میں شہنشہاہ معظم اور اقوام عالم کا ماوا وملجا اور رہبر انسانیت آسودہ خواب ہے۔​
وہ زمیں ہے تو ، مگر اے خواب گاہ مصطفی​
دید ہے کعبے کو تیری حج اکبر سے سوا​
خاتم ہستی میں تو تاباں ہے مانند نگیں​
اپنی عظمت کی ولادت گاہ تھی تیری زمیں​
وہ اگر چہ اپنے جسم وجثے کے ساتھ حجاز مقدس میں فروکش نہ ہو سکے، لیکن ان کے تخیلات کا طائر ہمیشہ مکہ او رمدینہ کی فضاوٴوں میں ہی محو پرواز رہتا تھا۔ عشق نبوی کا جذبہ اتنا شدید تھا کہ حجاز اقدس کی زیارت اور روضئہ اطہر کی زیارت کا کلمہ ہر وقت ان کے ورد زبان رہتا تھا۔اقبال کسی ایسی ہوا کے انتظار میں تھے جو انھیں مکہ او رمدینہ کی مقدس وادیوں کی غبار تک پہنچادے اروہ وہیں کی کنکریلی اور پتھریلی خاک کا پیوند بن جائیں کہ ایک سچے عاشق کے لیے غم دوراں سے نجات اور وصل محبوب کا یہی ایک راستہ ہوسکتا ہے۔​
ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبال​
اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجازکرے​
اوروں کو دیں حضور یہ پیغام زندگی​
میں موت ڈھونڈتاہوں زمین حجاز میں​
بال جبریل کے ایک قصیدے کے درج ذیل شعرمیں لفظوں کے انتخاب اورجملوں کی متناسب نشست نے وہ جامعیت پیدا کردی ہے کہ اس پر طویل تحقیقی مقالے قربان کیے جاسکتے ہیں۔​
نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر​
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یسیں وہی طاہا​
اقبال کے پیغام کا نچوڑ او رماحصل نظریہ خودی میں سما گیا ہے۔ خودیایک سادہ لفظ ہے، مگر اس کی گہرائیوں میں اتریے تو وہ ایک بحر ناپیدا کنار ہے۔خودی کے ترکیبی عناصر کیا ہیں۔ خودی کی تربیت کے کتنے مراحل ہیں، مرد کامل اور مرد مومن کو کن صفات کا مرکز ومحور ہونا چاہیے۔ اقبال نے خودی کے فلسفے کی طولانی بحثوں کو تمام مالہ اورماعلیہ کے ساتھ ان دو شعروں کے قالب میں ڈھال دیا ہے۔​
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی​
خودی کی خلوتوں میں کبریائی​
زمین وآ سمان و کرسی وعرش​
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی​
حیات نبوی ﷺ میں معراج نبوی کی جو اہمیت ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ یہ صر ف ایک نبی کی جسمانی معراج ہی نہیں تھی، بلکہ اس کے دروں میں انسان کی عظمت اور اس کی بلندی کا پیغام بھی پوشیدہ ہے۔ کیا زمین وآسمان، کیا برگ وشجر،اور چاند ستارے، سارے جن و ملائکہ انسان کی عظمت ورفعت کے سامنے ہیچ ہیں۔​
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے​
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں​
علامہ اقبال راہ نبوی میں عشاق کے قافلے کو رہزنوں کے ذریعے لوٹ لیے جانے کو بھی باعث صد افتخار تصور کرتے ہیں۔ اب تو سعودی حکومت کی زبردست حفاظتی خدمات کی وجہہ سے حجاز مقدس کا راستہ پر امن ہو گیا ہے،مگر آج سے چودہ سو سال کا سفر مکہ کسی سند باد کے پر خطر سفر سے کم نہ تھا۔ یہی وجہہ تھی کہ بہت سے لوگ ’ محمل شامی‘ کی معیت میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے تھے ، لیکن علامہ اقبال خوف اور شوق کی کشاکش کو بیان کرتے ہوئے ا س سفر کے خطرات کو بھی بخوشی انگیز کرنے کا در س دیتے ہیں اور اس سفر میں اگر اپنی حقیر سی متاع حیات بھی قربان ہوجائے تو کوئی پروا نہیں کرنا چاہیے کہ اس کا اصلی نشیمن تو راہ شوق میں قربان ہوجانا ہے۔ عشق نبی سے سر شار قلب میں اسی قسم کے تصورات جاگزیں ہو سکتے تھے۔ ” ایک حاجی مدینے کے راستے میں “ یہی کچھ کہتے ہیں:​
خوف کہتا ہے کہ ” یثرب کی طرف تنہا نہ چل“​
شوق کہتا ہے کہ ” تو مسلم ہے بیباکانہ چل“​
گو سلامت محمل شامی کی ہمراہی میں ہے​
عشق کی لذت مگر خطروں کی جاں کاہی میں ہے​
علامہ اقبال مشہور غزلیہ استعارہ باد صبا کے ذریعے بھی اپنا پیغام او راپنے دل کا حال اپنے محبوب سرور کائنات ﷺ تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ مصیبت کے وقت اور مایوسی کے عالم میں یہی ایک قدرتی سہارا انسان کے پاس باقی رہ جاتا ہے۔بانگ دار کی ایک غزل میں کہتے ہیں:​
اے باد صبا کملی والے سے جاکہیو پیغام مرا​
قبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی​
اور کبھی کبھی اپنے محبوب سے شکوہ سنجی بھی کرتے ہیں کہ محبت کا اونچا اور اعلی ترین مقام یہی ہے۔ اے روح محمد ﷺ کا یہ اشعار دیکھیے:​
شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر​
اب توہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے​
اس راز کو اب فاش کر اے روح محمد​
آیات الہی کا نگہبان کدھر جائے​
اقبال اپنے عمیق مطالعے اور مبنی بر تجزیہ مشاہدے کی بنیاد پر اس نتیجے تک پہنچے تھے کہ امت مسلمہ کی زبوں حالی اور ان کی مذہبی وسماجی مشکلات کے حل کی کلید ذات نبوی اور اسوئہ رسول میں پوشیدہ ہے۔ ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہمیں اس لیے دے مارا کہ ہم نے اپنے اسلاف کی میراث گنوادی ۔ علامہ اقبال ہر مصیبت اور پریشانی کے وقت در نبوی پر اپنی جبین نیاز خم کرتے ہیں۔ ان کے تصور سے اپنے مشام جان کو معطر کرتے ہیں اور انھیں کے پرنور مرقد سے دستگیری کی التجا کرتے ہیں۔ علامہ اقبال حضور رسالت مآب کے در دولت پر ہی اپنا دکھڑا سناتے اور اپنی بے کلی اور بے چینی کا سامان تلاش کرتے ہیں۔ بانگ دار کی نظم”خطاب بہ نوجوانان اسلام“ میں انھوں نے مسلم نوجوانوں کو انھی اسلامی خطوط پر غور وفکر کرنے اور انھیں ا پنے بھولے ہوئے ماضی کو یاد کرنے کی تلقین کی ہے کہ اسی راہ سے امت مسلمہ کے درد کا مداوا کیا جاسکتا ہے اور اس کو زندگانی کی پرخار وادیوں سے بآسانی نکالا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال عظمت رفتہ کی بازیابی اور دنیا کے منظرنامے پر اپنی موجودگی درج کرانے کے لیے حضور رسالت مآب ﷺ کے منہاج ومزاج کی پیروی اور ان کے اسوئہ حسنہ کی اتباع کو لازمی قدر قرار دیتے ہیں، کیوں کہ اسوئہ حسنہ کی مکمل اتباع اور آپ کے نقش قدم کی پیروی میں ہی دنیا اور آخرت کی یقینی کامیابی اور سر خروئی کا راز مضمر ہے، جواب شکوہ میں خدائی وعدے کی یاد دہانی کراتے ہوئے یوں نغمہ سر ا ہیں:​
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں کیا چیز ہے لوح وقلم تیرے ہیں


*ABRAR AMAD​
ROOM NO. 21, LOHIT HOSTEL​
JNU, NEW DELHI, 110067​
اس مضمون کی تیاری میں اقبال اور محبت رسول، موٴلفہ ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی، مطبوعہ اقبال اکادمی پاکستان، ۱۹۷۷ء سے بھرپور مدد لی گئی ہے۔للہ موٴلف کو جزائے خیر سے نوازے۔

Thursday, 2 January 2014

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت: میلہ پھول والوں کی سیر

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت: میلہ پھول والوں کی سیر
                                                                             
تین ہزار سال سے زیادہ قدیم شہردہلی کی پیشانی پر ماضی کی عظمتوں کے نقوش کندہ ہیں۔ دہلی ایک شہر ہی نہیں،  مشرقیت سے عبارت بین الاقوامی تہذیب وتمدن کا جلی عنوان بھی ہے۔ مغلیہ عہد کی یادگار عمارتیںقطب مینار، لال قلعہ، جامع مسجد، ہمایوں کا مقبرہ اور انگریزی عہد سے منسوب راشٹر پتی بھون، انڈیا گیٹ جیسے عالمی شہرت کے حامل مقامات کو اپنی گود میں لیے ہونے کی وجہ سے دہلی عالم میں انتخاب کہلاتی ہے۔ اورعالمی راثت کے حامل شہروں کی فہرست میں اندراج کی چوکھٹ پر دستک دے چکی ہے۔ دستور اور آئین کی روشنی میں میسر حقوق کی بناء پرہمارا ملک ہی جمہوری اور سیکولر اقدار کا علم بردار ہے، لیکن دہلی نے جمہوریت اور سیکولرازم کے اصول کی پاسدار ی اور اس کو فروغ دینے میں ملک کے دوسرے شہروں سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیاہے۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ ، پارسی، عیسائی، جین اور بودھ سبھی بھائیوں کی طرح بستے ہیں۔ پانڈؤوں اور مغلوں کے زمانے سے لے کر دہلی کی موجودہ تاریخ کے مدو جزر پر نظر ڈالیے،  تو پتہ چلے گا کہ سارے فرقے نے اپنا خون جگر پلاکر اس شہر کو سیراب کیا ہے۔
 جمنا کے دائیں کنارے آباد اس شہر کے مقام پر دوسرے ناموں سے تقریبا پندرہ شہر آباد ہو چکے ہیں۔ یہاں کئی سلطنتیں قائم ہوئیں، رعب وجلال والے مختلف بادشاہوں نے اس پر حکومت کی، فاتحانہ جذبوں اور جنگی خواہشات کی تکمیل میں اس شہر کا تقدس اور وقار بار بار پامال ہوا، محمد شاہ اورنادر شاہی جنرل احمد شاہ نے ہی صرف اس شہر کوتاخت وتاراج نہیں کیا، بلکہ مرہٹوں، جاٹوں، سکھوں اور روہیلوں نے بھی اس کی عزت وآبرو سے کھلواڑ کیا۔ دہلی اجڑتی اور بستی رہی ، مگر دہلی کی تہذیب، اس کی اقدار اور وضع داری ،اور اس کے عالمی تمدن پر کبھی موت طاری نہیں ہوئی۔ جو دہلی آتا وہ دہلی کے فن وثقافت اور اس کی گلیوں اور حویلیوں پر اس قدر فریفتہ ہوتاکہ یہیں کا ہوکر رہ جاتا، ابراہیم ذوق نے اسی لیے تو کہا تھا:
ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن
کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں کی چھوڑ کر
دہلی ہمیشہ سے مختلف قوموں، متنوع نسلوں اور کئی مذہبی اکائیوں کا گہوارہ رہی ہے۔ قرون وسطی کے حکمرانوں اور مغلوں نے تہذیبی مماثلت اور قومی یک جہتی سے عبارت دہلی کی اس شانداتہذیب کو نہ صرف بڑھاوا دیا، بلکہ فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کے نقش ونگار میں گراں قدر اضافہ بھی کیا۔ مذہبی رواداری، بقائے باہم، قومی یک جہتی، تہذیبی یکسانیت اور ایک دوسرے کے رنج وغم میں شرکت ا س شہر کی تاریخ رہی ہے۔ شاہان ہند نے نہ صرف مشترکہ تہذیب وثقافت کی جم کر حوصلہ افزائی کی، بلکہ مذہبی حدود کو توڑتے ہوئے، غیر مسلم عورتوں سے شادی کرکے انھیں اپنے محل سرا میں مناسب جگہ دی۔ انھوں نے ہندو اور مسلم کے درمیان تفریق اور امتیاز کو کبھی روا نہیں رکھا۔ مسلم بادشاہ جس طرح عید، محرم اور دوسرے درباری تہواروں میں شریک ہوتے تھے، اسی طرح غیر مسلموں کے تہوار ہولی اور دیوالی میں بھی شرکت کو اپنا قومی اور وطنی فریضہ تصور کرتے تھے۔ تاکہ کسی قوم کے اندر تعصب اور مذہبی بنیاد پر تفریق کی شکار نہ ہو۔ اور ملک امن وسلامتی کے ساتھ ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن رہے۔
دہلی کے چنندہ تہواروں میں سے ایک تہوار پھول والوں کی سیر یا سیر گل فروشاں بھی ہے، جومابعد آزادی،  اپنے آغاز ثانی سے لے کر آج تک مسلسل دہلی میں حکومتی سطح پر منایا جاتا ہے ، اس کی افتتاحی اور اختتامی تقریب میں ہمارے قومی حکمراں اور افسران خندہ پیشانی کے ساتھ شریک ہوتے اور اس کا اہتمام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔  یوں تو دہلی میں حکومتی سطح پر بہت سے تہوار آج بھی جوش وخروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں، جن میں مذہبی تہوار بھی ہیں اور غیر مذہبی بھی، لیکن پھول والوں کی سیر کو ان تمام تہواروں میں اپنی رنگا رنگی کی وجہ سے جو امتیاز اورمقا م حاصل ہے، وہ دوسرے تہواروں کو حاصل نہیں۔ یہ ایسا سالانہ تہوار ہے، جس میں دہلی کی صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ اس میلے سے دہلی کی شناخت قائم ہے۔ غالب نے صحیح کہا تھا:’’مغل سلطنت کے دارالحکومت دلی شہر کی شناخت چار چیزوں سے تھی، جن میں سے ایک پھول والوں کی سیر بھی تھی۔‘‘
پھول والوں کی سیر ایک تاریخی میلہ ہے، ایسا میلہ جس کے آغاز وابتداء کی پوری کہانی شاہی ادورا میں مرتب ہونے والی تاریخوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ محفوظ ہے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ متحدہ ہندستان کے مشہور بادشاہ اکبر شاہ ثانی( عہدحکومت:۱۸۳۷- ۱۸۰۶ ء)کے چہیتے بیٹے مرزا جہاں گیر نے لال قلعے میں مقیم ایک انگریز ریزیڈنٹ اسٹین کو کسی ناگوار خاطر بات پر طمانچہ رسید کردیا۔ اس فرنگی کو صاحب عالم کی یہ حرکت پسند نہ آئی۔ اس وقت بادشاہ وقت انگریزوں کے وظیفہ خوار تھے۔ لال قلعہ کے تخت طاؤس پر متمکن تو اکبر شاہ ثانی تھے، مگر حکم کمپنی بہادر کا ہی چلتا تھا۔  انگریز نے اس ہتک آمیز واقعے کی پوری تفصیل کمپنی کو لکھ بھیجی ، تنبیہ کے طور پر یہ سزا تجویز ہوئی کہ تربیت کے لیے شاہزادے مرزا جہاں گیر کو نظر بند کرکے الہ آباد بھیج دیا جائے۔ جہاں گیر کی ماں نواب ممتاز محل کو اپنے لخت جگر کی جدائی کس طرح راس آتی۔ رو رو کر ا ور کلیجہ پیٹ کر ان کا برا حال ہو گیا، مگر کمپنی کے حکم کے سامنے بادشاہ کیا، کسی کو بھی چوں چرا کرنے کی ہمت نہ تھی۔ مہارانی نے خدا کے حضور یہ منت مانی کہ جب ان کے نورنظر مرزا جہاں گیرکو الہ آباد سے رہائی ملے گی، تو وہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائیں گی۔ خدا کے فضل و کرم سے مرزا جہاں گیر اسٹین کے ہی حکم سے رہا ہوکر بسلامت قلعۂ معلی لوٹ آئے۔ خوشی میں الہ آباد سے لے کر دہلی تک پورے راستے میں شاہی طرز پر ان کا زوردار استقبال کیا گیا اور خوشی کے شادیانے بجائے گئے۔ حسب منت بیگم نے اپنی منت پوری کرنے کے لیے شاہی آن بان اور ڈھول تماشے کے ساتھ آستانۂ پاک پر چادر چڑھائی ۔ اس مخصوص درباری تقریب میں شہر دہلی کے ہندو اور مسلمان دونوں نے شرکت کی، مہرولی میں کئی دنوں تک میلہ لگا رہا۔کیا ہندو اور کیا مسلم، سبھی ایک دوسرے کے بغل میں ہاتھ ڈالے، منھ میں پان کی گلوری ڈالے مٹر گشتی کرتے پھرتے تھے۔ بیگم اوربادشاہ وقت کو  پھولوں پر مشتمل چادر چڑھانے کی یہ تقریب اور ہندو مسلمانوں کا مشترکہ میلہ بڑا پسند آیا اور دربار میں یہ تجویز پاس ہوئی کہ یہ میلہ ہر سال بھادوں کے مہینے میں لگایا جائے۔ مہیشور دیال صاحب نے اس میلے کے تاریخی پس منظر پر اس طرح روشنی ڈالی ہے:’’بادشاہ کو یہ میلہ اتنا پسند آیا کہ انھوں نے یہ تجویز کی کہ ہر سال بھادوں کے شروع میں یہ میلہ ہوا کرے اور مسلمان درگاہ شریف پر پر پنکھا چڑھائیں اور ہندو جوگ مایا جی کے مندر پر ، مگر دونوں ہی جگہوں پر ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوں۔‘‘( عالم میں انتخاب- دلی، ص: ۴۹۲، اردو اکادمی دہلی، ۲۰۰۹ء)یہاں یہ بات دل چسپی سے خالی نہ ہوگی کہ راجا یدھسٹر کے عہد کے تعمیر شدہ جوگ مایاجی کے مندر کی از سر نو تعمیر بھی اکبر شاہ ثانی نے کرائی تھی۔
اس طرح پھول والوں کے اس میلے کا آغاز ہوا، جس کو مؤرخین سیر گل فروشاں کے نام سے بھی تعبیرکرتے ہیں۔ آخری مغل تاج دار بہادر شاہ ظفر( عہد حکومت: ۱۸۵۸- ۱۸۳۷ء) نے ہندو اور مسلمان کے مابین مودت ومحبت اور قومی یک جہتی کے تصور کو فروغ دینے کے لیے اس تہوار میں اتنی دل چسپی کا مظاہرہ کیا کہ اپنی حین حیات انھوں نے اس میلے کوترقی کی معراج پر پہنچادیا۔ شاہان وقت اتنے انصاف پسند اور عدل پرور ہوتے تھے کہ وہ جوگ مایا مندر اور خواجہ کے مزار دونوں جگہ خود حاضر ہوتے تھے اور اگر کسی وجہ سے پھول والوں کے قافلے کے ساتھ پہلے دن جوگ مایا مندر میں حاضری ان کے لیے ممکن نہ رہتی تو وہ اگلے روز خواجہ کی درگاہ پر بھی نہیں جاتے تھے، تا کہ ہندو مسلم کسی فریق کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک بار مسلمان بہادر شاہ ظفر کے سامنے بضد ہوگئے کہ قطب صاحب کی درگاہ حضور کی قیام گاہ سے قریب ہے، ہمارے پنکھے کے جلوس کے ساتھ چند قدم چلے چلیں، توانھوں نے کہا:’’کل ہندؤوں کے پنکھے کے ساتھ گیا ہوتا تو تمھارے پنکھے کے ساتھ ضرور چلتا۔ آتش بازی ہندو مسلمان دونوں کی طرف سے چھوٹے گی اس میں شریک ہوں گا۔‘‘(دلی جو ایک شہر تھا، ص:۱۶۹، اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۲۰۰۳ء)
مہینے بھر چلنے والے اس میلے کی بھرپور عکاسی مہیشور دیال کے ان جملوں سے ہو جاتی ہے۔ لکھتے ہیں:’’مہرولی میں مہینوں پہلے سے ٹھہرنے کے بندو بست کیے ہوتے، مکان، کوٹھے، کوٹھریاں، باغ باغیچے سب آباد ہوجاتے۔ تل دھرنے کو جگہ نہ رہتی۔ مہرولی کے بازار کی کایا پلٹ جاتی۔ دکانیں خوب سجتیں۔ دکانوں کے اوپر کوٹھے بھی بڑے قرینے سے سجائے جاتے تھے۔ جھاڑ فانوس، ہانڈیاں لٹکائی جاتی تھیں۔ یار لوگ نہایت نفیس کپڑے پہنے جوئی کے کنٹھے اور موتیا کے ہار گلے میں ڈالے، عطر کے پھوئے کان میں اڑسے، پان چبائے، حقے کا دم لگاتے۔ سیر کا لطف اٹھاتے گھومتے پھرتے۔ بھیڑ اتنی ہوتی کہ کھوئے سے کھوا چھلنے لگتا اور گزرنا مشکل ہو جاتا۔‘‘( عالم میں انتخاب- دلی، ص: ۴۹۵)
شاہی دورختم ہوگیالیکن جوگ مایا مندر اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی یہ تقریب آج بھی زندہ ہے۔
۱۸۵۷ء کی شکست و ریخت اور خون خرابے نے دہلی کی دوسری روایتوںاور ان کے تاریخی حسن وجمال کو متأثر کیاہی، انگریزوں کی سماج دشمن پالیسی اور ہندو مسلم کے درمیان شر انگیزی کی مہم سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یک جہتی کا نمونہ میلہ پھول والوں کی سیر بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ بہادر شاہ ظفر کے رنگون جلا وطن کردیے جانے کے بعد یہ میلہ ضرور جاری رہا، مگر بادشاہ کی سرپرستی اور ان کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے جو رونق، چہل پہل، شان وشوکت،  اخوت و بھائی چارگی اور اتحاد ویک جہتی کی جومسرت بخش فضا قائم رہتی تھی، وہ سب ماضی کی تاریخ کا حصہ بن گئی۔ اس میلے کا وہ زور وشور باقی نہ رہا جس کے لیے یہ میلہ دہلی کے ہندو مسلم، بوڑھے، جوان، بچوں، عورتوں اور شاہ وگدا میں مشہور تھا۔مسلم حکومت کے خاتمے کے بعد اگلے ساٹھ ستر سال کے عرصے نے اس روایت کو اتنا کمزور کردیا کہ ہندستان چھوڑو تحریک کے نتیجے میں اس کے باضابطہ بند کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ لیکن جب برطانوی سامراج کے خلاف ہماری مشترکہ کوششوں سے وطن عزیز ہندستان کو انگریزوں کے ناپاک سایے سے نجات مل گئی ، تو نہ صرف دہلی نے کھلی اور صاف فضا میں دوبارہ امن وسکون کی انگڑائی لی، بلکہ ہندو مسلم دوستی کے پرانے اور تاریخی رشتوں کو بحال کرنے کی فکر بھی سرکاری پیمانے پرتیز ہوگئی۔ ملک ضرور دو لخت ہو گیا تھا، لیکن ہندستانیوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے محبت، خیر سگالی پر مبنی جذبات اور قلبی یگانگت کا جو فطری جذبہ تھا، وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ چنانچہ آزاد ہندستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہرلعل نہرو نے اس میلے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ۱۹۶۲ء میں اس کو دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کی تاریخ میں بھی تبدیلی کردی گئی، اب برسات کے بجائے اس کے انعقاد کے لیے ماہ اکتوبر کا انتخاب کیا گیا۔ اسے تاریخی اتفاق ہی کہا جائے گا کہ یہی سال آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا سواں یوم وفات بھی تھا۔
  اس قدیم تہوار کے ازسر نو احیاء کے حوالے سے انجمن سیر گل فروشاں سوسائٹی نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔  بادشاہ، حشم وخدم اور شہزادے شہزادیوں کا تصور تو قصۂ پارینہ بن گیاہے، اور اگرچہ مغلیہ دور جیسی برادرانہ فضا پر مبنی طلسماتی کیفیت کی بحالی ممکن نہیں رہی ہے،  لیکن دہلی حکومت اور موجودہ انتظامیہ کی کوششوں کو نہ سراہنا بڑی نا انصافی ہوگی، کیوںکہ مغلیہ دور کے بادشاہ جس طرح شاہی دھوم دھام کے ساتھ منھ اندھیرے مہرولی پہنچ کر اس تاریخی تقریب کا اہتمام کیا کرتے تھے، دہلی حکومت نے حوصلے سے کام لیتے ہوئے ان روشن رو ایتی نقوش کی تابندگی اور درخشندگی میں اضافہ کرنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ تہوار ہمارے مشترکہ تہذیبی وراثت کی یادگار ہے، آج بھی اس تہوار کے موقع پر جہاں مہرولی میں خواجہ قطب الدین بختیارکاکی کی درگاہ پر پھولوں کی چادر چڑھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے، وہیں قریب میں ہی واقع جوگ مایا مندر میں بھی پھولوں کا پنکھاپیش کیاجاتا ہے۔ مشترکہ ثقافت اور قومی یک جہتی کو فروغ دینے کے حوالے سے پھول والوں کی سیر کا یہ میلہ دوسروں کے لیے بھی مشعل راہ اور امن کا پیغام بر ثابت ہوا، دوسری ریاستیں بھی اس تہوار کے لیے روایتی پنکھا بھیج کر ہندو مسلم اتحاد کی اس علامت کو زندہ رکھنے میں اپنا بھرپور تعاون دے رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ۲۰۱۱ء میںیہ ہفت روزہ تہوار ۲۸؍ نومبر کو گورنر ہاؤس سے شروع ہو ااور اس کا اختتام ۳؍ نومبر کو مہرولی میں درگاہ پر چادر چڑھانے کی تقریب پر ہوا۔ اکیسویں صدی اطلاعاتی انقلاب کی صدی ہے،  ترقی یافتہ ذرائع ابلاغ: ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے توسط سے مشترکہ تہذیب و ثقافت کے ترجمان اس میلے کے ، بھائی چارے پر مبنی پیغام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچایا جا سکتا ہے۔
*ABRAR AHMAD
ROOM NO, 21, LOHIT HOSTEL
JNU, NEW DELHI 110067