Tuesday, 7 January 2014

علامہ اقبال اور عشق رسول​


علامہ اقبال صرف شاعر نہیں تھے، عظیم المرتبت مفکر اور بلند پایہ فلسفی بھی تھے۔ شاعر بھی ایسے نہیں، جن کے ہاں رومان پروری اور نام نہاد عشق وعاشقی کا عنصر اس درجہ غالب ہو کہ ا ن کا ذہن زمینی حقائق اور سنگلاخ سچائیوں سے منھ موڑ لے ، انھوں نے تو فکر و فن کی دوئی کوایک نا قابل تقسیم اکائی میں تبد یل کردیا تھااور ادب برائے ادب کی تخیلاتی دنیا کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ علامہ اقبال ایسے شاعر تھے جن کے ہاں ادب وسیع تر اسلامی اور سماجی مقاصد کی تکمیل کا مستحکم ذریعہ تھا اور وہ ادب صرف انسان کی جمالیاتی حس کو ہی نہیں محظوظ کرتا تھا،بلکہ اس کے عقل ووجدان، اس کی فکر و خیال اور اس کے سماجی اور معاشرتی تصورات پر بھی ہمہ گیر اور بھرپور طور پر اثر انداز ہوتا تھا۔ اقبال جہاں بڑے شاعر تھے، وہیں اسلامی وملی دردرکھنے والے اور قومی غیرت وحمیت سے سرشار سچے او رپکے مسلمان بھی تھے۔ انھوں نے امت مسلمہ کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے، انھیں فراموش ماضی کی یاد دہانی کرانے اور انھیں خیر امم کے مطلوبہ منصب پر لا کھڑ اکرنے کے لیے پیمبرانہ مقاصد کے تحت شاعری کے ہتھیار سے کام لیا۔ناقدین اپنے مفروضات کی بنیاد پرخواہ کچھ بھی رائے قائم کریں، حقیقت یہ ہے کہ یہی تذکیری دور ان کی شاعری کا نقطئہ عروج ثابت ہوا۔​
علامہ اقبال کی تعلیم و تربیت ایسے اسلامی اور دینی ماحول میں ہوئی تھی کہ اسلام، انبیاء ، صلحاء، صوفیاء اور علمائے کرام سے محبت ایام طفولت میں ہی ان کے خمیر میں رچ بس گئی تھی۔ حب رسول اور عشق نبوی تو ان کے شریانوں میں خون بن کر گردش کرتا تھا۔ بخاری اور مسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمھارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا، جب تک کہ میری محبت تمھارے دل میں اولاد، والدین اور پورے انسانی کنبے کی محبت سے بڑھ کر نہ ہو۔ اس حدیث کے واضح مفہوم پر ایمان رکھتے ہوئے علامہ اقبال حب نبوی اور عشق رسول کو ایمان کی بنیاد واساس تصور کرتے تھے ۔ آپ ﷺ کا نام زبان مبارک پر آتے ہی یا آپﷺ کانام کانوں میں پڑتے ہی احساس وشعور میں سوز وگداز کی برقی لہر دوڑ جاتی اورتفکرات کی لا محدود دنیا میں کھو جاتے تھے اور پر نم آنکھوں سے آنسووں کی جھڑی لگ جاتی تھی۔ ذکر نبوی کیا چھڑ تا کہ ان کے جذبات پر رقت کی کیفیت طاری ہوئی اور وہ چند ثانیوں میں بے قابو اور بے تاب ہو گئے۔ عشق رسول ، صحابئہ کرام سے محبت ان کی شاعری کا جزو اعظم تھا۔ اور عشق نبوی کی آگ نے غیر محبوب کے سارے تصورات کو جلا کر خاکستر کردیا تھا۔علامہ اقبال کی حضور پرنور ﷺ سے والہانہ عقیدت اور محبت اتنی دو آتشہ تھی کہ پنجاب کے ایک صاحب ثروت کی شان دار کوٹھری کے مخملی اور نرم بسترے پر اس لیے رات نہیں گزاری اور پوری رات ایک کرسی پر بیٹھ کر روتے اور سسکتے ہوئے یہ کہہ کر گزاردی کہ ” جس رسول پاک کی جوتیوں کے صدقے میں آج ہم کو یہ مرتبے حاصل ہوئے ہیں، اس نے بوریے پر سو کر زندگی گزاردی تھی۔ “ اگر چہ انھیں مدینہ منورہ اور روضئہ مطہرہ کی زیارت نصیب نہ ہوسکی، اور مقدرات خداوندی کے تحت فریضئہ حج کی ادائیگی کی سبیل موت تک نہ نکل سکی،لیکن سر زمین حجاز اورمدینہ منورہ کی زیارت کی تمنا دل کے ریشے میں اس قدرپیوست ہو گئی تھی کہ گھنٹوں روضئہ نبوی کی سنہری جالیوں کے تصور اور مکہ و مدینہ کی سنگریزو ں والی وادیوں کے تخیل میں گزاردیتے تھے۔ اخیر عمر میں جب کہ شدید بیماری کے سبب اعضائے جسمانی کمزور ہو گئے تھے، یہ ایمانی آرزو اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ سید عبد الرشید فاضل علامہ اقبال کے حب نبوی اور تصور محبوب کے استغراق اور محویت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ذات قدسی صفات سے علامہ کا تعلق اتنا مضبوط تھا کہ تصور کرتے ہی علامہ کی حالت دگر گوں ہو جاتی تھی اور”میں نے خاص لوگوں سے بطور راز ضرور کہا کہ یہ اگر حضور کے مرقد مبارک پر حاضر ہوں گے تو زندہ واپس نہیں آئیں گے۔ وہیں جاں بحق ہوجائیں گے۔“( اقبال اور محبت رسول، ص:۱۴۷)​
علامہ اقبال کی شاعری کو لازوال وجود بخشنے کے لیے عشق اور محبت پر مبنی عنصر ضروری بھی تھا کہ عشق و محبت سے ہی کسی فکر اور کسی فلسفے کو آنچ ملتی ہے۔عشق اور محبت کی قلمرو کی کوئی انتہا نہیں۔ دنیائے آب وگل کا وجود محبت کا ہی رہین منت ہے۔ اگر خدا کو اپنا جلوئہ جہاں آراء دیکھنا منظور نہ ہوتا تو یہ حسین اور رنگ برنگی دنیا عدم سے وجود میں نہ آتی۔ کیا انسان اور کیا حیوان سبھی محبت اور عشق کی مقدس زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ روئے ارضی کا ذرہ ذرہ عشق ومحبت کا منبع اور مرکز ہے۔ اگر عشق ومحبت کے پاکیزہ عناصر سے روئے ارضی خالی ہوجائے تو دنیاتاریکی اور ظلمات کی گہوارہ بن جائے۔ اور سطح ارضی حیوانیت اور درندگی کی آماجگاہ بن جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ عشق کے کئی مدارج ہیں اور اختلاف مدارج ہی محبت اور عشق کے تصورات کے حسن وقبح کا تعین کرتا ہے۔ محبت کی فسوں سازی اور اس کی ہمہ گیری کا ذکر کرتے ہوئے صاحب ر”حمة للعالمین “قاضی محمد سلیمان منصور پوری لکھتے ہیں۔:”محبت ہی قوت قلب ہے۔ محبت ہی غذائے روح ہے۔ محبت ہی قرة عین ہے۔ محبت ہی حیات الابدان ہے، دل کی زندگی، زندگی کی کامیابی، کامیابی کو دوام و بقابخشنے والی، غرض محبت ہی سب کچھ ہے۔ “​
علامہ اقبال بھی کارزار حیات میں عشق او ر محبت کی تاثیرکے قائل تھے۔ عشق ہی آداب خود آگا ہی سکھاتا ہے۔ اسی سے خودی کو استحکام ملتا ہے۔ اور ہر عمل کو عشق ہی دوام وخلودعطاکرتا ہے۔ عشق سے ہی زندگی کو آب وتاب ملتی ہے اور اسی سے زندگی کی تاریک راہیں روشن ہوتی ہیں۔مسجد طرقبہ اور تاج محل کو عشق ومحبت کی طلسمی تاثیر نے ہی دوام بخشا۔ علامہ اقبال عشق کی تاثیر اور اس کے تقدس و پاکیزگی کے حوالے سے کہتے ہیں۔​
عشق دم جبرئیل عشق دل مصطفی​
عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام​
عشق کے مضراب سے نغمئہ تار حیات​
عشق سے نور حیات عشق سے نار حیات​
علامہ اقبال نے سیرت سرور دو عالمﷺ اور قرآن کریم کے عمیق مطالعے کے بعد جو نتیجہ اخذ کیا تھا وہ یہ تھا کہ حضور اکرم ﷺ کی ذات با برکت تمام ظاہری اور باطنی کمالات کا مخزن اور منبع ہے۔ ایمانی تکمیل کے لیے آپ کی ذات تک رسائی ناگزیر ہے۔ اگر کوئی صاحب ایمان ذات اقدس تک رسائی کی دولت سے محروم رہا تو وہ بو لہبیت میں اسیر اور جاہلیت کا گرفتار ہے۔​
قرآن کریم اور احادیث نبوی میں عشق کا لفظ تو استعمال نہیں ہوا ہے، بلکہ اس مفہوم کے لیے ”محبت“ اور ”حب “کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ عربی زبان کی رو سے دنیوی متعلقات کے سبب عشق کے معنی میں ذرا سی کراہیت کا پہلودر آتا ہے۔ لیکن آگے چل کر عشق اور محبت مترادفات کے طور پر استعمال ہونے لگے۔ احتیاط کے پہلو پر عمل کرتے ہوئے بعض مصنفین عشق کے پہلو بہ پہلو محبت کا لفظ بھی استعمال کرتے ہیں۔ محبت کیا ہے۔ سید محمد ذوقی شاہ لکھتے ہیں۔ ” محبت ایک کشش مقناطیسی ہے۔ جو کسی کو کسی کی جانب کھینچتی ہے۔ “​
علامہ اقبال کا دل عشق رسول سے معمور تھا۔ عشق نبوی کی روشنی سے ان کے دل کی پوری کائنات منور تھی۔ دل میں اتنا سوز وگداز تھا کہ سرکار دوعالم کا نام لبوں پرآتے ہی بے تاب ہوجاتے ، ماہی بے آب کی طرح تڑپتے اور اندروں میں زیر وزبر ہونے والے جذبات کا عالم دیدنی ہوتا تھا۔ اقبال شان نبوی میں زبان درازی اور دشنام طرازی تو دور کی بات ہے، ادنی گستاخی کو بھی برداشت نہ کرتے تھے۔ اقبال حب نبوی سے اس قدر سر شار تھے کہ اگر کوئی آپﷺ شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتا تو برہمی کا وہ اظہار کرتے کہ ایسامعلوم ہوتا کہ غصے اور تمتماہٹ کی وجہہ سے پھٹ پڑیں گے ۔ علامہ اقبال عشق رسول کی دولت کو سرّ دین اور عقبی کی کامیابی کا مدار بھی کہتے تھے۔ ایک بار کسی نے آپ کی محفل میں شان اقدس میں گستاخانہ الفاظ ادا کیے تو نہ صرف اس کو اسی موقع پرسخت سست کہا بلکہ تنبیہا اس کو اپنی محفل سے بھی نکلوا دیا کہ حب نبوی کا تقاضا یہی تھا۔اگر آج علامہ اقبال با حیات ہوتے اور سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے بد نام زمانہ مصنفین کی گستاخیوں کا انھیں علم ہوتا تو ان کے رقت آمیز قلب و دماغ پر کیسی قیامت گزرتی اور وہ اس کا کتنا سخت نوٹس لیتے ، اس کا محض اندازہ کیا جاسکتا ہے۔​
نتھو رام نامی شخص نے انگریزی زبان میں تاریخ اسلام نامی کتاب لکھی اور اس میں حضور ﷺ کی شان میں نا زیبا تبصرہ کیا۔مسلمانوں نے اس شاتم رسول کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیا، مگر نتیجہ صفر رہا۔ ہزارہ کے ایک نوجوان عبد القیوم کو اس گستاخانہ مذبوحی حرکت کی خبر ملی، اس کی ایمانی غیرت وحمیت کے سمندر میں وہ جوش آیا کہ اس نے عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران ہی دھاردار چاقوسے اس گستاخ رسول پر حملہ کردیا اور موقع پر ہی اس کا قصہ تمام کردیا۔ عبد القیوم کو سزائے موت ہو گئی، مسلمانوں کے ایک وفد نے ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے کے لیے علامہ اقبال سے در خواست کی اگر وہ اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کریں تو وائسرائے سے مل کران کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کراسکتے ہیں۔ علامہ نے وفد کی باتیں سن کر یہ دریافت کیا کہ کیا عبد القیوم کمزور پڑ گیا ہے؟۔ وفد کے ارکان نے کہا کہ عبد القیوم کمزور کیوں پڑتا، اس نے تو عدالت میں ہر بار اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے اور وہ علی الاعلان یہ کہتا ہے کہ میں نے شہادت اپنی زندگی کی قیمت پر خریدی ہے۔ یہ سن کر علامہ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور کہنے لگے:” جب وہ ( عبد القیوم) کہہ رہا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے تو میں اس کے اجر وثواب کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہوں ؟ کیا تم یہ چاہتے ہوکہ میں ایسے مسلمان کے لیے وائسرائے کی خوشامد کروں جو زندہ رہا تو غازی ہے اور مر گیا تو شہید ہے۔“​
اسی طرح کا ایک اور واقعہ ہے۔ راج پال نامی شخص نے لاہور میں آپ ﷺ کی شان اطہر میں بد زبانی کی۔ انگریزوں کی عدالت نے اس کو بھی قرار واقعی سزاکا مستحق نہیں گردانا۔ آخر غازی علیم الدین کی غیرت ایمانی نے جوش مارا اور اس گستاخ رسول کو جہنم رسید کردیا۔ انھیں بھی عدالت نے سزائے موت دی۔ محبت رسول کی راہ میں پروانہ وار اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے ان شہیدوں کی قربانی نے علامہ کو بہت متأثر کیا اور ”لاہور اور کراچی “ کے عنوان سے تین اشعار پر مشتمل قطعہ کہہ کر ان شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا:​
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ​
قدر وقیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر​
۱۹۰۵ء میں سفر یورپ سے قبل علامہ اقبال بھی غزل کے پیمانے میں روایتی قسم کی نعت لکھا کرتے تھے، لیکن جب یورپ کے سفر نے انھیں مسلمان کردیا اور ان کی فکر اور تخیل نے ایک ہی جست میں سارے فاصلے عبور کرلیے تو انھوں نے حب نبوی سے لبریز وہ نعتیہ مضامین رقم کیے کہ اس کی ہر سطر کیا ہر لفظ سے محبت، عشق، عقیدت، شیفتگی ووارفتگی اور ذوق وشوق کے شرارے پھوٹتے ہیں۔ سفر یورپ کے بعد انھوں نے جو نعتیہ شاعری کی اس کا اسلوب اور لہجہ پہلے سے یکسر مختلف تھا۔ ایسی شاعری کو ہی جزو پیغمبری سے تعبیر کیا گیا ہے۔یورپ سے واپس لوٹنے کے بعد ” بلاد ااسلامیہ“ کے عنوان سے جو نظم لکھی، اس میں مسلمانوں کے جاہ وجلال، ان کی عظمت رفتہ اور ممالک اسلامیہ کے مرکزی مقامات دلی، بغداد، قرطبہ اور قسطنطینیہ کو تمام تر علوم وفنون اور تہذیب وثقافت کا مرکز اور سر چشمہ قرار دینے کے باوجود ان سب کو ” خواب گاہ مصطفی “ حجاز اورمدینہ منورہ کے تقدس اور عظمت و جلال کے سامنے ہیچ اور کمتر تصور کرتے ہیں اور اس کو خاتم ہستی میں نگینے سے تشبیہ دیتے ہیں، کیوں کہ اس کی آغوش میں شہنشہاہ معظم اور اقوام عالم کا ماوا وملجا اور رہبر انسانیت آسودہ خواب ہے۔​
وہ زمیں ہے تو ، مگر اے خواب گاہ مصطفی​
دید ہے کعبے کو تیری حج اکبر سے سوا​
خاتم ہستی میں تو تاباں ہے مانند نگیں​
اپنی عظمت کی ولادت گاہ تھی تیری زمیں​
وہ اگر چہ اپنے جسم وجثے کے ساتھ حجاز مقدس میں فروکش نہ ہو سکے، لیکن ان کے تخیلات کا طائر ہمیشہ مکہ او رمدینہ کی فضاوٴوں میں ہی محو پرواز رہتا تھا۔ عشق نبوی کا جذبہ اتنا شدید تھا کہ حجاز اقدس کی زیارت اور روضئہ اطہر کی زیارت کا کلمہ ہر وقت ان کے ورد زبان رہتا تھا۔اقبال کسی ایسی ہوا کے انتظار میں تھے جو انھیں مکہ او رمدینہ کی مقدس وادیوں کی غبار تک پہنچادے اروہ وہیں کی کنکریلی اور پتھریلی خاک کا پیوند بن جائیں کہ ایک سچے عاشق کے لیے غم دوراں سے نجات اور وصل محبوب کا یہی ایک راستہ ہوسکتا ہے۔​
ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبال​
اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجازکرے​
اوروں کو دیں حضور یہ پیغام زندگی​
میں موت ڈھونڈتاہوں زمین حجاز میں​
بال جبریل کے ایک قصیدے کے درج ذیل شعرمیں لفظوں کے انتخاب اورجملوں کی متناسب نشست نے وہ جامعیت پیدا کردی ہے کہ اس پر طویل تحقیقی مقالے قربان کیے جاسکتے ہیں۔​
نگاہ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر​
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یسیں وہی طاہا​
اقبال کے پیغام کا نچوڑ او رماحصل نظریہ خودی میں سما گیا ہے۔ خودیایک سادہ لفظ ہے، مگر اس کی گہرائیوں میں اتریے تو وہ ایک بحر ناپیدا کنار ہے۔خودی کے ترکیبی عناصر کیا ہیں۔ خودی کی تربیت کے کتنے مراحل ہیں، مرد کامل اور مرد مومن کو کن صفات کا مرکز ومحور ہونا چاہیے۔ اقبال نے خودی کے فلسفے کی طولانی بحثوں کو تمام مالہ اورماعلیہ کے ساتھ ان دو شعروں کے قالب میں ڈھال دیا ہے۔​
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی​
خودی کی خلوتوں میں کبریائی​
زمین وآ سمان و کرسی وعرش​
خودی کی زد میں ہے ساری خدائی​
حیات نبوی ﷺ میں معراج نبوی کی جو اہمیت ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ یہ صر ف ایک نبی کی جسمانی معراج ہی نہیں تھی، بلکہ اس کے دروں میں انسان کی عظمت اور اس کی بلندی کا پیغام بھی پوشیدہ ہے۔ کیا زمین وآسمان، کیا برگ وشجر،اور چاند ستارے، سارے جن و ملائکہ انسان کی عظمت ورفعت کے سامنے ہیچ ہیں۔​
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے​
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں​
علامہ اقبال راہ نبوی میں عشاق کے قافلے کو رہزنوں کے ذریعے لوٹ لیے جانے کو بھی باعث صد افتخار تصور کرتے ہیں۔ اب تو سعودی حکومت کی زبردست حفاظتی خدمات کی وجہہ سے حجاز مقدس کا راستہ پر امن ہو گیا ہے،مگر آج سے چودہ سو سال کا سفر مکہ کسی سند باد کے پر خطر سفر سے کم نہ تھا۔ یہی وجہہ تھی کہ بہت سے لوگ ’ محمل شامی‘ کی معیت میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے تھے ، لیکن علامہ اقبال خوف اور شوق کی کشاکش کو بیان کرتے ہوئے ا س سفر کے خطرات کو بھی بخوشی انگیز کرنے کا در س دیتے ہیں اور اس سفر میں اگر اپنی حقیر سی متاع حیات بھی قربان ہوجائے تو کوئی پروا نہیں کرنا چاہیے کہ اس کا اصلی نشیمن تو راہ شوق میں قربان ہوجانا ہے۔ عشق نبی سے سر شار قلب میں اسی قسم کے تصورات جاگزیں ہو سکتے تھے۔ ” ایک حاجی مدینے کے راستے میں “ یہی کچھ کہتے ہیں:​
خوف کہتا ہے کہ ” یثرب کی طرف تنہا نہ چل“​
شوق کہتا ہے کہ ” تو مسلم ہے بیباکانہ چل“​
گو سلامت محمل شامی کی ہمراہی میں ہے​
عشق کی لذت مگر خطروں کی جاں کاہی میں ہے​
علامہ اقبال مشہور غزلیہ استعارہ باد صبا کے ذریعے بھی اپنا پیغام او راپنے دل کا حال اپنے محبوب سرور کائنات ﷺ تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ مصیبت کے وقت اور مایوسی کے عالم میں یہی ایک قدرتی سہارا انسان کے پاس باقی رہ جاتا ہے۔بانگ دار کی ایک غزل میں کہتے ہیں:​
اے باد صبا کملی والے سے جاکہیو پیغام مرا​
قبضے سے امت بیچاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی​
اور کبھی کبھی اپنے محبوب سے شکوہ سنجی بھی کرتے ہیں کہ محبت کا اونچا اور اعلی ترین مقام یہی ہے۔ اے روح محمد ﷺ کا یہ اشعار دیکھیے:​
شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر​
اب توہی بتا تیرا مسلمان کدھر جائے​
اس راز کو اب فاش کر اے روح محمد​
آیات الہی کا نگہبان کدھر جائے​
اقبال اپنے عمیق مطالعے اور مبنی بر تجزیہ مشاہدے کی بنیاد پر اس نتیجے تک پہنچے تھے کہ امت مسلمہ کی زبوں حالی اور ان کی مذہبی وسماجی مشکلات کے حل کی کلید ذات نبوی اور اسوئہ رسول میں پوشیدہ ہے۔ ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہمیں اس لیے دے مارا کہ ہم نے اپنے اسلاف کی میراث گنوادی ۔ علامہ اقبال ہر مصیبت اور پریشانی کے وقت در نبوی پر اپنی جبین نیاز خم کرتے ہیں۔ ان کے تصور سے اپنے مشام جان کو معطر کرتے ہیں اور انھیں کے پرنور مرقد سے دستگیری کی التجا کرتے ہیں۔ علامہ اقبال حضور رسالت مآب کے در دولت پر ہی اپنا دکھڑا سناتے اور اپنی بے کلی اور بے چینی کا سامان تلاش کرتے ہیں۔ بانگ دار کی نظم”خطاب بہ نوجوانان اسلام“ میں انھوں نے مسلم نوجوانوں کو انھی اسلامی خطوط پر غور وفکر کرنے اور انھیں ا پنے بھولے ہوئے ماضی کو یاد کرنے کی تلقین کی ہے کہ اسی راہ سے امت مسلمہ کے درد کا مداوا کیا جاسکتا ہے اور اس کو زندگانی کی پرخار وادیوں سے بآسانی نکالا جاسکتا ہے۔ علامہ اقبال عظمت رفتہ کی بازیابی اور دنیا کے منظرنامے پر اپنی موجودگی درج کرانے کے لیے حضور رسالت مآب ﷺ کے منہاج ومزاج کی پیروی اور ان کے اسوئہ حسنہ کی اتباع کو لازمی قدر قرار دیتے ہیں، کیوں کہ اسوئہ حسنہ کی مکمل اتباع اور آپ کے نقش قدم کی پیروی میں ہی دنیا اور آخرت کی یقینی کامیابی اور سر خروئی کا راز مضمر ہے، جواب شکوہ میں خدائی وعدے کی یاد دہانی کراتے ہوئے یوں نغمہ سر ا ہیں:​
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں کیا چیز ہے لوح وقلم تیرے ہیں​


​
*ABRAR AMAD​
ROOM NO. 21, LOHIT HOSTEL​
JNU, NEW DELHI, 110067​
​
اس مضمون کی تیاری میں اقبال اور محبت رسول، موٴلفہ ڈاکٹر محمد طاہر فاروقی، مطبوعہ اقبال اکادمی پاکستان، ۱۹۷۷ء سے بھرپور مدد لی گئی ہے۔للہ موٴلف کو جزائے خیر سے نوازے۔

Thursday, 2 January 2014

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت: میلہ پھول والوں کی سیر

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت: میلہ پھول والوں کی سیر
                                                                             
تین ہزار سال سے زیادہ قدیم شہردہلی کی پیشانی پر ماضی کی عظمتوں کے نقوش کندہ ہیں۔ دہلی ایک شہر ہی نہیں،  مشرقیت سے عبارت بین الاقوامی تہذیب وتمدن کا جلی عنوان بھی ہے۔ مغلیہ عہد کی یادگار عمارتیںقطب مینار، لال قلعہ، جامع مسجد، ہمایوں کا مقبرہ اور انگریزی عہد سے منسوب راشٹر پتی بھون، انڈیا گیٹ جیسے عالمی شہرت کے حامل مقامات کو اپنی گود میں لیے ہونے کی وجہ سے دہلی عالم میں انتخاب کہلاتی ہے۔ اورعالمی راثت کے حامل شہروں کی فہرست میں اندراج کی چوکھٹ پر دستک دے چکی ہے۔ دستور اور آئین کی روشنی میں میسر حقوق کی بناء پرہمارا ملک ہی جمہوری اور سیکولر اقدار کا علم بردار ہے، لیکن دہلی نے جمہوریت اور سیکولرازم کے اصول کی پاسدار ی اور اس کو فروغ دینے میں ملک کے دوسرے شہروں سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیاہے۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ ، پارسی، عیسائی، جین اور بودھ سبھی بھائیوں کی طرح بستے ہیں۔ پانڈؤوں اور مغلوں کے زمانے سے لے کر دہلی کی موجودہ تاریخ کے مدو جزر پر نظر ڈالیے،  تو پتہ چلے گا کہ سارے فرقے نے اپنا خون جگر پلاکر اس شہر کو سیراب کیا ہے۔
 جمنا کے دائیں کنارے آباد اس شہر کے مقام پر دوسرے ناموں سے تقریبا پندرہ شہر آباد ہو چکے ہیں۔ یہاں کئی سلطنتیں قائم ہوئیں، رعب وجلال والے مختلف بادشاہوں نے اس پر حکومت کی، فاتحانہ جذبوں اور جنگی خواہشات کی تکمیل میں اس شہر کا تقدس اور وقار بار بار پامال ہوا، محمد شاہ اورنادر شاہی جنرل احمد شاہ نے ہی صرف اس شہر کوتاخت وتاراج نہیں کیا، بلکہ مرہٹوں، جاٹوں، سکھوں اور روہیلوں نے بھی اس کی عزت وآبرو سے کھلواڑ کیا۔ دہلی اجڑتی اور بستی رہی ، مگر دہلی کی تہذیب، اس کی اقدار اور وضع داری ،اور اس کے عالمی تمدن پر کبھی موت طاری نہیں ہوئی۔ جو دہلی آتا وہ دہلی کے فن وثقافت اور اس کی گلیوں اور حویلیوں پر اس قدر فریفتہ ہوتاکہ یہیں کا ہوکر رہ جاتا، ابراہیم ذوق نے اسی لیے تو کہا تھا:
ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن
کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں کی چھوڑ کر
دہلی ہمیشہ سے مختلف قوموں، متنوع نسلوں اور کئی مذہبی اکائیوں کا گہوارہ رہی ہے۔ قرون وسطی کے حکمرانوں اور مغلوں نے تہذیبی مماثلت اور قومی یک جہتی سے عبارت دہلی کی اس شانداتہذیب کو نہ صرف بڑھاوا دیا، بلکہ فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کے نقش ونگار میں گراں قدر اضافہ بھی کیا۔ مذہبی رواداری، بقائے باہم، قومی یک جہتی، تہذیبی یکسانیت اور ایک دوسرے کے رنج وغم میں شرکت ا س شہر کی تاریخ رہی ہے۔ شاہان ہند نے نہ صرف مشترکہ تہذیب وثقافت کی جم کر حوصلہ افزائی کی، بلکہ مذہبی حدود کو توڑتے ہوئے، غیر مسلم عورتوں سے شادی کرکے انھیں اپنے محل سرا میں مناسب جگہ دی۔ انھوں نے ہندو اور مسلم کے درمیان تفریق اور امتیاز کو کبھی روا نہیں رکھا۔ مسلم بادشاہ جس طرح عید، محرم اور دوسرے درباری تہواروں میں شریک ہوتے تھے، اسی طرح غیر مسلموں کے تہوار ہولی اور دیوالی میں بھی شرکت کو اپنا قومی اور وطنی فریضہ تصور کرتے تھے۔ تاکہ کسی قوم کے اندر تعصب اور مذہبی بنیاد پر تفریق کی شکار نہ ہو۔ اور ملک امن وسلامتی کے ساتھ ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن رہے۔
دہلی کے چنندہ تہواروں میں سے ایک تہوار پھول والوں کی سیر یا سیر گل فروشاں بھی ہے، جومابعد آزادی،  اپنے آغاز ثانی سے لے کر آج تک مسلسل دہلی میں حکومتی سطح پر منایا جاتا ہے ، اس کی افتتاحی اور اختتامی تقریب میں ہمارے قومی حکمراں اور افسران خندہ پیشانی کے ساتھ شریک ہوتے اور اس کا اہتمام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔  یوں تو دہلی میں حکومتی سطح پر بہت سے تہوار آج بھی جوش وخروش کے ساتھ منائے جاتے ہیں، جن میں مذہبی تہوار بھی ہیں اور غیر مذہبی بھی، لیکن پھول والوں کی سیر کو ان تمام تہواروں میں اپنی رنگا رنگی کی وجہ سے جو امتیاز اورمقا م حاصل ہے، وہ دوسرے تہواروں کو حاصل نہیں۔ یہ ایسا سالانہ تہوار ہے، جس میں دہلی کی صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ اس میلے سے دہلی کی شناخت قائم ہے۔ غالب نے صحیح کہا تھا:’’مغل سلطنت کے دارالحکومت دلی شہر کی شناخت چار چیزوں سے تھی، جن میں سے ایک پھول والوں کی سیر بھی تھی۔‘‘
پھول والوں کی سیر ایک تاریخی میلہ ہے، ایسا میلہ جس کے آغاز وابتداء کی پوری کہانی شاہی ادورا میں مرتب ہونے والی تاریخوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ محفوظ ہے۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ متحدہ ہندستان کے مشہور بادشاہ اکبر شاہ ثانی( عہدحکومت:۱۸۳۷- ۱۸۰۶ ء)کے چہیتے بیٹے مرزا جہاں گیر نے لال قلعے میں مقیم ایک انگریز ریزیڈنٹ اسٹین کو کسی ناگوار خاطر بات پر طمانچہ رسید کردیا۔ اس فرنگی کو صاحب عالم کی یہ حرکت پسند نہ آئی۔ اس وقت بادشاہ وقت انگریزوں کے وظیفہ خوار تھے۔ لال قلعہ کے تخت طاؤس پر متمکن تو اکبر شاہ ثانی تھے، مگر حکم کمپنی بہادر کا ہی چلتا تھا۔  انگریز نے اس ہتک آمیز واقعے کی پوری تفصیل کمپنی کو لکھ بھیجی ، تنبیہ کے طور پر یہ سزا تجویز ہوئی کہ تربیت کے لیے شاہزادے مرزا جہاں گیر کو نظر بند کرکے الہ آباد بھیج دیا جائے۔ جہاں گیر کی ماں نواب ممتاز محل کو اپنے لخت جگر کی جدائی کس طرح راس آتی۔ رو رو کر ا ور کلیجہ پیٹ کر ان کا برا حال ہو گیا، مگر کمپنی کے حکم کے سامنے بادشاہ کیا، کسی کو بھی چوں چرا کرنے کی ہمت نہ تھی۔ مہارانی نے خدا کے حضور یہ منت مانی کہ جب ان کے نورنظر مرزا جہاں گیرکو الہ آباد سے رہائی ملے گی، تو وہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائیں گی۔ خدا کے فضل و کرم سے مرزا جہاں گیر اسٹین کے ہی حکم سے رہا ہوکر بسلامت قلعۂ معلی لوٹ آئے۔ خوشی میں الہ آباد سے لے کر دہلی تک پورے راستے میں شاہی طرز پر ان کا زوردار استقبال کیا گیا اور خوشی کے شادیانے بجائے گئے۔ حسب منت بیگم نے اپنی منت پوری کرنے کے لیے شاہی آن بان اور ڈھول تماشے کے ساتھ آستانۂ پاک پر چادر چڑھائی ۔ اس مخصوص درباری تقریب میں شہر دہلی کے ہندو اور مسلمان دونوں نے شرکت کی، مہرولی میں کئی دنوں تک میلہ لگا رہا۔کیا ہندو اور کیا مسلم، سبھی ایک دوسرے کے بغل میں ہاتھ ڈالے، منھ میں پان کی گلوری ڈالے مٹر گشتی کرتے پھرتے تھے۔ بیگم اوربادشاہ وقت کو  پھولوں پر مشتمل چادر چڑھانے کی یہ تقریب اور ہندو مسلمانوں کا مشترکہ میلہ بڑا پسند آیا اور دربار میں یہ تجویز پاس ہوئی کہ یہ میلہ ہر سال بھادوں کے مہینے میں لگایا جائے۔ مہیشور دیال صاحب نے اس میلے کے تاریخی پس منظر پر اس طرح روشنی ڈالی ہے:’’بادشاہ کو یہ میلہ اتنا پسند آیا کہ انھوں نے یہ تجویز کی کہ ہر سال بھادوں کے شروع میں یہ میلہ ہوا کرے اور مسلمان درگاہ شریف پر پر پنکھا چڑھائیں اور ہندو جوگ مایا جی کے مندر پر ، مگر دونوں ہی جگہوں پر ہندو اور مسلمان دونوں شریک ہوں۔‘‘( عالم میں انتخاب- دلی، ص: ۴۹۲، اردو اکادمی دہلی، ۲۰۰۹ء)یہاں یہ بات دل چسپی سے خالی نہ ہوگی کہ راجا یدھسٹر کے عہد کے تعمیر شدہ جوگ مایاجی کے مندر کی از سر نو تعمیر بھی اکبر شاہ ثانی نے کرائی تھی۔
اس طرح پھول والوں کے اس میلے کا آغاز ہوا، جس کو مؤرخین سیر گل فروشاں کے نام سے بھی تعبیرکرتے ہیں۔ آخری مغل تاج دار بہادر شاہ ظفر( عہد حکومت: ۱۸۵۸- ۱۸۳۷ء) نے ہندو اور مسلمان کے مابین مودت ومحبت اور قومی یک جہتی کے تصور کو فروغ دینے کے لیے اس تہوار میں اتنی دل چسپی کا مظاہرہ کیا کہ اپنی حین حیات انھوں نے اس میلے کوترقی کی معراج پر پہنچادیا۔ شاہان وقت اتنے انصاف پسند اور عدل پرور ہوتے تھے کہ وہ جوگ مایا مندر اور خواجہ کے مزار دونوں جگہ خود حاضر ہوتے تھے اور اگر کسی وجہ سے پھول والوں کے قافلے کے ساتھ پہلے دن جوگ مایا مندر میں حاضری ان کے لیے ممکن نہ رہتی تو وہ اگلے روز خواجہ کی درگاہ پر بھی نہیں جاتے تھے، تا کہ ہندو مسلم کسی فریق کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک بار مسلمان بہادر شاہ ظفر کے سامنے بضد ہوگئے کہ قطب صاحب کی درگاہ حضور کی قیام گاہ سے قریب ہے، ہمارے پنکھے کے جلوس کے ساتھ چند قدم چلے چلیں، توانھوں نے کہا:’’کل ہندؤوں کے پنکھے کے ساتھ گیا ہوتا تو تمھارے پنکھے کے ساتھ ضرور چلتا۔ آتش بازی ہندو مسلمان دونوں کی طرف سے چھوٹے گی اس میں شریک ہوں گا۔‘‘(دلی جو ایک شہر تھا، ص:۱۶۹، اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس، ۲۰۰۳ء)
مہینے بھر چلنے والے اس میلے کی بھرپور عکاسی مہیشور دیال کے ان جملوں سے ہو جاتی ہے۔ لکھتے ہیں:’’مہرولی میں مہینوں پہلے سے ٹھہرنے کے بندو بست کیے ہوتے، مکان، کوٹھے، کوٹھریاں، باغ باغیچے سب آباد ہوجاتے۔ تل دھرنے کو جگہ نہ رہتی۔ مہرولی کے بازار کی کایا پلٹ جاتی۔ دکانیں خوب سجتیں۔ دکانوں کے اوپر کوٹھے بھی بڑے قرینے سے سجائے جاتے تھے۔ جھاڑ فانوس، ہانڈیاں لٹکائی جاتی تھیں۔ یار لوگ نہایت نفیس کپڑے پہنے جوئی کے کنٹھے اور موتیا کے ہار گلے میں ڈالے، عطر کے پھوئے کان میں اڑسے، پان چبائے، حقے کا دم لگاتے۔ سیر کا لطف اٹھاتے گھومتے پھرتے۔ بھیڑ اتنی ہوتی کہ کھوئے سے کھوا چھلنے لگتا اور گزرنا مشکل ہو جاتا۔‘‘( عالم میں انتخاب- دلی، ص: ۴۹۵)
شاہی دورختم ہوگیالیکن جوگ مایا مندر اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی یہ تقریب آج بھی زندہ ہے۔
۱۸۵۷ء کی شکست و ریخت اور خون خرابے نے دہلی کی دوسری روایتوںاور ان کے تاریخی حسن وجمال کو متأثر کیاہی، انگریزوں کی سماج دشمن پالیسی اور ہندو مسلم کے درمیان شر انگیزی کی مہم سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یک جہتی کا نمونہ میلہ پھول والوں کی سیر بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ بہادر شاہ ظفر کے رنگون جلا وطن کردیے جانے کے بعد یہ میلہ ضرور جاری رہا، مگر بادشاہ کی سرپرستی اور ان کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے جو رونق، چہل پہل، شان وشوکت،  اخوت و بھائی چارگی اور اتحاد ویک جہتی کی جومسرت بخش فضا قائم رہتی تھی، وہ سب ماضی کی تاریخ کا حصہ بن گئی۔ اس میلے کا وہ زور وشور باقی نہ رہا جس کے لیے یہ میلہ دہلی کے ہندو مسلم، بوڑھے، جوان، بچوں، عورتوں اور شاہ وگدا میں مشہور تھا۔مسلم حکومت کے خاتمے کے بعد اگلے ساٹھ ستر سال کے عرصے نے اس روایت کو اتنا کمزور کردیا کہ ہندستان چھوڑو تحریک کے نتیجے میں اس کے باضابطہ بند کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ لیکن جب برطانوی سامراج کے خلاف ہماری مشترکہ کوششوں سے وطن عزیز ہندستان کو انگریزوں کے ناپاک سایے سے نجات مل گئی ، تو نہ صرف دہلی نے کھلی اور صاف فضا میں دوبارہ امن وسکون کی انگڑائی لی، بلکہ ہندو مسلم دوستی کے پرانے اور تاریخی رشتوں کو بحال کرنے کی فکر بھی سرکاری پیمانے پرتیز ہوگئی۔ ملک ضرور دو لخت ہو گیا تھا، لیکن ہندستانیوں کے دل میں ایک دوسرے کے لیے محبت، خیر سگالی پر مبنی جذبات اور قلبی یگانگت کا جو فطری جذبہ تھا، وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ چنانچہ آزاد ہندستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہرلعل نہرو نے اس میلے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ۱۹۶۲ء میں اس کو دوبارہ شروع کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کی تاریخ میں بھی تبدیلی کردی گئی، اب برسات کے بجائے اس کے انعقاد کے لیے ماہ اکتوبر کا انتخاب کیا گیا۔ اسے تاریخی اتفاق ہی کہا جائے گا کہ یہی سال آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا سواں یوم وفات بھی تھا۔
  اس قدیم تہوار کے ازسر نو احیاء کے حوالے سے انجمن سیر گل فروشاں سوسائٹی نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔  بادشاہ، حشم وخدم اور شہزادے شہزادیوں کا تصور تو قصۂ پارینہ بن گیاہے، اور اگرچہ مغلیہ دور جیسی برادرانہ فضا پر مبنی طلسماتی کیفیت کی بحالی ممکن نہیں رہی ہے،  لیکن دہلی حکومت اور موجودہ انتظامیہ کی کوششوں کو نہ سراہنا بڑی نا انصافی ہوگی، کیوںکہ مغلیہ دور کے بادشاہ جس طرح شاہی دھوم دھام کے ساتھ منھ اندھیرے مہرولی پہنچ کر اس تاریخی تقریب کا اہتمام کیا کرتے تھے، دہلی حکومت نے حوصلے سے کام لیتے ہوئے ان روشن رو ایتی نقوش کی تابندگی اور درخشندگی میں اضافہ کرنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑی ہے۔ یہ تہوار ہمارے مشترکہ تہذیبی وراثت کی یادگار ہے، آج بھی اس تہوار کے موقع پر جہاں مہرولی میں خواجہ قطب الدین بختیارکاکی کی درگاہ پر پھولوں کی چادر چڑھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے، وہیں قریب میں ہی واقع جوگ مایا مندر میں بھی پھولوں کا پنکھاپیش کیاجاتا ہے۔ مشترکہ ثقافت اور قومی یک جہتی کو فروغ دینے کے حوالے سے پھول والوں کی سیر کا یہ میلہ دوسروں کے لیے بھی مشعل راہ اور امن کا پیغام بر ثابت ہوا، دوسری ریاستیں بھی اس تہوار کے لیے روایتی پنکھا بھیج کر ہندو مسلم اتحاد کی اس علامت کو زندہ رکھنے میں اپنا بھرپور تعاون دے رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ۲۰۱۱ء میںیہ ہفت روزہ تہوار ۲۸؍ نومبر کو گورنر ہاؤس سے شروع ہو ااور اس کا اختتام ۳؍ نومبر کو مہرولی میں درگاہ پر چادر چڑھانے کی تقریب پر ہوا۔ اکیسویں صدی اطلاعاتی انقلاب کی صدی ہے،  ترقی یافتہ ذرائع ابلاغ: ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ کے توسط سے مشترکہ تہذیب و ثقافت کے ترجمان اس میلے کے ، بھائی چارے پر مبنی پیغام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچایا جا سکتا ہے۔
*ABRAR AHMAD
ROOM NO, 21, LOHIT HOSTEL
JNU, NEW DELHI 110067

Thursday, 3 October 2013

ادب اطفال: عصری حسیت سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت

ادب اطفال: عصری حسیت سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت
ابرار احمد اجراوی*

بچے کسی بھی قوم اور معاشرے کی ہمہ جہت ترقی میں شاہ کلید تصور کیے جا تے ہیں۔ ایک صحت مند اور صالح انسانی سماج کی تعمیرمیں بچے خشت اول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج کے یہ ننھے منے بچے ہی اپنے بے شعوری کے ایام سے صحت منداور صاف ستھرا فکری اور علمی سرمایہ لے کر شعور کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد، قوم و ملت کے لیے حال کی اصلاح و درستگی اور مستقبل کی تعمیر و ترقی میں ایک ذمے دار شہری کی طرح اپنا تعاون دیتے ہیں۔ بشر طیکہ ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور ان کی ذہنی اور فکری پرورش و پر داخت پر ایام طفولت سے ہی گہری نظر رکھی جائے۔ اور ان کی ذہنی سطح کا خیال رکھتے ہوئے ، ان کو ایسا ادبی مواد فراہم کرا یا جائے جو ان کی مستقبل کیِشخصیت، ان کی افتاد طبع اور ان کے اخلاق و کر دار پر مثبت اثر ڈال سکے۔ یہی سبب ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں خاص طور سے یوروپی ممالک میں بچوں کی ذہنی اور فکری نشو و نما کو خاص طور سے مرکز نظر میں رکھا جا تا ہے اور اس عظیم کام کے لیے بر سر اقتدارحکومتیں معقول بجٹ مختص کیا کر تی ہیں۔ لیکن اس کو ایک المیہ ہی کہا جا ئے گا کہ اردو میں ادب اطفال کے تعلق سے بے توجہی اور بے اعتنائی ہر دور میں عام رہی ہے۔ آج کل شاعروں اور ادیبوں کی یہ لا پروائی ایک خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے، جو کسی بھی زاویے سے قوم و ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہمارے یہاں لڑکپن کی عمر کو بیکاری کا دور فرض کر لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک اس شعبے میں سرکاری یا نجی طور پر منظم اور مربوط انداز میں کوئی ایسا منثور یا منظوم کام نہیں ہو سکا ہے، جس پر والدین اور اساتذہ کلیتا اعتماد کر سکیں۔پہلے ترقی کی چکا چوند سے ہمارا معاشرہ آشنا نہیں تھا۔ آج ہر گھر میں ترقی کی برقی لہریں دوڑ رہی ہیں۔ کوئی گھر ایسا نہیں جس میں ٹیلی ویژن ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل وغیرہ کی سہولت میسر نہ ہو۔ ایسی صورت میںبچوں کی ذہنی ترجیحات اور بھی بہت کچھ ہم سے تقاضا کر تی ہیں۔ ہمارے ادیبوں اور دانش وروں اور قومی وملی رہ نماؤں کو ان تمام پہلؤوں پر از سر نو غور کرنے اور پھر ان کی روشنی میں مستقبل کے منصوبے تیار کر نے کی ضرورت ہے۔ ورنہ قوم و وطن کی ترقی دیوانے کا خواب بن کر رہ جا ئے گا۔ علامہ اقبال نے کئی مواقع پر بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دلا تے ہوئے کہا تھا: ’’ اگر بچوں کی تربیت میں خامی رہ جا ئے تو تعمیر قوم ووطن کی بنیاد میںخامی رہ جا ئے گی۔ ‘‘
اردو زبان میں ادب اطفال پر ابتدا سے ہی نثر و نظم کے اکا دکانمونے ملنے شروع ہو جا تے ہیں۔ لیکن ایک مستقل اور علاحدہ ادبی صنف کے طور پر اس کا چلن بہت بعد میں جاکر ہوا۔امیر خسرو کی خالق باری ، میر کی چند نظموںاور غالب کی قادر نامہ کو اس سلسلے میں اولیت کا شرف حاصل ہے۔ ان کتابوں میں اخلاق و کردار کی درستگی، حسن معاشرت اور ہم دردی و انسان نوازی کے اصولوں کوبرتنے پر زور دیا گیا ہے۔ مغلیہ عہد حکومت میں سرکاری زبان کے منصب پر فارسی بلا شرکت غیرے قابض و متصرف رہی ہے۔ اس دور میں فارسی ادبیات ہی بچوں کی درسی کتا بوں میں شامل ہو تی تھیں۔ جو کتابیں موجود تھیں ان میں بھی بچوں کی ذہنی سطح اور ان کی طفلانہ تر جیحات و ضروریات کا پہلو سرے سے نا پید تھا۔ مغلیہ حکومت کی بساط الٹ جا نے کے بعد جب انگریزوں کا اثر و رسوخ ملک پر بڑھنے لگا ، تو انھوں نے اپنی تہذیب و تمدن کا دائرہ اثر وسیع کر نے کے لیے اردو کا ہی سہارا لیا، فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج کا قیام اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، لیکن ان کا مقصد چوں کہ صرف اپنے غلبہ واقتدار کی سر حدوں کی توسیع اور اس کو استحکام بخشنا تھا، اس لیے انھوں نے بھی دانستہ طور پر ادب اطفال کو اپنے ایجنڈے سے باہر ہی رکھا۔ انگریزوں کے قائم کردہ فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج میں اس شعبے کا ذکر ہی نہ تھا۔ حد تو یہ ہے کہ مصلح قوم سر سید اور ان کے رفقائے کار بھی دوسرے اہم منصوبوں کی تشکیل اور تنفیذ میں لگے رہے۔ البتہ انجمن پنجاب میں کر نل ہالرائڈ کی سربراہی میں ہندوستان کی مشترکہ روایات کاترجمان اور گنگا جمنی تہذیب کا آئینہ دار، جو ادب میں وجود میں آیا اس میں کسی نہ کسی طور بچوں کے ادب کو جگہ دی گئی تھی۔ اس عہد میں مو لانا محمد حسین آزاد ، خواجہ الطاف حسین حالی ، علامہ اقبال ، علامہ شبلی ، برج نارائن چکبست ، تلوک چند محروم ، منشی پیارے لال آشوب، اسماعیل میرٹھی وغیرہ ایسے نابغہ روزگار ادیبوں نے اس طرف توجہ دی ، لیکن سوئے اتفاق کہ اس آغاز کو وہ لوگ مستقل روا ج نہ دے سکے۔ ان میں سے اکثر کتابیں درسیات تک محدود تھیں، جن کی طباعت و اشاعت کا بڑا مقصد تجارتی ہو تا ہے۔ درسی کتابوں کے پائیدار اور طویل المیعاد اثر سے انکار ممکن نہیں لیکن ان کتابوں کا استعمال وقتی ضرورت تک محدود رہتا ہے۔ ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد دوسری بار ان کو ہاتھ لگانا بچوں کے لیے ذرا مشکل ہوتا ہے۔ قصے کہانیاں، ڈرامے اورلطیفے وغیرہ بچوں کی ذہنی تفریح کے ساتھ انھیں زندگی کی منزلوں پر کامیابی کے ساتھ بڑھنے کا ہنر بھی سکھاتے ہیں۔ بچے اس قسم کی کتابوں کو بار بار پڑھتے اور ہر بار ایک نئی لذت سے ہم کنار ہو تے ہیں۔
اردو میں ادب اطفال کو بیسویں صدی میںخوب پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ کچھ اور اچھے لکھنے والے اس مہم کا حصہ بنے ۔ مائل خیر آبادی، شفیع الدین نیر، منشی پریم چند ، ڈاکٹر ذاکر حسین، خواجہ حسن نظامی، کرشن چندر اور صالحہ عابد حسین جیسے ادیبوں کا نام لیے بغیر ادب اطفال کی تاریخ ادھوری رہے گی۔اس فہرست میں بہت سے اور ناموں کا اضافہ کیا جا سکتا ہے، لیکن نام شماری میرا مطمح نظر نہیں ۔ غور کر نے کا مقام ہے کہ اپنے وقت کے اتنے بڑے ادیبوں نے ادب اطفال تخلیق کر نے میں کسی جانب داری یا کسی ذہنی تحفظ کا مظاہرہ نہیں کیا ، نہ وہ ایسا کرتے ہوئے کسی احساس کمتری یا کسر نفسی کے مرض کا شکا ر ہوئے، لیکن آج کل کے ادیبوں کے لیے ادب اطفال تخلیق کر نے سے شاید ان کے عزت نفس مجروح ہو تی ہے۔ اسی لیے وہ اس کو اپنی حیثیت عرفی کے کے متصادم اور اپنے ادیبانہ مقام و مرتبے سے فرو تر سمجھتے ہوئے، بچوں کے لیے کچھ بھی لکھنے سے جی چراتے ہیں۔ اگر وہ کچھ لکھتے بھی ہیں تو اس میں بچوں کی نفسیات اور ان کے شعور و ادراک کی سطح کا خیال ان کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ معاصر تخلیق کاروں کواپنے پیش رووں سے سبق لیتے ہوئے اپنی قلمی صلاحیتوں کا رخ اس طرف بھی موڑنا چاہیے، ورنہ آج کی نئی نسل جب جوانی اور شعور کی منزل پر قدم رکھے گی تو انھیں اس نا انصافی کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انھیں سوچنا چاہیے کہ علامہ اقبال جہاں اپنے فکر و فلسفے کی ندرت کاری کے سبب بڑے شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں وہیں ان کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کے اعلی نمونوں سے بچوں کی نفسیات کو بھی محروم نہیں رکھا ہے۔ انھوں نے ایک درجن سے زائد نظمیں بچوں کے لیے کہی ہیں، جو اردو ادب کے ذخیرے کالافانی سرمایہ تصور کی جاتی ہیں۔شفیع الدین نیر تو صرف اس وجہ سے ادبی افق پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکے کہ انھوں نے اپنی تمام تر فنی صلاحیتوں کو بچوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔
اگر بچوں کے لیے جزوی طور قائم مکتبوں اور اداروںکی بات کی جائے تو بہت سے مکتبوں نے اس عنوان سے شہرت و ناموری کی منزل طے کی ہے۔ اور مالی منفعت کے میدان میں بھی وہ کسی محرومی کا شکار نہیں رہے ہیں۔دارالاشاعت پنجاب، مکتبہ حمایت الاسلام اور فیروز سنز لاہور، انڈین پریس الہ آباد، نسیم بک ڈپو لکھنو، مکتبہ الحسنات رام پور، الجمعیۃبک ڈپو دہلی ، ایجو کیشنل بک ہاؤس علی گڑھ ، ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی، مکتبہ جامعہ ، اردو اکادمی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان وغیرہ قومی اداروں نے اس سمت میں پہل کر کے اچھا خاصا ذخیرہ بچوں کے لیے شائع کیا ہے۔ لیکن کیا یہ صورت حال آج بھی بر قرار ہے۔ اس کا جواب یقینا نفی میں ہو گا۔ آج کل کے ناشر حضرات پر مال و زر کی بے لگام ہوس اور زیادہ سے زیادہ منفعت اندوز ی کا بھوت اتنا شدت سے سوار ہے کہ وہ ایسی کتابوں پر اپنا سرمایہ لگانے کو تیار نہیں جن سے منافع کی امید کم ہو۔ یا جن کتابوں کی فروخت کم ہونے کی توقع ہو۔ نجی ادارے کی بات تو چھوڑ دیجیے سرکاری ادارے بھی صرف تجارتی مقاصدکو پیش نظر رکھ کر منافع بخش کتابیں ہی شائع کر تے ہیں۔ اردو اکامی دہلی اور اردو کے فروغ کے لیے قائم کی گئی دوسری ریاستی اکادمیوں کو اس سمت میں پہل کر نے کی ضرورت ہے۔ بچوں کے لیے کوئی ماہ نامہ چھاپ کر ، یا ان کے لیے سال میں قصے کہانیوں کی دوچار کتابیں شائع کر کے اس عظیم فریضے سے سبک دوش نہیں ہو سکتے۔
دوسری علاقائی زبانوں کی بہ نسبت اردو میں بچوں کے لیے جرائد و رسائل کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پہلے جب کہ رسل ورسائل کی سہولت اتنی فراوانی سے میسر نہیں تھی۔ ملک کے اطراف سے بچوں کے لیے سینکڑوں معیاری رسائل شائع ہوتے تھے۔ بچوںکا اخبار، پھول، پیام تعلیم، کھلونا، غنچہ، نونہال، کلیاں، چمن، چاند، گلشن، بچپن وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں، جوبچوں کو مختلف اور متنوع طریقوں سے علمی اور ادبی تفریح کا سامان فراہم کر تے تھے۔ ان میں ایسے قصے اور کہانیاں اور تاریخی واقعات ہو تے تھے جو اپنے اثر آفریں اور دل چسپ اسلوب نگارش میں طلبہ کو خود آموزی پر بھی آمادہ کر تے تھے۔ اب یہ سارے رسائل ماضی کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ صرف چند رسائل ہی آج پابندی کے ساتھ شائع ہو رہے ہیں۔ پیام تعلیم، امنگ، الحسنات وغیرہ آج کل بک اسٹال پر نظر آجاتے ہیں۔ لیکن یہ سارے رسائل بھی وسائل کی قلت اور افراد کار کی لا پروائی کے سبب جاں کنی کے عالم میں ہیں۔ ان کی تعداد اشاعت روز بروز زوال کی طرف گامزن ہے۔ اگر مناسب لکھنے والے قلم کار ان رسالوں کو میسر نہیں ہیں ، تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ رسالے کے ذمے دار حضرات مضمون نگاروں کو معقول معاوضہ نہیں دیتے۔ صرف اردو اکادمی کے رسالے امنگ کا استثنا ہے جو مضمون نگاروں کو ان کی قلمی محنت کے اعتراف میںقلیل معاوضہ فراہم کرتا ہے۔ معاوضوںکے حوالے سے اردو پروگرام نشر کرنے والے ٹیلی ویژن چینلز، ریڈیو اور دوسرے رسالوں کا بھی برا حال ہے ۔ادب اطفال تخلیق کر نے میں جہاں کو تاہی کی اور بہت سی وجوہات ہیں وہیں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ عام طور پر لوگ لازمی تعلیمی اصول ونکات، بچوں کی بنیادی نفسیات اور ان کے شعور و آگہی کی سطحوں سے بھرپور واقفیت نہیں رکھتے۔ نتیجتا بچوں کے جذبات اوران کی خواہشات کی تسکین کا سامان بہم پہنچانے والے عناصر ادبی مواد سے غائب ہو جاتے ہیں۔ ادب اطفال تخلیق کرنا بڑوں کے لیے لکھنے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ ماضی میں جتنے ادیبوں نے ادب اطفال کے میدان میں ملک گیر شہرت حاصل کی ہے ان میں سے اکثر کسی تعلیمی ادارے سے باضابطہ وابستہ تھے۔ اور ان کے لیے ادب تخلیق کر تے وقت اپنے وسیع علم و مطالعہ اور تجربے کی بنیاد پربچوں کے فطری مطالبات ، ان کی مبتدیانہ سوچ اور ان کی ذہنی ترجیحات کو سامنے رکھتے تھے۔ آج کل کے جتنے بھی ادیب ادب اطفال تخلیق کر رہے ہیں وہ اس کو بچوں کے وسیع تر مفاد کے تناظر میں با معنی عمل بنانے کے بجائے صرف اپنی تخلیقی قوت کے اظہار تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
بچوں کے لیے اگر شعری ادب خلق کیا جائے تو اس میں نغمگی اور موسیقیت کا عنصر حاوی ہو نا چاہیے، تاکہ موزوں طبع اورموسیقیت پسند بچے اس سے استفادہ میں کسی قسم کی بد مزگی کا شکار نہ ہوں۔ اگر نثری ادب تخلیق کیا جائے تو آسان اور دلچسپ زبان کے ساتھ اس میں بنیادی کر دار ایسا ہو، جو بچوں کوانسانیت ، بہادری و بیباکی، قوم و ملک کی ترقی کی منصوبہ بندی اور ہم دردی و انسان نوازی جیسے آدرشوں کو اپنانے پر آمادہ کرسکیں۔
آج کا زمانہ ماقبل کے زمانے سے کئی اعتبار سے مختلف ہے، آج کی پسند کا خیال کر تے ہوئے رنگین تصویروں سے مزین کتابیں شائع کی جائیں، تا کہ بچوں کی بصری حس بھی محظوظ ہو سکے۔ کتابت و طباعت اور کاغذ بھی اعلی اور معیاری ہو نا چاہیے تا کہ بچوں کے بصری ذوق کو صحیح غذا میسر آسکے۔ اگر کتابت اچھی ہوگی تو بچوں کے اندر خوش خطی کا رجحان بھی پر وان چڑھے گا۔ کتابوں کی قیمت آسمان کو چھوتی ہوئی نظر نہ آئیں ۔ قیمتیں مناسب ہوں تاکہ غریب فیملی کے بچے بھی کتابیں خرید کر پڑھ سکیں۔ اردو کے ناشرین کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وسائل اور سرمایہ کی قلت کے سبب وہ اپنی مطبوعات کی تشہیر پر مطلوبہ توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے کتابیں عام قارئین کی دسترس سے باہر رہتی ہیں۔ سائنسی ترقیات نے دنیا کو ایک چھوٹے سے گاؤں میں تبدیل کر دیاہے، پوری دنیا سائنسی علوم کی حیران کن ایجادات سے انگشت بدنداں ہے، اب بچوں کv پنچ تنتر کی جانوروں اور پریوں والی افسانوی کہانیوں اور الف لیلی کے جادوئی قصوں میں وہ تفریحی غذا نہیں ملتی، جو حقیقت اور سچائی پر مبنی کسی سائنسی کارنامے کو پڑھ کر ملتی ہے، اس لیے سائنسی مضامین کو بھی ادبی پیرایہ بیان اور سیدھے سادے اسلوب میں شائع کیا جائے تاکہ بچوں کا ذہنی تجسس صحیح رخ پر پر وان چڑ ھ سکے۔ اردو زبان میں سائنسی معلومات پر مشتمل کتابوں کی کمی ہم سب کے لیے باعث فکر ہے۔ اس طرح کی کتابیں معقول معاوضہ دے کر ماہرین فن سے لکھوائی جا سکتی ہیں۔ تاکہ وہ فکر معاش اور روزی روٹی کے جھمیلوںسے آزاد ہو کر تن دہی کے ساتھ اس اہم کام کو انجام دے سکیں۔ صرف نصابی کتابو ںکی اشاعت پر سرمایہ نہ لگا یا جائے اس سے الگ ہٹ کر ایسا مواد بھی شائع کیا جائے، جو بچوں کی شخصیت سازی کے لیے مؤثر اور کار آمد ہو نے کے ساتھ ان کے لیے مشعل راہ ثابت ہو۔
*ABRAR AHMAD
ROOM NO,21/LOHIT HOSTEL
JAWAHARLAL NEHRU UNIVERSITY
NEW DELHI.110067
m: 9910509702

مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ :۱۹۱۲ء سے ۲۰۱۲ء تک

مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ :۱۹۱۲ء سے ۲۰۱۲ء ت

(موجودہ پرنسپل مولانا محمد قاسم کی خدمات کے خصوصی حوالے سے)

یونان ومصرو روما سب مٹ گئے جہاں سے
باقی مگر ہے اب تک نام  ونشاں ہمارا
ابرار احمد اجراوی
جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی، نئی دہلی
موبائل:9910509702
Email:abrarahmadijravi@gmail.com 
دریائے گنگا کے دائیں کنارے آبادپٹنہ صرف ایک شہر ہی نہیں، علم و ادب اور تہذیب و تمدن کا حسین استعارہ بھی ہے۔ اس شہر کے چپے چپے پر تاریخی عظمتوں کے نقوش کندہ ہیں۔ یہاں دریا ئے گنگا کی لہروں کے متوازی علم و ادب، شریعت و طریقت اور معرفت و سلوک کی نہر بھی رواں دواں ہے۔ملک کی قدیم اسلامی تنظیم امارت شرعیہ اور تصوف وسلوک کا مرکزخانقاہ مجیبیہ پٹنہ کی گود میں واقع ہیں۔بدھ مت کے بانی مہایر گوتم بدھ کو اسی سرزمین کے ایک خطے گیا میں، پیپل کے درخت کی چھاؤں میں باطن کا عرفان حاصل ہوا تھا۔ سکھوں کے دسویں گرو گوبند سنگھ نے اسی زمین پر آنکھیں کھولیں۔پٹنہ کا جب بھی ذکر کیا جاتا ہے، ذہن کی اسکرین پر علم و ادب سے عبارت ایک عظیم شہر کی تصویر گردش کرنے لگتی ہے۔مولانا ابو المحاسن سجاد، علامہ سید سلیمان ندوی، مولانا مناظر احسن گیلانی، شاد عظیم آبادی اور علامہ جمیل مظہری کی یہ سرزمین کبھی علم و عمل کے پارکھوں سے محروم نہیں رہی۔ یہاں صرف علم و ادب کا مرکزخدا بخش لائبریری ہی نہیں، پٹنہ یونی ورسٹی اور سیاسی تحریکات کا منبع گاندھی میدان ہی نہیں، بلکہ علوم و معارف کا گہوارہ اور مجاہدین آزادی کا مسکن متحدہ بہار کا قدیم ترین اسلامی ادارہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ بھی ہے۔
تاریخی کتابوں کی گرد جھاڑیے اور ذرا مدرسے کی تعلیمی روداد پر اچٹتی نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ نے جہالت وناخواندگی کے ظلمت کدوں کو علم کی روشنی سے منور کیا ہے، اپنے اطراف واکناف میں علم و ادب کی روشنی پھیلائی ہے اور تعلیمی ومعاشی اعتبار سے ملک کی پسماندہ ترین ریاست بہار کو تعلیم ومعاش کے میدان میں آگے بڑھانے میں انتہائی نمایاں رول ادا کیا ہے۔ علم و ادب ، تاریخ و ثقافت اور تعلیم و سیاست کا وہ کون سا شعبہ ہے، جہاں مدرسہ شمس الہدی پٹنہ سے اکتساب فیض کرنے والے افراد موجود نہیں ہیں۔ یہاں کے فارغین نے دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعدصرف مسند درس و تدریس اور منبر و محراب کو ہی زینت نہیں بخشی، بلکہ عصری علوم کے شعبوں میں بھی اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔علماء، شعرا، خطباء، اطباء کی ایک طویل فہرست ہے، جنھوں نے اس سر چشمۂ علم وفن سے اپنی علمی تشنہ کامی دور کی ہے۔ یہاں کے فصلاء مختلف شعبوں کے صدور اورفیکلٹی کے ڈین بھی بنائے گئے ہیں۔ وہ یونی ورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے ہیں۔ وہ آئی ایس اور آئی پی ایس جیسے ملک کے اعلی ترین عہدوں کو بھی زینت بخش چکے ہیں۔ یہاں کے فضلاء نے مدارس و مکاتب، اسکول اور کالجز اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے اعلی مناصب پر فائز رہ کر قوم و ملت کی رہبری کا فرض انجام دیا ہے۔ ڈائریکٹر ادارہ تحقیقات عربی وفارسی پٹنہ مولانا حسن رضا خاں صاحب،آئی پی ایس اظہار عالم صاحب، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے پروفیسر محمد عزیز شمسی، مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر شمس الضحی صاحب، متھلا یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر عبد المغنی اور قومی  اردوکونسل نئی دہلی کے موجودہ ڈائریکٹراور جے این یو کے استاذ خواجہ محمد اکرام الدین اسی چمنستان شمس الہدی کے گل سرسبد ہیں۔ اتنی متنوع خدمات کے پس پردہ بانی مدرسہ جسٹس نور الہدی کا وہ خلوص پوشیدہ ہے، جس کا مظاہرہ انھوں نے آج سے سو سال قبل اس وقت کیا تھا جب انھوں نے علاقے میں پھیلی جہالت اور بد دینی کو دیکھ کر اپنے والدمحترم مولوی شمس الہدی کی یادگار کے طور پر بنام خدا اس مدرسے کی داغ بیل ڈا لی تھی۔ بانی محترم کے خلوص کا ہی اثر ہے کہ اس مدرسے نے اپنی زندگی کے سو سال کامیابی کے ساتھ پورے کرلیے ہیں۔ اگر بانی مرحوم کے سچے جذبے کی آنچ اس مدرسے کی بنیاد میں شامل نہ ہوتی، تو شاید آج یہ ادارہ شہرت اور ناموری کی اس منزل پر نہ کھڑا ہو تا جہاں یہ آج کھڑا ہے۔ اس دور زوال میں سو سال کا کامیاب سفر انھی اداروں کا نصیبہ ہوا کرتا ہے، جن کی بنیاد میں خدا کے برگزیدہ اور محبوب بندوں کا خون شامل ہوتا ہے۔
جسٹس نورالہدی مرحوم مدرسے کی تعلیمی اور تعمیری ترقی کے لیے ہمیشہ فکر مند رہا کرتے تھے ، انھیں مدرسے کی بقا اور ترقی کی فکر کھائے جاتی تھی اور انھیں یہ خدشہ دامن گیر تھا کہ کہیں میری وفات کے بعد دوسرے موقوفہ اداروں کی طرح یہ مدرسہ بھی غیروں کی ستم رانی اور اپنوں کی ’کرم فرمائی ‘کے سبب موت اور بربادی کی آعوش میں نہ چلا جائے، اس لیے انھوں نے ہمت و حوصلے سے کام لیتے ہوئے۱۹۱۹ء کو اس مدرسے کو حکومت کی تحویل میں دے دیا۔ لیکن سرکار کی تحویل میں جانے والے دوسرے اداروں کی طرح اس پر زوال نہیں آیا، بلکہ آج تک اپنے پرنسپلزاور اساتذہ کی شبانہ روزمحنت کے نتیجے میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔
مدرسہ شمس الہدی کے فضلاء اور فیض یافتگان نے جہاں اس مدرسے کو ترقی کی معراج تک پہنچانے میں اپنا خون جگر جلایا ہے، وہیں اس کو ترقی کے بام عروج تک پہنچانے اور اس ذرے کوآفتاب بنانے میں مدرسے کے فعال اور متحرک پرنسپلز کا بھی کلیدی رول رہا ہے۔ ۱۹۲۰ء میں جب سے یہ مدرسہ حکومت کی تحویل میںگیا ہے، اب تک اس کے ۱۸؍ پرنسپلز مقرر ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے نامور عالم دین مولانا سہول احمد صاحب بھاگل پوری مدرسہ شمس الہدی کے باضابطہ پرنسپل مقرر ہوئے، جن کی مدت کار تقریبا پندرہ سال کے عرصے پر محیط ہے،اس کے بعدبالترتیب مولانا اصغر حسین صاحب، مولانا معین الدین صاحب، مولانا ظفرالدین صاحب، مولانا دیانت حسین صاحب، مولانا ریاست علی ندوی صاحب، مولانا سید شاہ ابو القاسم صاحب، مولانا حفیظ الرحمان صاحب، مولانا سید محمد قاسم صاحب،مولانا سید محمد صدر الحق صاحب، مولانا عبد القیوم صاحب اور مولانا ابو الکلام صاحب قاسمی صاحب اس کی پرنسپل شپ پر فائز رہ چکے ہیں۔
اس وقت عظیم اسلامی درس گاہ دارالعلوم دیوبند کے چشم و چراغ،  جید عالم دین، مشہور مقرر اور جمعیۃ علماء ہند بہار کے صدر نشیں عالمی شہرت کے حامل مولانا محمدقاسم صاحب مدرسے کے پرنسپل ہیں، جنھوں نے ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو اس عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد، ایک سال کے ہی قلیل عرصے میں مدرسہ شمس الہدی کو شہرت و ناموری کی اس منزل پر پہنچا دیا ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے ایک مدت درکار ہوتی ہے۔ اس کومولانا کی عند اللہ مقبولیت اور اقبال مندی ہی سے تعبیر کیا جائے گا کہ صد سالہ جشن شمس الہدی ان کی قابل رشک پرنسپل شپ میں منعقد ہو رہا ہے، جو نہ صرف ریاست بہار کے لیے فخر و مباہات کی بات ہے، بلکہ ہمارے وطن ہندستان کے لیے بالعموم اور پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کے لیے بالخصوص فخر و سعادت کا لمحہ ہے۔ پرنسپل موصوف نے صرف یہی نہیں کہ اس عظیم الشان تاریخ ساز اور باوقار تقریب کے انعقاد کے لیے شہر شہر اور قریہ قریہ وفود بھیج کر، فرزندان توحید کی ذہن سازی کی، بلکہ حکومت کی مشنیری کو بھی اس طرف متوجہ کیا کہ حکومت وقت کے لیے مدارس اسلامیہ اور ریاست بہار کے لیے تمغۂ امتیاز شمس الہدی پٹنہ کے کارناموں اور ملک کی آزادی میں آزادی کی راہوں پر سنت منصور و قیس کو زندہ کرنے والے اس کے فرزندوں کی جستجوئے شہادت سے انحراف کرنا اس کے حق میں نہیں ہوگا۔
مولانا قاسم صاحب نے اپنی پرنسپل شپ میں مدرسہ شمس الہدی کی تصویر اور تقدیر دونوں بدل کررکھ دی ہے۔ انھوں نے شمس الہدی پٹنہ کو دستور و آئین کی روشنی میں ملنے والے حقوق کے حصول کے لیے، حکومت وقت کا در کھٹکھٹا یا ہے، حکومتی مشنیری کو مدارس کے وجود اور ملک کی تعلیمی پسماندگی کو ختم کرنے میں ان کے کردار کا احساس کرایا ہے اور مدرسہ شمس الہدی کا حق واجب مانگ کر مدرسے کے احاطے میں جتنے تعمیری اور تعلیمی ترقیاتی کام کرارہے ہیں، وہ یقینا مدارس اسلامیہ کی تاریخ میں زریں حروف سے لکھا جائے گا۔ مولانا چہرے بشرے اور ظاہر و باطن سے انتہائی شریف اور دین دار اور بڑے کج کلاہ واقع ہوئے ہیں کہ انھوں نے ہجوم دہر میں بھی اپنی وضع نہیں بدلی ہے، لیکن ان کی بزرگی اور ان کا تدین و تقوی اور طہارت وپاکیزگی ان کے سیاسی اور تعلیمی میدانوں میں دوڑ دھوپ کے لیے کبھی مانع نہیں ہوا کہ جب دین سیاست سے جدا ہوجائے توپھر وہ دین باقی نہیں رہتا،  چنگیزیت میں تبدیل ہوجاتا ہے، یوں بھی مذہب اسلام نے دین اور دنیا میں کوئی تفریق روا نہیں رکھی ہے، دونوں ایک دوسرے کے لیے تکملہ اور تتمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
مولانا علمی استعداد اور تدریسی صلاحیت سے مسلح ہونے کے ساتھ میدان خطابت کے بھی شہسوار ہیں۔ انھوں نے شعلہ بیانی اور مزاج کی برق فشانی سے نہیں، بلکہ اپنی سبک خرام شیریں بیانی سے بہت سے منحرف اذہان کو اسلامی تعلیمات کا گرویدہ بنایا ہے کہ اگر تجربے اور مصلحت سے کام لیا جائے، تو پھول کی پتی سے بھی ہیرے کے جگر کو چاک کیا جاسکتا ہے۔ ہندستان اور خاص طور سے ریاست بہار کا کون ایسا شخص ہوگا، جو ان کے زور خطابت کا قائل نہیں ہے۔  وہ صرف پٹنہ ہی میں نہیں، بلکہ قر ب وجوار کے دوسرے اصلاع میں بھی اپنے تعلیمی و اصلاحی خطابات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ ۱۹۸۶ء سے شہر پٹنہ میں عیدین کے امام بھی ہیں، اور پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں عیدین کے موقع پرلاکھوں فرزندان توحید کے مجمع سے ان کا جو عالمانہ اور مدبرانہ خطاب ہوتا ہے، اس میں صرف امت مسلمہ کی دینی اور دنیاوی ترقی کا راز ہی پوشیدہ نہیں ہوتا، بلکہ حکومتی مشنیری بھی بلا تفریق مدہب و ملت ان کے مشوروں سے پھوٹنے والی کرنوں سے روشنی کشید کرتی ہے اور انھی مشوروں کی روشنی میں مستقبل کا لائحۂ عمل تیار کرتی ہے۔
مولانا نے سستے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے بزم سیاست تو نہیں سجائی ، لیکن سیاست کے اسرار و رموز اور حالات کے مدو جزرپر ان کی نظر اتنی گہری ہے کہ میدان سیاست کے ماہرین ان سے باہمی مشاورت اور تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔ وہ حکومت کے وزیر اور کسی سیاسی پارٹی کے باضابطہ ممبر نہیں، لیکن حکومت وقت بہر حال ان کے تفکر و تدبر کا لوہا مانتی ہے۔ مدرسہ شمس الہدی کے احاطے میں ۱۲۴؍ بیڈ پر مشتمل شمس الہدی ہاسٹل کی تعمیر مولانا کے اسی سیاسی اثر و رسوخ کا ثبوت ہے۔ انھوں نے جشن صد سالہ میں جس طرح ادارے کے ابنائے قدیم کے شانہ بشانہ، ملک کے مشاہیر علماء، ممتاز صحافیوں، منتخب دانشوروں اور سیاست دانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاکیا ہے، وہ ان کی سیاسی بصیرت، قائدانہ فراست اور جمہوریت پسندی کا نتیجہ ہے۔ مولانا اسلام پسند ہونے کے ساتھ،  جمہوری اور سیکولر ذہن کے مالک بھی ہیں،وہ مذہبی رواداری، کثرت میں وحدت اور پر امن بقائے باہم کے اصول پر ایمان رکھتے ہیں، وہ سر سید کی طرح ہندو اور مسلم دونوں کو اس ملک کی دو آنکھیں تصور کرتے ہیں،  وہ تعمیری اور تحریکی ذہن رکھتے ہیں اسی لیے مسلکی اور گروہی تعصب سے دور رہتے ہیںکہ اس وقت مسلکی اور گروہی تعصب ملک و قوم کے لیے انتہائی ضرر رساں ہے، قوم کو اس وقت تعمیری اور اتحادی خطوط پر سوچنے والے رہبر کی صرورت ہے، مولانا نہ صرف یہ کہ تعمیر وترقی اور اتحاد واتفاق میں حد درجہ یقین رکھتے ہیں، بلکہ ملک کے تمام گروہوں کو اتحاد و اتفاق کی لڑی میں پرونا بھی چاہتے ہیں۔وہ اتحاد بین المسلمین کے علم بردار رہے ہیں، مولانا نے اپنے دہن رسا سے اس نکتے کو دریافت کرلیا ہے کہ ایک کثیر قومی، کثیر لسانی اور کثیر ثقافتی ملک میں گروہی اختلافات کسی بھی طرح مفید نہیں ہے۔اس لیے وہ اپنی تحریروں اور تقریروں کے دریعے ’بتان رنگ و بو کو توڑکر ملت میں گم ہوجانے‘ کی پر زور صدا لگاتے رہتے ہیں۔شاید مولانا کے پیش نظر معمار دارالعلوم دیوبندقاسم العلوم والخیرات مولانا محمدقاسم نانوتوی کا یہ قول رہتا ہے کہ:
’’ فی زماننا کفار کا غلبہ ہے۔ وقت نہیں ہے کہ مسلمانوں میں تفریق کو ہوا دی جائے، جس سے ان کا کلمہ متفرق ہوکر مزید ضعف پیدا ہو، بلکہ توڑنے کے بجائے جوڑنے کی فکر کی جائے۔‘‘(سوانح قاسمی، ج:۱، ص:۴۸۰)
شمس الہدی کے جشن صد سالہ کے موقع پر ایک ہی اسٹیج پر مسٹر اور ملا کو ایک کرنے کی حکمت عملی مولانا کی دور رسی اور امت مسلمہ کو کلمۂ لاالہ الا اللہ کی بنیاد پرمتحد رکھنے کی ہی ایک کوشش ہے۔ اتنے بڑے اجتماع کے انعقاد نے یہ ثابت کردیا ہے کہ مولانا کے اندر قیادت و سیادت کے ساتھ یقین محکم اور عمل پیہم کا جذبہ موجود ہے، جو کسی بھی شخص کے لیے جہاد زندگانی میں کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ مولانا قاسم صاحب اپنے جہد و عمل کی دنیا بسانا جانتے ہیں،وہ صرف گفتار کے نہیں، بلکہ کردار کے غازی ہیں، ان کا دہن سکہ بند نہیں ہے،  وہ دوسروں کے چھوڑے ہوے نوالوں کو منھ نہیں لگاتے، نہ دوسروں کی اندھی تقلید کے روا دار ہیں، انھوں نے علامہ اقبال کے اس شعر کی سریت کی ڈور اپنے ہاتھوں میں تھام رکھی ہے کہ:
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سر آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
مولانا قاسم صاحب نے مدرسہ شمس الہدی اور ملت اسلامیہ کی تعمیر و ترقی اور اس کے مستقبل کے منصوبوں میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے جو تگ و تاز اور انتھک جدو جہد کی ہے، وہ ان کے خلوص ومحبت اور سوزو ساز کا مظہر ہے۔ وہ سب کچھ اس طرح بے نفسی کے عالم میں انجام دیتے ہیں کہ نہ حکومت سے ستائش کی تمناپالتے ہیں اور نہ یاران با وفا سے کسی صلے کی امید باندھتے ہیں۔ مولانا کی امیدیں تو قلیل ہیں،لیکن ان کے مقاصد کی دنیا بڑی وسیع ہے۔ وہ رزم وبزم دونوں جگہ سبک خرامی کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔ وہ تحرک وفعالیت کا سنگم ہیں اور کسی ادارے کے قائد کے لیے قیادت کی جتنی صفات مطلوب ہوسکتی ہیں، وہ ان کے اندر مجتمع ہیں، شاعر نے صحیح کہا ہے کہ:
نگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
صد سالہ جشن کا انعقاد فخر ومسرت کا لمحہ ضرور ہے کہ کسی ادارے کے لیے سو سال کا سفر معمولی بات نہیں ہوتی، لیکن اس وقت ہمیں اپنی کامیابیوں پر اظہار مسرت کے ساتھ احتساب دات اور دروں بینی کا بھی نمونہ پیش کرنا چاہیے کیوں کہ ہمارے دین کی حقیقت ہی احتساب کائنات سے عبارت ہے۔ اگر احتساب کی صفت نہ ہو تو ہمیں اپنی کمیوں کی تلافی کرنے کا موقع نہیں مل سکتا۔انسان تو خطا اور نسیان کا مرکب ہے۔ اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کر نے کے بعد ہی ہم مستقبل کی راہ پر خار طے کرکے منزل مقصود تک رسائی کی توقع کرسکتے ہیں۔خود احتسابی سے مستقبل کی راہیں روشن ہوتی ہیں، جب کہ حد سے زیادہ خوش فہمی اور تفاخر کا جذبہ تاریکیوں اور ناکامیوں کے در کھول دیتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آزادی کے ۶۵؍ سال بعدبھی ہمارے مسلم علاقوں کا تعلیمی اعتبار سے بہت ہی برا حال ہے؟۔ سچر کمیٹی اوررنگاناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ نے ہماری تعلیمی اور معاشی بد حالی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ آج تعلیم سے زیادہ ہم دو وقت کی روٹی اور معاش کی فکر زیادہ کرنے لگے ہیں۔امت مسلمہ کے بحر کی موجوں میں وہ اضطراب والتہاب کہا ںہے، جو کسی قوم کی ترقی کے لیے مطلوب ہے۔ جسٹس نور الہدی نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے جس احساس سے مجبور ہوکر اس مدرسے کی تعمیر کا بیڑ اٹھایا تھا، کیا آج بھی اس قسم کے حالات سے ہمارا معاشرہ دو چار نہیں ہے؟۔ کیا آج بھی اسی قسم کی بے حسی ہمارے معاشرے پر طاری نہیں ہے؟کیا اس وقت بھی مدرسہ شمس الہدی کی وہی تعلیمی أب وتاب برقرار ہے، جس کا خواب اس کے بانی اور متولی جسٹس نور الہدی نے دیکھا تھا۔ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ شمس الہدی اپنے اساسی اغراض ومقاصد سے دور ہوتا جارہا ہے؟حکومت وقت کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنے کرداروعمل کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اورمسلم اداروں کے تعلق سے اپنے کردار کا جائزہ لینے کی صرورت ہے۔ مدرسہ ایگزامنیشن بورڈ، ملحقہ مدارس،ادارہ تحقیقات عربی وفارسی اور مولانا مظہر الحق عربی فارسی یونی ورسٹی بھی مدرسہ شمس الہدی کا ہی ایک حصہ ہے۔ کیا حکومت ان اداروں کی بھی ہمہ جہت تعلیمی اور تعمیری ترقی کے لیے کوشاں ہے؟ کیا ہماری حکومت ہندی اور اردو کے ساتھ عربی اور فارسی کو بھی تعلیمی نظام کا حصہ بنانے اور اس کی ترقی کے لیے فکر مند ہے؟ماضی کی کمیوں کے دریچے میں جھانکنے کا یہی احساس ہمیں زندگی کی راہوں پر کچھ کرنے اور امت مسلمہ کو تعلیمی میدان میں آگے برھانے کے لیے مہمیز کرتا رہے گا۔ ہمیں ہمیشہ اس تصور کو سینے سے لگائے رکھنا ہوگا کہ’ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘۔ ’بندۂ حر کے لیے جہاں میں فراغ‘ کہاں ہے۔ تعلیمی راہ کے مسافر کے لیے کہیں ٹھہراؤ اور منتہائے سفر نہیں۔مجھے یقین ہے کہ علم و عمل کا یہ کارواں ہمیشہ تازہ دم رہے گا اور تعلیمی راہوں پر رواں دواں رہے گا کیوں کہ مولانا محمد قاسم صاحب میں وہی درد اور وہی احساس موجود ہے، جو اس ادارے کے بانی ا ول کے دروں میں موج زن تھا۔ مولانا محمد قاسم صاحب میں بھی وہی لے اور وہی نے اور وہی رنگ وآہنگ مو جود ہے، جو بانی مرحوم جسٹس نورالہدی مرحوم کی زندگی کا شناخت نامہ تھا۔
امت مسلمہ کی تعلیمی اور سیاسی ترقی کے لیے جتنی لگن اور بے نفسی کے ساتھ مولاناعمر کے اس مرحلے میں بھی دوڑدھوپ کرتے ہیں وہ یقینا ہمارے نو عمرمعاصرین کے لیے قابل رشک اور لائق تقلید ہے۔ چوں کہ رہ تعلیم کے مسافروں کی کوئی حتمی منزل نہیں ہوتی، اس لیے میں ان سے علامہ اقبال کی زبان میں بس یہی استدعاء کرسکتا ہوں کہ:
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول

عہد وسطیٰ میں مسلم حکمرانوں کی رواداری


                                                                                       ابرار احمد اجراوی*
جنت نشاں غیر منقسم ہندوستان کے طول وعرض پر کم و بیش آٹھ سو سال تک کئی مسلم خاندانوں نے حکومت کی ہے اور ہرخاندان سے تعلق رکھنے والے بادشاہ نے ہندستان کے تاج زرنگار اور اس کے تخت طاؤس میں نت نئے گل بوٹوں کا اضافہ کیا ہے۔ چمنستان ہند کی آبیاری اور اس کی ہمہ جہت ترقی اور خوش حالی ان کی حیات مستعار کا شیوہ تھا۔رواداری،وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرنا اور پر امن بقائے باہم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو برقراررکھنا ان کی حاکمانہ زندگی کا طرۂ امتیاز تھا۔ان کے حریم حکومت میں ہندو مسلم یا سکھ عیسائی کی کوئی مذہبی یا نسلی تفریق نہیں تھی۔ انھوں نے کثرت میں وحدت سے عبارت یہاں کی گنگا جمنی تہذیب اور بھائی چارہ کے تصور کو فروغ دینے میں کسی طبقاتی یا مدہبی تعصب کا مظاہرہ نہیں کیا۔عہد وسطی میں مسلم حکمرانوں نے امن و سلامتی اور صلح وآشتی  کے آدرشوں کو رو بہ عمل لاتے ہوئے،جس شاندار طریقہ سے حکومت کی ہے، وہ ہندوستانی تاریخ کاہی نہیں، عالمی تاریخ کا بھی ایک روشن اور باعث صد افتخار باب ہے،سر زمین ہند سے ان مسلم بادشاہوں کی اٹوٹ محبت کا اندازہ کرنے کے لیے بس اتنا جان لینا کافی ہے کہ وہ یہاں مختلف سماجی، تجارتی اور سیاسی وجوہ کی بناء پرآئے ، لیکن ایک بارقدم رکھنے کے بعد اپنے آبائو اجداد کے مسکن و مدفن اورجان سے زیادہ عزیز اپنی جائے پیدائش کی طرف مڑ کربھی نہیں دیکھا،بلکہ یہاں کی خاک سے اس قدر محبت، دل چسپی اور وابستگی بڑھ گئی کہ وہ یہیں کے ہو کر رہ گئے ،  ان کے اخلاف اور اولاد واحفاد نے بھی اسی مٹی پر جنم لیا اور یہیں کی خاک کو اپنی آخری آرام گاہ بھی بنایا۔یہ مسلم حکمراں عرب و ترکی اور افغانستان و ایران سے آئے تھے، لیکن کسی نے بھی یہاں عربستان یا ترکمانستان و افغانستان بنانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ وطن عزیز ہندستان کی وحدت اور سالمیت کو ایک جاں باز اور وفادار سپاہی کی طرح تحفظ فراہم کیا۔ اور یہ ملک ہندستان ہی رہا۔انھوں نے اس خطۂ زمین سے اپنے مادر وطن کی طرح پیار کیا۔ انہوں نے جہاں اسلامی تہذیب وثقافت کی جو صحیح معنوں میں انسانیت و شرافت اور اعلی انسانی اقدار سے عبارت تھی،ترویج وترقی اور توسیع وتبلیغ کے عمل کو مذہبی فریضہ کے تحت انجام دیاوہیں رواداری، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورخوشگوار برادرانہ تعلقات کا عملی مظاہرہ بھی پیش کیا، انھوں نے آج کے حکمرانوں کی طرح جات پات ،نسلی تفریق اونچ نیچ اور مذہبی خطوط پر نظام حکومت وضع نہیں کیا،بلکہ ان کی حکومت عدل وانصاف، مودت ومحبت ، بھائی چارگی او ر مساوات کی اعلیٰ اور پائیدار بنیادوں پر ہی قائم ہوتی تھی۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ رواداری، بقائے باہم کا عالمی تصور اورخاص طور سے یہاں کے غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ برتاؤ ان مسلم حکمرانوں کا طرۂ امتیاز تھا۔ غیر مسلموں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی نگہداشت کے حوالے سے وہ بہت محتاط رہتے تھے۔ فرض شناسی اور عدل گستری ان کی زندگی کا شناخت نامہ تھی۔ ان کے اندروسعت ظرفی اور فراخدلی اس حدتک تھی کہ وہ ان کے مذہبی رسم ورواج اور ان کی خصوصی مذہبی تقاریب میںبھی بصد خوشی شرکت کرنے کے حامی تھے،جن کے طریقۂ کار اسلام مخالف تھے۔ ہندؤں کے تہذیبی اور معاشرتی وجود سے انہیں کسی بھی درجے میں تنفرنہیں تھا۔ وہ مختلف اقوام وملل کا پاس ولحاظ اور ان کے حقوق ومطالبات کاپورا احترام کرتے تھے۔ ان کے عہد حکومت میں شہریوں کے مابین قومی یک جہتی کا تصور بدرجۂ اتم موجود تھا۔ سماجی مساوات اور قانونی ومعاشی انصاف نظامہائے حکومت کی اساس تھا۔
ان تمام تاریخی حقائق کے باوجود المیہ یہ ہے کہ معاصر ہندوستان کے اکثر تاریخ نویس سیاست سے مرعوب اور گردوپیش کے حالات سے متأثر نظر آتے ہیں، انہوںنے چند ذاتی اغراض ومقاصد کے پیش نظراور چند ٹکوں کے حصول کے لیے تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کو تسکین دی ہے۔ ان  کی غلط تاریخ نگاری کی وجہ سے ہندوستان کی سچی اور مبنی برحقائق تاریخ جھوٹ اور افتراء پر دازیوں کا آمیز ہ بن کر رہ گئی ہے۔ زیادہ تر یوروپین مؤرخین اور سفید فام انگریزوں نے ’’لڑاؤاور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ہمارے اسلاف اورمسلم حکمرانوں کے معجزاتی اور عدیم المثل کارناموں کو آگ اگلتی تحریروں اور شرارت بھری تقریروں سے کچھ اس طرح پیش کیا ہے کہ اس سے معصوم اذہان بھی پر ا گندہ ہوگئے۔ ان کی طرف سے شائع ہونے والے لٹریچراور تاریخی کتابوں سے جو اثرات مرتب ہوئے اس سے فرقہ واریت کی مزید آبیاری ہوئی۔انھوں نے فرقہ واریت اور ہندو مسلم منافرت کی جو تخم ریزی کی تھی، اسی کی فصل آج کے فاشسٹ اذہان کے لوگ کاٹ رہے ہیںاور فرقہ پرستی کا زہر ہندستان کے جسم نازک میں گھول رہے ہیں۔
برطانوی سامراج نفرت وحقارت اور فرقہ پرستی کا جو بیج بو کر ہندوستان سے گیا تھا وہ آج ایک تنا ور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ریاستوں کے سرکاری اسکولوں میں ایسی کتابیںداخل نصاب کردی گئیں اورہنوز کی جارہی ہیں جن سے مسلم دور حکومت اور مسلم حکمرانوں کی غلط تصویر کشی ہو تی ہے۔ مسلم حکمرانوں پر یہ الزام عائد کیا گیاہے کہ وہ بت شکن تھے۔ ہندو مخالف تھے۔مندروں کی مسماری اور غیر مسلموں کے عبادت خانوں کا انہدام حکومت کی منظم اور منصوبہ بندسازش تھی۔ وہ جبراً ہندوؤں کو مسلمان بناتے تھے۔غیر مسلموں کو حکومتی مراعات سے محروم رکھتے تھے۔
جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، تاریخی حقائق بتلاتے ہیں کہ مسلم حکمراں بہت ہی روادار، رحم دل اور فراخ دل ہوتے تھے، کسی بھی مسلم بادشاہ کی اسٹیٹ پالیسی یہ نہیں تھی کہ غیر مسلموں کو جبراً مسلمان بنایا جائے اور انھیںتبدیلی مذہب پر مجبور کیا جائے ، مندروں اور بتوں کو توڑ ا جائے ، اس طرح کی ہندو مخالف پالیسی ان سے منسوب کرنا سراسر تاریخی بددیانتی ہے۔
مشہو رمؤرخ خلیق احمد نظامی بجا طور پرلکھتے ہیں: ’’ ہندوؤں کو نہ صرف پوری مذہبی آزادی حاصل تھی بلکہ ان کے رسوم وعقائد ، فلسفہ وافکار کونہایت ہی ہمدردانہ طور پر سمجھنے کی کوشش کی جاتی تھی ، بت پرستی پر طعنہ کے بجائے مسلمان ان کے جذبوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے‘‘۔ (سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات:۷۴) ذیل کی سطروں میں چند مسلم حکم رانوں کا تذکرہ تاریخی حقائق کی روشنی میں کیا جارہاہے۔تاکہ مبالغہ اور بے جا الزامات سے مبرا اور منزہ ان کی صحیح تصویر ابھر کر سامنے آسکے اور فرقہ پرست طاقتوں اور ملک کے فاششسٹ عناصر کو ان کا منھتاریخ کے سچے آئینے میں دکھا سکے۔
جواں سال محمدبن قاسم پہلا مسلم شخص ہے جس نے سب سے پہلے سر زمین ہند پر قدم رکھا تھا۔ انھوں نے راجہ داہر کو اس کی بد عہدی اور وعدہ خلافی کی وجہ سے جنگ کے میدان میں شکست دی تھی اور جب ہزیمت کا کشکول اس کے ہاتھوں میں تھماکر ،سندھ میں تخت نشین ہوا تو یہاں ہندؤں کے ساتھ روادارانہ اور دوستانہ تعلقات کا ایک خوشگوار اور قابل رشک تصور پیش کیا، جمہوریت اور سیکولرازم ان کے طرز حکومت کا شناخت نامہ تھا، ان کے عہد حکومت میںہندوؤں اور بودھوں کو پوری مذہبی آزادی دی گئی ، کسی سے مدہب اور سماج کی بنیاد پر تعرض نہیں کیاجاتا تھا۔ انھوں نے حکومت میں سب کو حصول معاش کامساوی موقع فراہم کیا اوران کو بڑے قابل قدر عہدے تفویض کئے گئے۔ ایک غیر مسلم کاک ان کے دور حکومت میں وزارت اعلی کے قابل قدر عہدے پر فائز تھا۔ لیکن پھر بھی محمد بن قاسم زعفرانیت کا شکار برادران وطن کی نظروں میں ظالم اور ہندو دشمن قرار دیا جاتا ہے۔مسٹر چونی لال نے اپنے تحقیقی مضمون میں حقیقت کی نقاب کشائی کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’ محمد بن قاسم ہندوؤں کی سوشل اور مذہبی رسومات واعتقادات کی عزت کرتاتھا، ہندوؤں کی سوشل اور مذہبی انسٹی ٹیوشنوں میں کوئی مداخلت نہیں کرتا تھا‘‘۔ (اسلام اور غیر مسلم : ۱۷۵)
 شرپسندعناصر نے یہ مفروضہ طشت ازبام کررکھا ہے کہ محمود غزنوی ایک تنگ دل اور متعصب مسلم حکمراں تھا،وہ ہندوؤں سے دشمنی رکھتا تھا،اس نے غیر مسلموں سے ان کی مذہبی اور سماجی آزادی سلب کرلی تھی، جب کہ تاریخی حقائق کچھ اور کہتے ہیں۔میدان جنگ کی بات دوسری ہے، یہاں تو ایک بھائی دوسرے بھائی کی گردن مارنے کے درپے ہوتا ہے۔ ورنہ محمود غزنوی تو اہنسا اورعدم تشدد کا داعی تھا۔ ان کی رحم دلی اور نرم خوئی کا اندازہ لگانے کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ راجپال ، انند پال اور دیگر ہندوراجاؤں کی مسلسل ناقابل برداشت بدعہدیوں کے باوجودجب وہ ان کے مد مقابل ہوتے تھے، وہ ان سے چشم پوشی اور درگزرکر تے تھے۔ ہزاروں غیر مسلم فوجی ان کے دفاعی نظام میں سپہ سالار اور سپاہی کی حیثیت سے موجود تھے۔تلک سندر اور بیج ناتھ کو انھوں نے جنرل کے عہدے پر فائز کیا تھا۔محمود غزنوی ہی وہ مسلم حکمراں ہے جس نے سومنات کا مفتوحہ علاقہ راجہ سکھ پال کو عطیہ میں دے دیا تھا، یہ وہی راجا سکھ پال ہے جس نے کئی بار عہد و پیمان شکنی کا ارتکاب کیا تھا ۔ محمود غزنوی کی رواداری کا یہ عالم تھا کہ اس نے عیر مسلموں کی دل جوئی کے لیے اپنی حکومت کے سکہ کے ایک جانب عربی میں تو دوسری جانب ہندؤوں کی متبرک مدہبی زبان سنسکرت میں عبارت نقش کرائی تھی۔ان تمام واشگاف حقائق کے باوجود محمودغزنوی ظالم و جابر اور متعصب و تنگ نظر ہے۔زعفرانیت زدہ لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے مسٹر الفنسٹن کا مندرجہ ذیل اعتراف کافی ہے، وہ کہتا ہے:’’ ہم ایک مثال بھی ایسی نہیں سنتے کہ اس نے (محمود غزنوی نے) کسی ہندو کو جبراً مسلمان بنایاہو، ایک شہادت بھی ایسی نہیں کہ جنگ یا قلعہ گیری کے موقع کے سوا اس نے کسی ہندو کو قتل کروایا ہو‘‘۔(تاریخ ہند: ۳۳۶)
محمد غوری اسلامی مزاج و منہاج پرنظام حکومت چلانے والا ایک نہایت مخلص،اور نرم دل بادشاہ گزرا ہے، رواداری اور ایثار وہمدردی کے جذبات کا عالم دیکھئے کہ اس نے اپنے سب سے بڑے دشمن ’’پرتھوی راج ‘‘ کے دونوں بیٹوں کی دل کھول کر شاہانہ انداز میں نگرانی وسرپرستی کی ، ڈاکٹر تارا چندلکھتے ہیں:’’ محمود اور محمد غوری مذہبی تعصب سے بالکل پاک تھے ، اگر چہ انہوں نے ملاحدین کو سزائیں دیں، ؛لیکن کسی کو تبدیلی مذہب پر مجبور نہیں کیا‘‘۔(اسلام اور غیر مسلم : ۱۸۸)
تغلق خاندان سے تعلق رکھنے والا مسلم بادشاہ،محمد شاہ تغلق علم دوست اور عدل وانصاف میں ضرب المثل تھا، اپنے مذہب کی پیروی میں سخت تھا، شریعت محمدیہ میں مداخلت اور مذہب اسلام کے معاملے میں کسی بھی مفاہمت کا روادار نہ تھا، مگردیگر مداہب و ادیان کے حوالے سے متعصب بھی نہیں تھا، بقول ایشوری پرساد’’ اس کے تعلقات ہندؤں کے ساتھ بہت اچھے تھے‘‘۔
 ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اورسیاسی مفادات کی روٹی سینکنے کے لیے ، چند متعصب اور خام ذہن کے حامل ہندؤں نے ان کی طرف نامناسب اور غیر حقیقی واقعات کا انتساب کیا ہے۔ ہندؤں سے مذہبی آزادی سلب کرنے، مندروں کا انہدام ،  مذہبی میلوں میں آمدورفت پرعام رعایا کی پابندی اور پوجاپاٹ میں اڑچنیں ڈالنے کے نام نہاد واقعات یہ سب کچھ ان کے پس منظر اور پیش منظر میں غور نہ کرنے کا فطری نتیجہ ہیں، چوں کہ بعض مندر اور مذہبی میلے اخلاقی بگاڑ ، فتنوں اور فحاشی وعریانیت کا اڈہ اور ذریعہ بن گئے تھے ؛ اس لیے اخلاقی تقاضوں کے پیش نظر اُن پر پابندی مملکت کے نظم ونسق کے تئیں بالکل موزوں اور مناسب تھا؛ چنانچہ ایک اسکالر’’ایشورٹوپا‘‘ لکھتا ہے:’’فیروز شاہ نے اسلامی قانون کے تحت اور دوسری طرف پبلک کی بھلائی کے پیش نظر ان مندروں کو توڑا‘‘۔ (ہندی مسلمان حکمرانوں کے سیاسی اصول: ۸۹)
سلاطین مغلیہ کے جدا مجد ظہیر الدین بابرکو دوسرے مسلم حکمرانوں کے بالمقابل کچھ زیادہ ہی ملعون و مطعون ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے اور تاریخ کے آئینے میں ان کے روشن چہرے کو اتنا دھندلا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ مسلمانوں کی سفاکانہ اور قاتلانہ ذہنیت کی تعبیر کے لیے موجودہ عہد میں ہندی مسلمانوں کو بابر کی اولاد کا طعنہ دینے کا رجحان عام کیا جارہا ہے۔ حالاں کہ ظہیر الدین بابر روادار تھا، فراخ دل تھا، غیر مسلموں کا خیر خواہ تھا،عدل گستر اور عایا پرور تھا، اگر اس کی سرشت میں یہ عناصر داخل نہ ہوتے، تو وہ کیوں اپنے بیٹے ہمایوں کو ہندؤوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر سگالی کی تلقین کرتا۔بابرنے بستر مرگ پر ہمایوں کو جن ہمدردانہ کلمات کے ساتھ وصیت کرکے اپنی رعایا سے حددرجہ قلبی لگاؤ کا اظہار کیا تھا ، وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔اور فرقہ پرست عناصر کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے،ہندؤں کے جذبات واحساسات کا خیال رکھنے کے متعلق انہوں نے ہمایوں سے کہا تھا: ’’ مذہبی تعصبات سے اپنے دماغ کو متأثر نہ ہونے دینا، ہر قوم ومذہب کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے ایک غیر جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا ، تم کبھی بھی کسی قوم کے عبادت خانہ کو منہدم نہ کرنا‘‘۔
جس بابر کو آج ایودھیا میں رام مندر کے انہدام کا قصور وار ٹھرایا جارہا ہے اور اس کی جگہ تعمیر شدہ مسجد کو مسمار کرکے پورے ملک میں فرقہ واریت کا ننگا ناچ ہوا اور ہنوز یہ سلسلہ مختلف حیلوں حوالوں سے جاری ہے، اسی بابر نے ایک اچھوت مہترانی کے معصوم بچے کو بد مست ہاتھی کی زد سے بچاکر اپنے سینے سے چمٹا لیا تھا، جس کی چیخ و پکار اور آہ وبکاء کو جائے وارادت کے قریب ہی موجود ایک اعلی ذات کے راجپوت نے سننے اور اس کی مدد کو پہنچنے سے صرف اس لیے انکار کردیا تھا کہ وہ ایک نیچی دات کے بچے کو ہاتھ لگاکر اپنی شان و شوکت اور اپنی نام نہاد مدہبیت کو بھرشٹ کرنا نہیں چاہتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ بابر ایک سچا رحم دل اور رعایا کا بہی خواہ اورانسان دوست حکمراں تھا۔مجھ جیسے نو عمر اور ناتجربہ کار کو تو اس بات پر کبھی یقین نہ آیا کہ ایسا نیک دل انسان کیسے کسی مذہب کی عبادت گاہ کو مسمار کرسکتا ہے۔اگر چہ تاریخی حقائق نے ان تمام الزامات کے غبارے کی ہوا نکال کر رکھ دی ہے، مگر جن لوگوں نے بھی بابر پر مندر شکنی کایہ الزام رکھا ہوگا، کیا اس نے کبھی تنہائی میں بابر کی غیر متعصب زندگی کے خدو خال کا مطالعہ نہیں کیا۔
شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے پوتے اورعظیم مسلم بادشاہ جہاں گیر پر بھی لعن طعن کرنے اور اس کو متعصب ٹھہرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالاں کہ جہاں گیرظلم واستحصال اور جبر وتشدد سے سخت نفرت کرتاتھا، غیر مسلم رعایا کے جائز مطالبات کے پورا کرنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کو اپنا اولین فریضہ تصور کرتاتھا،ان کے عہد حکومت میں بڑے بڑے مندر تعمیر ہوئے،متھرا میں واقع ’’گوبند دیوی‘‘ کا مندر بھی انہی کی کرم فرمائی اور نواز شوں کارہین منت ہے،  جہاں گیرمیں مذہبی اور سماجی تعصب نام کو بھی نہ تھا، وہ تو اتنا وسیع الظرف تھا کہ غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں میںبھی خندہ دلی اور پوری شاہانہ آن بان اور لاؤ لشکر کے ساتھ شرکت کرتا تھا۔
جہاں گیر کے لخت جگرشاہ جہاں کی رواداری اور رعایا پروری سے کون واقف نہیں۔ اس کے عہد حکومت میں مختلف علاقوں سے لوگ آئے ،جن کی زبان بھی مختلف تھی اور طرز بودو باش بھی۔ مختلف تہوار منانے والے ، مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف تہذیب وتمدن کو اپنا نے والے ہندوؤں کی اس وقت ہندستان میںکثرت تھی؛ مگردین الہی کے موجد اکبر کے پوتے شاہ جہاں نے ایک رواداراور جمہوریت پسند حکمراں کی نفسیات کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے غیر مسلم رعایا کے مذہبی جذبات واحساسات اورافکار ونظریات کا پورا پاس ولحاظ رکھا، انہیںمکمل مذہبی آزادی دی؛ ہندستان کے نامورمصنف حفیظ اللہ نے بجا طور پر کہا ہے کہ:’’شاہ جہاں اپنی رعایا کے ساتھ کسی مذہبی امتیاز کے بغیر یکساں سلوک کرتاتھا اور نہایت فراخ دلی کے ساتھ بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر ہندؤں کو مامور کرتا تھا‘‘۔ (اسلام اور غیر مسلم :۲۰۱)
مسلسل پچاس سالوں تک ہندوستان پر حکومت کرنے والے قابل فخر مسلم بادشاہ اور نگ زیب عالم گیر پر تو خاص طور سے فرقہ پرستوں کی نظر عنایت مرکوز رہی ہے۔ شروع سے ہی ہمارے نام نہاد تاریخ نگاروں نے ان کے طرز حکومت کا مشروط دہن کے ساتھ محاسبہ اور محاکمہ کیاہے۔ اور اس طرح ان کے اوپر بھی نفرت وتعصب کا لبادہ ڈال دیا گیا ہے، عموماً یہ بات مشہور کردی گئی ہے کہ اس نے لاکھوں ہندؤں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا، لاکھوں غیر مسلموں کو تہ تیغ کیا، کئی مندروں کو توڑا،انہیں سیاسی ، معاشی اور اقتصادی سطح پر لاچار وکمزور کیا، لیکن سچی اور حقیقی تصویر کچھ اور ہے۔ تاریخی اور اق اس بات پر شاہد عدل ہیں کہ وہ بڑے ہی انصاف پسند اور رعایا پر ور تھے۔ ان کی عالم گیر اور قابل رشک رواداری سے متأثر ہوکر ایک ہندو مؤرخ لکھتاہے: ’’کاشی پر یاگ اور دوسری عبادت گاہوں کے لیے اس نے جو جاگیر یں وقف کی ہیں اور ہندو پیشواؤں کے ساتھ جو رعاتیں کی ہیں، ان سے اس کی انصاف پسندی ثابت ہوتی ہے۔(تاریخ ہند:۶۵۸)
اورنگ زیب اپنے مذہب اور اسلامی مسلمات سے انحراف اور روگردانی کو برداشت نہیں کرتے تھے ، مگریہ حقیقت بھی بجا ہے کہ انہوں نے اسلام کی اشاعت کے لیے کوئی سرکاری یانیم سرکاری تنظیم نہیں قائم کررکھی تھی، جس سے اسلام کی توسیع وتبلیغ کا کام لیا جاتا رہا ہو، چنانچہ پروفیسر آرنلڈ نے لکھا ہے:’’ اس نے کبھی کسی غیر مسلم کو بالجبر مسلما ن نہیں بنایا ؛بلکہ اس نے غیر مسلموں کی دلداری کی انتہائی کوشش ہے‘‘۔(پریچنگ آف اسلام:۱۰)
 اورنگ زیب کے عہد حکومت میں مندریں پوری طرح تحفظ کے زیر سایہ تھیں، ان میں دستبردسے کام نہیں لیا جاتاتھا۔ اور اگرہندؤوں کی کسی عبادت گاہ کو مسمار کیا گیا ہے تو وہ بالٹیکل مصالح کی بنیاد پر تھا؛ وہ عبادت گاہ نہیں رہ گئی تھی، بلکہ بوالہوسوں کی عیاشی اور لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کا اڈہ بن گئی تھی۔کاشی کے جس مندر کے انہدام کا الزام اورنگ زیب کے سر رکھا جاتا ہے، وہ مندر ملک مخالف سازشوں اور بد کاریوں کا اڈہ بن گیا تھا۔چنانچہ ایک انگریزسیاح ہملٹن نے اورنگ زیب کے عہد حکومت کا جائزہ لیتے ہوئے لکھاہے:’’ ریاست کا مسلمہ مذہب اسلام ہے۔ ہندؤں کے ساتھ مذہبی رواداری پورے طورپر برتی جاتی ہے۔ وہ اپنے برت رکھتے ہیں اور اسی طرح تہوار مناتے ہیں جیسے اگلے زمانے میں مناتے تھے‘‘۔(اسلام اور غیر مسلم:۲۲۴)
اگر اورنگ زیب عالم گیر مندر شکن اور ہندو دشمن ہوتا تو وہ کیوں بنارس کے حاکم ابو الحسن کے نام فرمان جاری کرکے یہ کہتا کہ’’ہماری پاک شریعت اور سچے مدہب کی رو سے یہ ناجائز ہے کہ غیر مدہب کے قدیم مندروں کو گرایا جائے۔۔۔۔۔ یہ حکم دیاجاتا ہے کہ آٹندہ سے کوئی شخص ہندؤوں اور برہمنوں کو کسی وجہ سے بھی تنگ نہ کرے اور نہ ان پر کسی قسم کا ظلم کرے۔‘‘
اورنگ زیب کے دور حکومت میں غیر مسلموں کو بڑے اعزاز ات ومناصب بھی دیے گئے، گورنر، جنرل ، وائسرائے اور کمانڈر انچیف جیسے قابل قدر عہدے ان کے سپرد کئے گئے۔ اچاریہ پر فلاچندرائے کے مطابق ’’شہنشاہ اورنگ زیب کے عہد میں سلطنت کے اندربڑی بڑی ذمہ داری کے عہد ے ان کو ملے ہوئے تھے‘‘۔ ان کے علاوہ دیگر تمام مغل بادشاہوں نے بھی ہندؤں کے ساتھ روادارانہ اور برادرانہ سلوک کیاہے۔ اور انہیں برابر کا شہری سمجھتے ہوئے ہر طرح کے جائز حقوق سے نوازا ہے؛غیر مغل مسلم بادشاہ شیر شاہ سوری بھی بڑا انصاف پرور اور روادار تھا۔ وہ خود کو ہر مذہب کا حاکم اور سرپرست تصور کرتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ اگر کسی نے بھی میری رعایا کے کسی فرد پر ظلم کیا تو میں اس پر بجلی بن کر گروں گا اور اس کو مٹاکر ہی دم لوں گا۔ شیر شاہ سوری کے فرمان میں یہ درج تھاکہ’’ غیر مسلموں کی عبادت گاہیں بالکل محفوظ رہیں۔ ان عبادت گاہوں کی جو مسلم حاکم حفاظت نہیں کرے گا اسے معزول کردیا جائے ‘‘۔( ٹی لیون:۷۳)
عہد وسطی میں مسلم حکمرانوں کی رواداری ، رعایا نوازی اور خیر سگالی کی یہ ایک جھلک ہے۔ اس کا تفصیلی مطالعہ بہت سے مخفی گوشوں سے پردہ اٹھائے گا۔جس کو الزامات کی دبیز چادر میں ڈھک دیا گیا ہے۔اگر ہم کھلے ذہن کے ساتھ ہندوستان کے عہد وسطیٰ کے نظامہائے حکومت اور اس وقت کے حکام کی روشن زندگیوں کے خدو خال کا مطالعہ کریں تو ہمارے مؤرخین اور سیاست دانوں کو یہ فیصلہ کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی کہ محمود غزنوی سے لے کر بہادر شاہ ظفر تک سارے مسلم حکمراں مسلم اور غیر مسلم دونوں ہی سماج کے حقوق و واجبات کے تئیں مخلص اور روادار تھے۔انھوں نے طبقاتی اور سماجی بنیادوں پر حکومت نہیں کی ہے، بلکہ مساوات اور برابری ان کی حکومت کا نشان تھا۔ہمیں غور کرنے پر ان کے عہد حکومت میںخوش خوئی، خیر سگالی بقائے باہم اور روادری کی ایسی نظیریں ملیں گی جن کی مثال پیش کرنے سے جمہوریت اور سیکولرازم کا دم بھرنے والی یہ مہذب دنیا قاصر ہوگی۔
اگر اس زوال آمادہ عہد میں بھی ان کے اختیار کردہ نظام حکومت کو منزل کا نشان تصور کرلیا جائے اور جمہوریت و سیکولرازم کا دم بھرنے والی یہ دنیا ان کی پالیسیوں کو بنیاد بناکر اپنی سیاسی اور معاشی پالیسی ترتیب دینے لگے تو نہ صرف یہ کہ نفرت و دشمنی اور بغض و عداوت کی افسردہ اور مسموم فضاؤوں میں اخوت و محبت اور مودت وعطوفت کی خوشبو بکھیری جاسکتی ہے، بلکہ معاشی کساد بازاری اور عالمی دہشت گردی کے بھوت سے خوف زدہ اس دنیا کو ہمہ جہت ترقی کی راہ پر بھی ڈالا جاسکتا ہے۔ ماضی کی شان دار روایات سے روشنی لے کر ہی ہم، مستقبل کی راہوں میں آنے والی ظلمتوں کے قافلے سے مقابلہ کرسکتے ہیں اور زندگی کی شب تاریک کو تابناک سحر میں تبدیل کرسکتے ہیں۔جامع مسجد کے بلند وبالا منارے، تاج محل کا حسن اور لال قلعے کی مضبوط سرخ دیواریں یہی کچھ ہمارے وقت کے حکمرانوں سے کہ رہی ہیں۔ کاش کوئی ان کی آواز پر کان دھرتا، تاکہ جنت نشاں ہندستان کے سر سے فرقہ پرستی اور نفرت و عداوت کے ناپاک اور منحوس سایے کا خاتمہ ہوتا اور کیا رام اور کیا رحیم، سبھی بھائی بھائی کی طرح رہتے۔اور ملک ومعاشرے کی تعمیر و ترقی میں باہمی تعاون اور خیر سگالانہ جذبات کا مظاہرہ کرتے۔٭٭٭
ABRAR AHMAD IJRAVI
ROOM NO.21, LOHIT HOSTAL, JNU,
NEW DELHI-110067
MOB:9910509702
Email:abrarahmadijravi@gmail.com

ہمارے حکمرانوں کے اعصاب پر اسرائیل ہے سوار


                                                                  ابرار احمد اجراوی، جے این یو، نئی دہلی
مختلف ممالک و اقوام کے مابین تعلقات اور قربت کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ بقائے باہم کے اصول کی پیروی کرکے اور خوش گواربرادارانہ فضامیں ہی کوئی ملک ہمہ جہت ترقی کی لیلائے مقصود کو پاسکتا ہے۔ لیکن اگر دو ممالک کے مابین یہ تعلقات دوسرے فریق ملک کے ساتھ سیاسی رقابت اور اس ملک کے مخصوص طبقے کے ساتھ مذہبی یا ثقافتی بغض و عناد کی بنیاد پراستوار ہوں ، تو کسی بھی طرح اس کی حمایت یا ستائش نہیں کی جاسکتی، بلکہ دو حلیف ممالک کے درمیان اس قسم کی رقابت آمیز سیاسی دوستی کو چینج اور چیلنج کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ کسی ملک کے لیے دوسرے ملک کے داخلی امور میں مداخلت اس ملک کے حق خود ارادیت اور اس کی خود مختاری کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے جس سے اقوام متحدہ کے منشور میں بھی سختی سے منع کیا گیا ہے۔چین کا ہندستانی سر زمین پر در اندازی کا موجودہ عمل، یا سرحد پار سے ہندستانی افواج کے خلاف پاکستان کی غیر منصفانہ جنگی کارروائی دونوں غیر ملکی مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں۔
کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کبھی راست طور پر ہوتی ہے اور کبھی بالواسطہ۔ جن ممالک کی سرحدیں با ہم ملی ہوئی ہیں، وہاں تو راست مداخلت کی مثالیں ہر وقت سامنے آتی رہتی ہیں، مگر جن ممالک کی سرحدوں کا کوئی نقطۂ اتصال نہیں ہوتا، ایسی صورت میں کسی ملک کے مقننہ اور انتظامیہ میں مداخلت اور اپنے اثر و رسوخ کو راہ دینے کی دوسری شکلیں ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اسرائیل کی سرحدیں ہم سے نہیں ملتیں ، اس لیے اس کی طرف سے ہندستان کے ساتھ کوئی سرحدی مداخلت، سیاسی تنازع اور کسی قدر طاقت کے توازن کی وجہ سے فوج کشی کا امکان تو نا پید ہے، لیکن ہندستانی پالیسی اور یہاں کی انتظامیہ پر اثر انداز ہونے کے لیے اتنی دوری تو کیا، سات سمندر پار کی دوری بھی عبور کی جاسکتی ہے۔ اسرائیل کبھی خفیہ تو کبھی علانیہ ہندستانی معاملات میں دخل درمعقولات کے عالمی جرم کا ارتکاب کرتا رہا ہے اور ہم ہیں کہ اس ذلت کے ٹوکرے کو بخوشی اپنے سر پر اٹھاتے پھرتے رہے ہیں، ہندستان نے عالمی ایٹمی ایجنسی میں ایران جیسے دیرینہ دوست اور تہذیبی وثقافتی اعتبار سے کافی حد تک قریب ملک کے خلاف ووٹ دیا، اس نے، اقتصادی اعتبار سے ایران کی کمر توڑنے کے لیے دوسری عالمی طاقتوں کے دباؤ میں آکر ، ایرانی گیس ڈیل پر مبنی امور کو مسترد کردیا، فلسطینیوں کے حوالے سے،ہندستان نے ہمت مردانہ اور جرأت رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کبھی بھی اپنے دوستانہ موقف کا اظہار نہیں کیا،تو یہ سب کچھ اس لیے کہ ہمارے ملک کے حکمرانوں کے اعصاب پر اسرائیل نام کا بھوت اس طرح سوار ہے کہ ہم اپنے دوستوں اور پڑوسیوں کے تعلق سے بھی کوئی حتمی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔  اگر ذرائع پر یقین کریں تو ملک کی اکثریت کی مخالفت کے باوجود جمہوریت کے مندر ہندستانی پارلیمنٹ میںامریکہ کے ساتھ جو نیو کلیائی معاہدہ ہواتھا، اس سے بھی اسرائیلی مداخلت کی بو آتی ہے۔اسرائیلی وزرائے اعظم نے ہندستان کو دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت کے لیے بھی آلۂ کار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ خود اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم بن کوریان نے عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیرس میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:’’بھارت پاکستان کا ہمسایہ ہے جس کی ہندو آبادی پاکستان کے مسلمانوں کی ازلی دشمن ہے ۔۔۔بھارت کے ہندو کی اس مسلم دشمنی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں بھارت کو استعمال کرکے پاکستان کے خلاف کام کرنا چاہیے۔‘‘(بحوالہ جیوش کرانیکل ۱۹؍ اگست ۱۹۶۷ء)
آحر ہمارے حکمراں کیوں اسرائیل کی اس قدر ناز برداری اور اس کی جی حضوری پر مجبور ہیں؟ اور وہ کیوں اسرائیل کی دوستی میں اپنے اندرونی معاملات میں بھی کوئی فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس حقیقت سے کما حقہ واقفیت حاصل کرنے کے لیے ہمیں ہند-اسرائیل تعلقات کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ ہندستان کے اسرئیل کے ساتھ سرسری تعلقات کو قریبی رشتوں میں بدلنے میں راجیو گاندھی کا کلیدی رول رہا ہے۔ ان کے عہد حکومت میں اسرائیل اور ہندستان کے ما بین تعلقات کا جو بیج ڈالا گیا تھا، اس کو قومی جمہوری محاذ(این ڈی اے) کے زمانے میں اتنی غذا پہنچائی گئی کہ وہ بہت جلد ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرگیا ۔ بی جے پی کے کئی کابینی وزرا اور سرکردہ رہ نماؤوں نے اسرائیل کے تابڑتوڑ دورے کیے اور تعلقات کے محل کو مضبوط کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا گیا۔ اس کے بعدکانگریس کی قیادت میں یوپی اے سرکار نے بھی ان تعلقات کی آبرو بچائے رکھی ہے ۔ اس وقت بھی کانگریس کی اعلی قیادت میں بہت سے اسرائیل نواز رہنماموجود ہیں۔ ان کی اسرائیل نوازی میں غلو کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ایٹمی ایجنسی میں ہمارے وزیر اعظم نے ایران کے خلاف ووٹ دیا ، جس پر ہندستان کے بیش ترحقیقت پسند حلقوں نے ناراضگی ظاہر کی تھی، تو اس پر تبصرہ کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے موجودہ وزیر مملکت راجیو شکلا نے اسرائیل نواز اور عالم اسلام مخالف بیان ٹائمز آف انڈیا میں دیا تھا، جس میں انھوں نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا تھا کہ ہندستان کو ایران یا عالم اسلام سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ آغاز جنوری۲۰۱۲ء میں کانگریسی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اپنے پہلے اسرائیلی دورے پر گئے تھے، (۲۰۰۰ء میں بی جے پی کے اس وقت کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ کے بعد کسی ہندستانی وزیر خارجہ کااپنی نوعیت کا یہ پہلا دورہ بھی تھا)وہاں انھوں نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے ۱۰؍بلین ڈالر تک پہنچا دیا تھا۔ جس پر ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اسرائیل اور ہندستان کے درمیان روز افزوں تعلقات اور نزدیکی پر اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا تھا اور اس کو ہندستان جیسے کثیر قومی ملک کے لیے نیک شگون سے تعبیر نہیں کیا تھا۔ اس دورے کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ جہاں دفاع، داخلی سلامتی اور سیاسی شراکت کے کئی اہم معاملات پر مبنی معاہدوں پر دست خط ہوئے، وہیں اسرائیل نے ایک اور کامیابی یہ حاصل کی کہ ہندستان کے آئی ٹی ہب مشہور صنعتی شہر بنگلور میں اسرائیلی سفارت خانہ قائم کرنے کی اجازت بھی حاصل کرلی۔ اس دورے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے کتنے قریب آگئے اوراندرونی و ملکی سیکورٹی کے معاملات میں شراکت پر کتنے دور رس اور نتیجہ خیز معاہدے ہوئے کہ اسرائیل کے پروجیکٹ انڈیا پروگرام کے ڈائریکٹر مارک سلومان نے خبر ساؤتھ ایشیا کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے یہ کہا:’’دونوں ممالک کو انتہا پسند عناصر سے مستقل خطرہ درپیش ہے اور جب دونوں ممالک کے مابین تعلقات کا آغاز ہوا تھا تو دفاع اور ملکی سلامتی کے معاملات ان کے تعلقات کی اہم بنیاد ثابت ہوئے تھے۔‘‘
اگر مارک سلومان کی باتوں پر یقین کرلیا جائے اور یقین نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ بھی نہیں، تو یہ بہت دور رس اثرات کا حامل بیان ہے۔ ملکی سلامتی کے معاملات میں کسی ملک کے ساتھ شراکت کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس شریک کارملک کو اپنے ملک میں مداخلت اور دخل در معقولات کی کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ یوں بھی اسرائیل اور یہودیوں کی سرشت اور ان کے طرز حکومت سے ہر باشعور شخص واقف ہے کہ یہ قوم اتنی مکار ،دسیسہ کار، فریبی اور مطلب پرست ہے کہ دوسرے اقوام و ممالک کو باہم دست و گریباں کرکے اپنے مفادات کی روٹی سینکنا چاہتی ہے۔یہ لوگ تاجر،صنعت کار، دانش ور اور سائنس داں کے روپ میں بھی ہر جگہ پہنچ کر اپنے منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ نازیوں نے جرمنی میں یہودیوں کو بلا وجہ تہ تیغ نہیں کیا تھا۔اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد کا تو مفوضہ کام ہی یہ ہے کہ وہ دوسرے ممالک کی خفیہ انجنسیوں سے اتحاد کرکے اپنے مخالفین کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ کثرت میں وحدت کے تصور پر یقین رکھنے والے ہندستان میں بھی اسرائیل نام کی نا آشنائے انسانیت نا جائزریاست کے مخالفین کی کمی نہیں ہے۔ کیا معلوم کہ اسرائیل اپنی مختلف رفاہی تنظیموں کے توسط سے وطن عزیز ہندستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے عمل کو بروئے کار لانے میںمصروف عمل ہو۔ اور اس کا انکشاف بھی کئی بار ہوچکا ہے۔ لکھنؤ کے مشہور شیعہ عالم دین مولانا سید کلب جواد نے بھی اپنے جمعہ کے خطبے میں اس امر کا انکشاف کیا تھا کہ لکھنئو میں فری میسن(Free Mason) نام کی ایک یہودی سوسائٹی کام کر رہی ہے،جس کے ارکان اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔
اسرائیل نے ڈھکے چھپے طور پر ، اپنے کارندے اور مخصوص ذہنیت کے حامل افراد کی آڑ میں،ہماری انتظامیہ میں بھی اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔ ہندستان میں کئی دہشت گردانہ حملوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں اسرائیل کا چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے ۔گجرات کے بد نازمانہ مسلم کش فساد  میں بھی اسرائیل سے اسپانسر شدہ طریقوں سے کام لینے کا کئی بار انکشاف کیا جاچکا ہے ۔ یہودی دہشت گردانہ حملہ کراکے ایک مخصوص فرقے کے خلاف دشمنی اور نفرت کی آگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ریاست راجستھان میں گزشتہ مہینوں میں جتنے فسادات ہوئے ، ان میں بھی اسرائیل کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے۔ ۳۰؍ اپریل ۲۰۱۳ء کو قومی تنظیم میں شائع ایک خبر کے مطابق حال ہی میں سانگیرمیں بھڑکنے والے والے فسادات میں ایک مسلمان کی فیکٹری کو نذر آتش کرنے کے لیے جس مادہ کااستعمال کیا گیا تھا، وہ عام طور پر اسرائیل استعمال کرتا ہے۔خبر کے مطابق جب بھی اسرائیل کا کوئی وفد یہاں آیا ہے، یا ہندستان کا کوئی اعلی سطحی وفد اسرائیل کا دورہ کرکے لوٹا ہے، بڑے پیمانے پر فسادات رونما ہوئے ہیں۔ چناں چہ جنوری ۲۰۱۲ء میں اسرائیل سے ایک وفد کے لوٹنے کے بعد صرف ۱۲؍ ماہ کے اندر ۳۰؍ فسادات ہوئے۔ ۸؍ مارچ ۲۰۱۲ء کو اسرائیلی سفیر کے جے پور آنے کے فورا بعد صرف ۱۳؍ دنوں میں سات فسادات ہوئے۔ دوسرے ممالک میں فسادات کی آگ بھڑکانا یہود بے بہبود کا پرانا آزمائشی طریقہ ہے۔ جس کا اعتراف خود یہودیوں نے اس ۲۴؍نکاتی تجویز میں کیا ہے، جو ۱۸۹۶ء میں سوئزر لینڈ کے شہر بال میں خفیہ طریقے سے منظور کی گئی تھی،ساتویں تجویز میں یہ درج ہے:’’ہمیں پولس کے ذریعے یورپ میں اور یورپ کی وساطت سے دوسرے بر اعظموں میں بھی فسادات، انتشار اور جنگ و جدل کی آگ بھڑکانی ہے، اس سے ہمیں دوہرا فائدہ ہوگا۔‘‘(وثائق یہودیت، ص:۱۳۱، مترجم یحیی خان) یہودیوں کو اپنی اس خوئے بد پر کوئی شرمندگی بھی نہیں ہے، چناں چہ تجویز ۹؍ میں یہ اعتراف کرتے ہیں:’’ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آج ہر طرف جو دہشت گردی اور بربریت پھیلی ہوئی ہے اس کا سر چشمہ ہم ہی ہیں۔‘‘(ایضا، ص:۱۳۶)سال بھر پہلے اسرائیلی سفارت کار کی گاڑی پر حملے میں ہندستانی صحافی احمد کاظمی کی گرفتاری کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے کہ ایک مخصوص ذہنیت کے حامل افراد کے اشارے پر انھیں دہشت گردی کے الزام میں حراست میں رکھا گیا۔ حالاں کہ واقعات و شواہد اس طرف اشارہ کر رہے تھے کہ اس حملے میں جو مادہ (اسٹیکر بم) استعمال کیا گیا تھا، وہ برطانیہ کا ایجاد کردہ ہے اور اس کا استعمال اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد، حزب اللہ کے رہ نماؤوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے کرتی ہے۔کیا یہ گرفتاری ہندستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مرادف نہیں؟ یہ سب کچھ اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد کی نگرانی میں ہورہا ہے، جس کے کارندے ہندستان کے گوشے گوشے میں موجود ہیں اور دہشت گردی کے خلاف ہندستانی سیکورٹی کو تربیت دے رہے ہیں۔ (اسلام ٹائمز، انٹرویو، اصغر انصاری)
ہمیں اپنے ملک کی سالمیت و اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے حوالے سے اسرائیل کے خفیہ عزائم کی تہ میں جاکرمستحلم لائحہ عمل طے کرنا ہوگا، اگر پڑوسی ملک پاکستان افضل گرو کی پھانسی کے معاملے پر پارلیمنٹ میں مذمتی قررا داد پاس کردے تو ہم اس پر چراغ پا ہوجاتے ہیں، لیکن ہم اسرائیل کی اپنے حساس اندرونی معاملات میں مداخلت اور ملک کے گوشۂ و کنار میں اس کی دندناہٹ کو شہد کے گھونٹ کی طرح حلق سے نیچے اتار لیتے ہیں۔ہمارے ملک میں اسرائیلی مداخلت کی بنیادی وجہ ہماری غلامانہ دہنیت ہے۔ ہم آزادی کے ۶۷؍ سال بعد بھی عالمی طاقتوں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے اندرونی معاملات کے کامیاب تصفیے میں بھی دوسری طاقتوں کی طرف دست احتیاج دراز کرنے میں کوئی شرم وعار محسوس نہیں کرتے۔ ہماری قوت فکر و عمل فنا ہوچکی ہے، اسی لیے عالمی سطح پر ہمارا کوئی سیاسی وزن نہیں رہ گیا ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے باہمی اختلاف،سیاسی پارٹیوں کی رسہ کشی، طبقاتی کش مکش اور رنگ و نسل کی بنیاد پر بنائی گئی خلیجوں کی دین ہے، ہم خودی اور عزت نفس کے جوہر سے محروم ہوگئے ہیں۔ اگر ہماری خودی بیدار ہوجائے تو اسرائیل تو کجا، عالمی طاقتوں کو بھی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ہماری زمین پر شر انگیزی کا یارا نہ ہو۔ ہمیں مارٹن لوتھر کے ان الفاظ کی صداقت پر ایمان لانا چاہیے، جو انھوں نے آج سے ۵۰۰؍ سال قبل یہودیوں کی سرشت سے مجبور ہوکر کہے تھے اور جو یورپ میں صدیوں گونجتے رہے تھے کہ:’’میں ہر خدا ترس عیسائی سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ انھیں(یہودیوں کو) ہانک کر اپنے وطن سے باہر نکال دے تاکہ ہماری ارض مقدس ان کے وجود سے پاک ہوجائے۔‘‘
ABRAR AHMAD
ROOM NO. 21, LOHIT HOSTEL
JNU NEW DELHI 110067
MOB:9910509702

presenting my paper in a seminar held at New Delhi